آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ربیع الثانی 1442ھ26؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بریڈ فورڈ میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے حوالے سے بریفنگ، پاکستان کے معاشی اعشاریے بہتری کی جانب گامزن، ابرار حسین

بریڈفورڈ(محمد رجاسب مغل)بریڈفورڈ قونصلیٹ کے قونصل جنرل ابرار حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے معاشی اعشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں، مالی سال 2019 کی نسبت مالی سال 2020 میں پاکستان میں کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 78 فیصد کم ہوا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ پاکستان نے درآمدات کو کافی بڑی تعداد میں کم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں بیرون ملک سے بھیجی جانے والی رقوم سے حاصل ہونے والے زر مبادلہ میں بھی قریب دو ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی مالی سال 2020 میں 88 فیصد اضافے کے ساتھ 2.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔اگر پچھلے تین ماہ کا بھی ڈیٹا لیں تو اس میں پاکستان اکاؤنٹ کی رجسٹریشن 800 ملین ڈالر سے زائد سر پلس میں ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے بریڈفورڈ قونصلیٹ میں روشن ڈیجیٹل اکاونٹ کے حوالے سے میڈیا بریفنگ میں کیا، بریفنگ میں ان کے ساتھ ڈپٹی قونصل جنرل شعیب حسین بھی موجود تھے، ان کا مزید کہنا تھا کہ پوری دنیا کی کامیاب معیشت کا دارومدار تعمیراتی شعبے سے منسلک ہے اور تعمیراتی شعبے کے ساتھ چالیس سے زائد مختلف انڈسٹریز منسلک ہوتی ہیں، موجودہ گورنمنٹ نے اس شعبے میں کاروباری طبقے کی حوصلہ افزائی کی، یہی وجہ ہے کہ کنسٹرکشن سیکٹر شعبے کا اہم جزو سیمنٹ کی ٹریڈ میں گزشتہ دو تین ماہ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے،

وقت کے ساتھ مومنٹم میں تیزی آئے گی اور آنے والے وقت میں پاکستان کی معیشت مزید مستحکم نظر آئے گی ۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے گئے زرمبادلہ سے ملک کو فائدہ ہوا، جس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے حکومت پاکستان نے اوورسیز کمیونٹی کو رقم کی ترسیل سہل بنانے کے لیے روشن ڈیجیٹل اکاونٹ جو ڈالر اور روپے کی کرنسی میں ہو گا متعارف کرایا ہے، روشن ڈیجیٹل انیشیٹو کا بنیادی مقصد اوورسیز میں بسنے والے پاکستانیوں کو پاکستان کی معیشت کے ساتھ جوڑنا ہے جو نہ صرف ملک بلکہ اوورسیز کمیونٹی کو محفوظ سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گا، روشن ڈیجیٹل بینکنگ اکاؤنٹ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا دوسرے کمرشل بینکوں کے اشتراک سے اب تک سب سے بڑا اقدام ہے۔جس سے 90 لاکھ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو رقوم کی ترسیل، بلوں کی ادائیگی اور پاکستان میں سرمایہ کاری کی جدید سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل کی سکیم سے پاکستان کی سالانہ غیر ملکی ترسیلات میں پانچ سے سات ارب ڈالرز اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔قونصل جنرل ابرار حسین نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سکیم میں منافع کی شرح کے زیادہ سلیب بنائے گئے ہیں تاکہ زیادہ آمدنی والوں کے علاوہ کم آمدنی رکھنے والے بیرون ملک پاکستانی بھی مستفید ہو سکیں۔اس میں نہ صرف پاکستانی بلکہ فکس ریٹس کو دیکھتے ہوئے انگریز کمیونٹی بھی اس میں دلچسپی لے رہی ہے، انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈر جب چاہے اپنی رقم نکال سکتا ہے اور اس سلسلے میں سٹیٹ بینک یا اس کا اپنا بینک اعتراض نہیں کر سکے گا، اس کے علاوہ حکومت پاکستان نے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے نیا پاکستان سرٹیفیکیٹ کے نام سے انوسٹمنٹ اسکیم متعاف کرائی ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے اس اسکیم میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ اس میں منافع کی شرح پاکستان اور امریکی بینکوں میں سرمایہ کاری سے بھی زیادہ ہے ۔بریڈفورڈ قونصلیٹ میں اس حوالے سے انفارمیشن ڈیسک بنانے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بریڈفورڈ قونصلیٹ پاکستانی کمیونٹی کو ہر طرح سے اپنی خدمات پیش کر رہا ہے میرے لیے فخر کی بات ہے کہ ہر روز سینکڑوں ای میلز کے علاوہ بذریعہ فون بروقت کمیونٹی کو معلومات فراہم کی جاتی ہیں ،کمیونٹی کی سہولت کے لیے ہر تجویز کو ہم خوش آمدید کہتے ہیں ۔ 

یورپ سے سے مزید