آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پچھلے دنوں رات کے ڈھائی تین بجے لاہور گوجرانوالہ کے درمیان موٹروے پر ایک خاتون کے ساتھ المناک واقعہ پیش آیا تھا۔ 

ساٹھ ستر ٹیلی وژن چینلز سے آج تک اس شرمناک واقعہ کی گونج سنائی دے رہی ہے، آسماں کو لرزا خیز کرنے والا شور و غل سن کر فقیر نے محسوس کیا کہ پاکستان کی تہتر سالہ تاریخ میں اس سے زیادہ بھیانک واقعہ پہلے کبھی پیش نہیں آیا تھا۔ 

وہ کوئی اور ملک تھا جہاں جرگہ کے فیصلہ کے بعد ایک عورت کو چھ سات آدمیوں کے ہاتھوں درندگی کا شکار بنایا گیا تھا۔ 

وہ کوئی اور ملک تھا جہاں پر شوہر اور بچوں کو رسیوں سے باندھ کر ان کے سامنے ایک عورت کی عزت کو پامال کیا گیا تھا۔ وہ کوئی اور ملک تھا جہاں پر بےبس دیہاتی عورتوں کو برہنہ کرکے گلیوں میں گھسیٹا گیا تھا۔ 

وہ کوئی اور ملک تھا جہاں دو بھائیوں نے اپنی بہن کی آنکھوں میں تیزاب ڈال دیا تھا۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے، بھرے بازار میں غنڈوں نے تماشائیوں کے سامنے دو نوجوان لڑکوں کو ڈنڈوں، لوہے کی راڈوں اور ہاکیوں سے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا تھا۔ مار ڈالنے کے بعد ان کو بجلی کے کھمبوں پر لٹکا دیا تھا۔ یہ بھیانک واردات ہمارے ہاں نہیں، بلکہ کسی اور ملک میں ہوئی تھی۔ 

اس نوعیت کی انسانیت سے گری ہوئی وارداتیں ہمارے ہاں نہیں ہوتیں۔ ہمارے ہاں اللہ سائیں کے فضل و کرم سے سب ٹھیک ٹھاک ہے۔ اس لئے میری بچیو، میری بہنو، میری بیٹیو بڑے پولیس والے کی کہی ہوئی بات پر دھیان مت دھریں۔ اس کی بات کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ 

آپ جب چاہیں گھومیں، پھریں، دن ہو یا رات جب چاہیں گاڑی میں بیٹھیں اور نکل پڑیں سیر سپاٹے کو۔ یہ دشمنوں نے اڑائی تھی کہ پچھلے ہفتے ایک سائیکل چلاتی ہوئی لڑکی کو کسی بدمعاش نے چھیڑا تھا، قطعی غلط بات ہے۔ میری بیٹیو، میری بہنو سنی سنائی باتیں سن کر آپ پریشان مت ہوں۔ آپ آدھی رات کے وقت سنسان راستوں پر نکل پڑیں۔ 

کیا مجال ہے کسی کی کہ آپ کا بال بھی بیکا کر سکے۔ یہ دشمن کی چال ہے ہمیں بدنام کرنے کے کی۔ اقوامِ متحدہ کے ماہروں نے ہمارے ملک کو خاص طور پر خواتین کے لئے دنیا کا سب سے محفوظ ملک قرار دیا ہے۔ اس لئے میری بچیو، آپ خوب گھومیں پھریں۔ درندوں سے مت ڈریں۔ ہمارے یہاں درندے نہیں ہوتے۔

بڑے پولیس والے نے خواہ مخواہ میری بچیوں اور بہنوں کو خوفزدہ کردیا۔ بھرے بازاروں میں میری بچیاں، میری بیٹیاں، میری بہنیں شاپنگ کرتی تھیں۔ ٹھیلے والوں سے چاٹ چھولے اور دہی بڑے لےکر کھاتی ہیں۔ 

