آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

حکومت، اپوزیشن میں نیب دوسرے ترمیمی قانون 2019 پر معاملات طے پاگئے



حکومت اور اپوزیشن میں نیب دوسرے ترمیمی قانون 2019 پر معاملات طے پا گئے، جس کے تحت سرکاری عہدے کے حامل افراد یعنی سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کے خلاف نیب کے اختیارات میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت نیب سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے مقدمات قائم نہیں کر سکے گا جبکہ ٹیکسوں اور محصولات سے متعلق معاملات بھی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئیں گے۔

ترمیمی قانون کے تحت نیب سیاست دانوں اور سرکاری افسروں سے محصولات سے متعلق معاملات کی تحقیقات نہیں کر سکے گا اور نیب کا دائرہ کار وفاقی و صوبائی ٹیکس، لیویز، محصولات کے معاملات پر نہیں ہوگا۔

مجوزہ قانون کے تحت ٹیکس اور محصولات سے متعلق تمام زیر التواء انکوائریاں اور تفتیش متعلقہ اداروں اور حکام کو منتقل ہو جائیں گی، احتساب عدالتوں سے متعلقہ مقدمات فوجداری عدالتوں کو منتقل ہو جائیں گے۔


نیب دوسرے ترمیمی قانون 2019 میں تجویز کیا گیا ہے کہ کسی حکومتی منصوبے یا اسکیم میں ضابطہ جاتی خامیوں پر سیاست دان یا سرکاری افسر کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی تاہم حکومتی منصوبے یا اسکیم سے مالیاتی فائدہ حاصل کرنے کی صورت میں ان کےخلاف کارروائی کی جاسکے گی اور اگر ان کے اثاثہ جات معلوم آمدنی سے عدم مطابقت رکھتے ہوں اور وہ ان کے بارے میں کوئی ٹھوس وجوہات نہ بتاپائیں تب بھی نیب کارروائی کرے گا۔

مجوزہ قانون کے تحت کسی معاملے میں مشورہ یا رائے دینے یا کسی رپورٹ کی انجام دہی پہ بھی سرکاری عہدیدار کے خلاف اس وقت تک کارروائی نہیں ہوگی جب تک اس کے مالی فائدہ حاصل کرنے اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کی شہادت موجود نہ ہو اور وہ اس بارےمیں معقول وجہ بتانے سے قاصر ہو۔

مجوزہ قانون کے تحت اثاثہ جات کے ذرائع آمدن سے عدم مطابقت پر غیر منقولہ جائیداد کی قیمت کا تعین ضلعی کلیکٹر یا ایف بی آر کے متعین کردہ نرخوں کے مطابق کیا جائے گا، نیک نیتی سے کیے گئے کام پر بھی کسی سرکاری عہدیدار کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔

نیب کے قانون میں یہ ترامیم دسمبر 2019 میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کی گئی تھیں تاہم اپریل 2020 میں آرڈیننس کی 120 دن کی میعاد پوری ہونے پر یہ ترامیم بھی ختم ہو چکی ہیں، اب حکومت نے اپوزیشن کے تعاون سے ان ترامیم کو نیب کے دوسرے ترمیمی قانون 2019 کے تحت پارلیمان سے منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید