آپ آف لائن ہیں
منگل9؍ربیع الاوّل 1442ھ 27؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میڈیکل یونیورسٹی کو متنازع بنانے سےگریز کیا جائے،پشتون ایس ایف

کوئٹہ(پ ر)پشتون ایس ایف کے صوبائی چیئرمین عالمگیر مندوخیل نے ایک بیان میں بولان میڈیکل یونیورسٹی ایکٹ کے حوالے سے موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی میڈیکل یونیورسٹی کو متنازع بنانے سے گریز کیا جائے، پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن صوبے کے بلوچ و پشتون محکوم اقوام کے حقوق کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے، انہوں نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پراجیکٹ جس سے دونوں برادر اقوام کے مشترکہ مفادات منسلک ہوں کو متنازع بنانے سے ماضی میں بھی بہت سے نقصانات اٹھانے پڑے ہیں جس کی واضح مثالیں آج بھی موجود ہیں۔ میڈیکل یونیورسٹی پی ایم سی اور ایچ ای سی کے اصولوں کے مطابق صوبے کیلئے لازم ہے بلکہ یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹرز، نرسنگ، فارمیسی، فزیوتھراپی و دیگر پیرا میڈیکل شعبہ جات کی فعالیت صوبے کو ہیلتھ کے حوالے سے درپیش مسائل کو حل کرنے میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں، لہٰذا بولان میڈیکل یونیورسٹی کا قائم رہنا ہی صرف ایک اصولی قدم ہوگا بلکہ پشتون و بلوچ طالبعلموں کیلئے یکساں قابل رساں ہوگا۔ اس حوالے سے بولان میڈیکل یونیورسٹی اور صوبے کے طلباء کے مستقبل کے فیصلے لینے سے پہلے تمام سٹیک ہولڈرز اور بلوچ و پشتون اقوام کو اعتماد میں لیا جائے، مگر حقائق کے برعکس ایکٹ کے تقاضوں اور اصولوں کو پورا کئے بغیر راتوں رات عجلت

میں ترمیم کے نام پر ایکٹ کو سرے سے رد کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے جو ادارے کا وجود مِٹانے کے مترادف ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ چند بااثر اور کرپٹ عناصر اپنے ذاتی مفادات کی خاطر صوبے کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہے ہیں اور اپنے ان انفرادی مفادات و مقاصد کو حاصل کرنے کی خاطر دو برادر اقوام کو لڑانے کی مذموم اور گھناؤنی سازش کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں حکومت نے ادارے کی ضروریات کو مدنظر رکھے بغیر آٹے میں نمک کے برابر بجٹ مختص کیا جس نے یونیورسٹی کو متنازع بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا اور صورتحال کو مزید کشیدہ کردیا۔ بیان میں کہا گیا کہ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن معاملے کو سنجیدہ حل کرنے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ڈائیلاگ کیلئے تیارہے۔ اس حوالے سے پشتون ایس ایف تمام طلباء تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں سے اپیل کرتی ہے کہ اس مسئلے کے بنیادی محرکات کو سمجھ کر بات چیت کیلئے راہ ہموار اور صوبے کا مستقبل داؤ پر لگائے جانے سے بچایا جائے۔

کوئٹہ سے مزید