مجال ہے کسی نامراد مرد کی کہ وہ میری بچیوں، میری بیٹیوں، میری بہنوں سے بدتمیزی کر سکے۔ مجال ہے کسی مشٹنڈے کی کہ میری بچیوں، میری بیٹیوں، میری بہنوں سے بداخلاقی سے پیش آئے! مجال ہے کسی لفنگے کی کہ وہ میری بچیوں، میری بیٹیوں، میری بہنوں پر فقرے چست کرے ۔ بڑے پولیس والے نے جان بوجھ کر آپ کو ڈرانے کی کوشش کی ہے۔ 

میں اپنی چھٹی حس کا بھر پور استعمال کرتا ہوں۔ میری چھٹی حس نے مجھے بتایا ہے کہ بڑے پولیس والے کی کوئی فیملی نہیں ہے۔ نہ اس کے بال ہیں اور نہ بچے ہیں۔ اس لئے بڑا پولیس والا نہیں جانتا کہ خواہ مخواہ مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کو ڈرانے سے ملک و قوم کی آنے والی نسلیں خوفزدہ اور ڈری ڈری پیدا ہوتی ہیں۔ ایسے غیرذمہ دار پولیس والے کو قرار واقعی سزا ملنی چاہئے۔ 

اسے چھٹی کا دودھ یاد دلانا چاہئے۔ اسے سبق سکھانا چاہئے کہ میری بچیوں، میری بہو، بیٹیوں اور بہنوں کو ڈرانے اور خوف زدہ کرنے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

اب میں آپ سے ایک ایسے ملک کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جہاں پر دودھ کے دھلے مرد اپنی گندی، میلی کچیلی اور گنہگار بہو، بیٹیوں اور بہنوں کو غیرت میں آکر مار ڈالتے ہیں۔ بلکہ ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے کتوں کو کھلا دیتے ہیں۔ غیرت پر مرد کو اجارہ داری حاصل ہوتی ہے۔ 

وہ جب چاہے غیرت میں آکر اپنی بہو، بیٹیوں اور بہنوں کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔ میں اس ملک کا نام بتانا مناسب نہیں سمجھتا۔ ہمارا برادر ملک ہے، بلکہ وہ ملک ہمارا برادر نسبتی ملک ہے۔ اس لئے میں اس ملک کا نام آپ کو بتانا نہیں چاہتا۔ نام چھپانے کے پیچھے وجہ ضرور ہوتی ہے۔ وجہ آپ کی سمجھ میں آجانی چاہئے۔ دو ہفتے ہونے کو آئے ہیں۔ 

کسی گاما پہلوان اینکر یا تجزیہ کار نے موٹر وے پر زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون کا نام بتایا ہے؟ اس کے بچوں کے نام اور عمر بتائی ہے؟ ڈرے ہوئے اور سہمے ہوئے بچوں کو تصویر دکھائی ہے؟ جائے وقوع پر جاکر کسی گاما پہلوان فوٹو گرافر کے کیمرا مین نے موٹروے پر چھوڑی ہوئی گاڑی کی مختلف زاویوں سے تصویریں اور وڈیو کھینچ کر ہمیں دکھائی ہے؟

 میں بڑا ڈرپوک ہوں۔ کسی قسم کا رسک اٹھانا نہیں چاہتا۔ کبھی دال میں کالا ہوتا ہے۔ کبھی کالے میں دال ہوتی ہے مگر آپ نشان دہی نہیں کر سکتے۔ اگر کبھی غلطی سے نشان دہی کر دی تو پھر اس کے بعد آپ، آپ نہیں ہوتے۔ آپ کچھ اور ہو جاتے ہیں۔

پچھلے دنوں ٹارزن ایک ہائی وے سے اپنی گاڑی میں گزرتے ہوئے غائب ہو گیا تھا۔ تفتیش کرنے والوں کو اس کی خالی گاڑی ہائی وے پر کھڑی ہوئی ملی تھی۔ کچھ روز بعد جب وہ ظاہر ہوا تھا، تب وہ اپنی ٹارزنی بھول چکا تھا۔ اس نے خود کو ٹارزن ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ اس نے اپنا نام اللہ رکھا بتایا تھا۔