آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نواز شریف کا بیانیہ پاکستان اور قائدِاعظم کا بیانیہ ہے، مریم نواز


پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جنوری سے پہلے جانے کی پیشن گوئی کردی اور یہ بھی کہا کہ نواز شریف کا بیانیہ صرف ن لیگ کا نہیں، پاکستان اور قائداعظم کا بیانیہ ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ نوازشریف کے بیانیے کو غلط کہنے والے خود اپنا معائنہ کروائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھ پر یا نواز شریف پر کرپشن کا الزام نہیں ہے۔

لیگی نائب صدر نے کہا کہ میاں صاحب کی ہارٹ سرجری ہوگی اور کوئی خطرہ نہ ہوا تو وہ وطن واپس آجائیں گے، میاں صاحب کا علاج پاکستان میں نہیں ہوسکتا تھا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ میاں صاحب کا بیانیہ واضح ہے، میاں صاحب نے جو سوال کیے ہیں وہ سوال کرنا غداری نہیں، ان کے سوالوں کا جواب دینا ہوگا، میاں صاحب کا شاندار سیاسی کیریئر ہے، اب وہ پاکستان کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف پر مقدمہ درج کروانے والا پی ٹی آئی کا کارکن تھا اور اس کا مجرمانہ ریکارڈ بھی موجود ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم پر غداری کا الزام لگا دیا گیا، کیا سوچ کر یہ کیا گیا، پچھلے کچھ برسوں میں ن لیگ کے ساتھ جو زیادتیاں کی گئیں اس کی مثال نہیں ملتی، اس حکومت میں ن لیگ کے ساتھ جو زیادتیاں ہورہی ہیں ایسی تو مشرف دور میں نہیں ہوئیں۔


رہنما ن لیگ نے کہا کہ ن لیگ میں کوئی تقسیم نہیں، بس اپروچ کا فرق ہے، جبکہ پوری ن لیگ میاں صاحب کے ساتھ کھڑی ہے، شہباز شریف میرے والد کی طرح ہیں، میں انہیں اپنے والد سے الگ نہیں سمجھتی، شہباز شریف کی اپروچ مختلف ہے جو پہلے بھی رہی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ اختلاف کی باتیں کرنے والے کئی آئے اور کئی چلے گئے، دونوں بھائی ہمیشہ ایک ہیں، شہباز شریف ہمیشہ اپنے بھائی کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف جیل اسی لیے گئے ہیں کہ انہوں نے اپنے بھائی کو نہیں چھوڑا، شہباز شریف ہمیشہ سے ایک صفحے پر تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ شریف برادران کو لڑوانے والوں کو ہمیشہ ناکامی ہوئی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ میاں صاحب کو پتہ ہے کہ کون سی بات کب کرنی ہے، جبکہ شہباز شریف کا معاملات ہینڈل کرنے کا طریقہ مختلف ہے۔

قومی خبریں سے مزید