آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سینیٹ اجلاس، مشاہد اللہ اور عتیق شیخ میں تلخ کلامی


سینیٹ اجلاس میں ایم کیو ایم رہنما میاں عتیق شیخ اور نون لیگ کے مشاہداللہ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، ایک دوسرے کو دھمکیاں دیں، غیر پارلیمانی جملوں کا استعمال کیا، اسپیکر نے غیر پارلیمانی الفاظ حذف کروا دیئے۔

چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں وقفہ سوالات کے دوران مشاہد اللہ کے سوال پر عتیق شیخ نے شور شرابا کیا اور کہا کہ یہ لوگوں کی عزت خراب کرتے ہیں، میں انہیں بچپن سے جانتا ہوں ، انہیں ایوان سے باہر نکالیں ۔

مشاہد اللہ نے عتیق شیخ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں 20سال رہا ہوں، انکی پارٹی مجھے قتل کی 2بار کوشش کرچکی ہے، یہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ بانی ایم کیو ایم کا راج ہے، میں نے پرسوں بھی انہیں کچھ نہیں کہا تھا انہوں نے اپنے اوپر لے لیا۔

سینیٹر عتیق شیخ نے کہا کہ مشاہداللہ نے مجھے گالیاں دی ہیں، جس پر مشاہد اللہ نے کہا میں تمہیں بتاؤں گا گالیاں کیا ہوتی ہیں، جاؤ میرے خلاف جا کر ایف آئی آر درج کرا دو۔

اس موقع پر لیگی سینیٹر راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا ہاؤس رولز کے مطابق نہیں چل رہا، جبکہ بابر اعوان نے کہا کہ سینیٹ میں اس ماحول میں بات نہیں ہوسکتی، کسی کی طرف داری نہیں کر رہا لیکن ماحول ساز گار ہونا چاہیے۔

بابر اعوان کا مزید کہنا تھا کہ جب ضمنی سوال کیا جائے تو اس سوال تک ہی رہا جائے۔

ایم کیو ایم کے سینیٹر بیرسٹر سیف نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی حملے ضرور کریں ، لیکن ذاتی حملے نہیں ہونے چاہیے، گالم گلوچ سے اس ایوان کی بے عزتی ہوئی ہے۔

قومی خبریں سے مزید