آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عبدالمجید سالک

تحریک پاکستان سے قیام پاکستان اور بعد میں انہوں نے ملک و قوم کے لیے جو خدمات سرانجام دیںوہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔شہید ملت نے شمع آزادی روشن کرنے کے لیےبانیٔ پاکستان کے شانہ بشانہ کام کیا۔قیام پاکستان سے قبل عبوری حکومت کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے انہوں نے غریب آدمی کا بجٹ پیش کر کے ہندوئوں اور انگریزوں کی سازشوں کو جس طرح ناکام بنایا،وہ ان ہی کا حصّہ تھا۔

قیام پاکستان کے بعد وزیر اعظم کے عہدے کے ساتھ مرکزی وزیر دفاع کا محکمہ بھی ان ہی کے سپرد رہا اور بہ طور وزیر دفاع ان کی وہ تقریر بہت مقبول ہوئی جس میں انہوں نے دشمن کو اپنا آہنی مکّا دکھاتے ہوئے عوام سے کہا تھا:’ ’بھائیو! یہ پانچ انگلیاں جب علیحدہ ہوں تو ان کی قوت کم ہوجاتی ہے لیکن جب یہ مل کر مکّا بن جائیں تو یہ مکّا دشمن کا منہ توڑ سکتا ہے‘‘ قائد ملت کا یہی تاریخی مکّا اتحاد وقوت کی علامت بن گیا۔ 

آج شہید ملت نواب زادہ لیاقت علی خاں کی برسی ہے۔ اس موقع پر عبدالمجید سالک کا خصوصی مضمون اور سفر زندگی کا احوال نذرِ قارئین ہے۔

نواب زادہ لیاقت علی خاں کا خاندان عہدِ مغلیہ میں نہایت معزز و مقتدر خاندانوں میں سے تھا اور اس کے متعدد افراد پنج ہزاری امراء میں پایہ بلند رکھتے تھے۔ اس خاندان کی جاگیر اور مملوکہ اَراضی ضلع کرنال کے علاوہ یو پی میں بھی تھی۔ لیاقت علی خاں کے دادا نواب احمد علی خاں کو رُکن الدولہ شمشیر جنگ کا موروثی خطاب شاہان مغلیہ کی طرف سے حاصل تھا۔ نواب موصوف کے تین صاحبزادے تھے۔ عظمت علی خاں، رستم علی خاں اور عمر دراز علی خاں، پہلے دونوں بھائی موروثی خطاب کے حامل تھے۔ عظمت علی خاں لا ولد تھے۔ رستم علی خاں کے پاس پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں۔ بیٹوں میں تیسرے نمبر پر لیاقت علی خاں تھے۔ لیاقت علی خاں کی شادی اپنے چچا عمر دراز علی خاں کے گھر ہوئی تھی۔

بڑی بیگم جہانگیرہ بیگم کے بطن سے لیاقت علی خاں کے بڑے بیٹے ولایت علی خاں پیدا ہوئے اور چھوٹی بیگم رعنا سے دو لڑکے اشرف علی خاں اور اکبر علی خاں ہوئے جو دونوں اللہ کے فضل سے بقیدِ حیات ہیں۔

لیاقت علی خاں 1896ء میں نواب بہادر رستم علی خاں کے ہاں محترمہ محمودہ بیگم کے بطن سے پیدا ہوئے۔ لیاقت علی خاں کے متعلق بزرگوں کی شہادت یہ ہے کہ وہ بچپن میں بھی خاموش طبع اور متین تھے۔ شوخی اور شرارت ان کی طبیعت میں نہ تھی۔ ابتدائی تعلیم وطن ہی میں ہوئی۔ اس کے بعد وہ علی گڑھ بھیجے گئے جہاں ایم اے او کالج اس زمانے کے مسلمان شرفاء کی تعلیم و تربیت کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ 1918ء میں جب ان کی عمر بائیس برس تھی وہ کالج سے فارغ التحصیل ہوگئے۔ کالج کی زندگی کے دوران میں بھی ان کی متانت و سنجیدگی دُوسرے طلبہ میں خاص امتیاز رکھتی تھی۔

بی اے پاس کرنے کے ایک سال بعد وہ بیرسٹری کی تعلیم کے لئے انگلستان بھیجے گئے۔ ایگزیٹر کالج آکسفورڈ میں داخل ہوئے اور قانون کا امتحان پاس کر کے 1922ء میں بیرسٹر بن گئے۔ وہ آکسفورڈ کی انڈین مجلس کے اکثر سیاسی مباحث میں حصہ لیا کرتے تھے اور ان کے ہم جماعت بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں بھی لیاقت علی خاں عام نوجوانوں سے مختلف تھے اور ہر مسئلہ پر جذبات سے الگ رہ کر متانت کے ساتھ اظہار خیالات کیا کرتے تھے۔

جب لیاقت علی خاں انگلستان سے واپس آئے تو والد نے انتہائی کوشش کی کہ اپنے قابل بیٹے کو سرکاری ملازمت یا وکالت کی پریکٹس پر آمادہ کریں، لیکن لیاقت علی خاں کے عزائم بالکل مختلف تھے۔ وہ سیاسی دائرے میں قوم کی خدمت کا تہیہ کر چکے تھے۔ چنانچہ انہوں نے بیرسٹر ہونے کے باوجود کبھی وکالت نہ کی اور یو پی میں جا کر تعلیمی، معاشرتی اور سیاسی دوائر میں خاموش تعمیری خدمت کا آغاز کر دیا۔ ابھی دو تین سال گزرے تھے کہ 1926ء میں وہ یو پی کی مجلس قانون ساز کے ممبر منتخب ہوگئے۔ ان کا کام اس حیثیت میں اتنا قابلِ قدر تھا کہ وہ چودہ سال تک اسی مجلس کے ممبر رہے۔ وہ اس مجلس کی ڈیماکریٹک پارٹی کے لیڈر تھے اور چھ سال تک مجلس کے نائب صدر (ڈپٹی پریذیڈنٹ) بھی رہے۔

لیاقت علی خاں کی سیاسی دلچسپی صرف مسلم لیگ سے تھی اور قائداعظم نے ان کی متانت، محنت اور قابلیت کو دیکھ کر بھانپ لیا تھا کہ یہ شخص تھوڑی سی سیاسی تربیت کے بعد نہایت ممتاز قومی کارکن بن سکتا ہے۔ مسلم لیگ کے دُوسرے اکابر بھی لیاقت علی خاں کی شخصیت سے متاثر تھے چنانچہ1937ء میں جبکہ قائداعظم نے مسلم لیگ کی جدید تنظیم کی اور اسے مسلمانانِ ہند کی آخری سیاسی جدوجہد کے لئے تیار کرنے کا پروگرام بنایا تو نواب زادہ لیاقت علی خاں آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکرٹری منتخب ہوگئے۔ اس موقع پر جب نواب زادہ صاحب کو سیکرٹری مقرر کرنے کی قرارداد مسلم لیگ کونسل میں پیش کی گئی تو قائداعظم نے ان کی بہت تعریف کی اور کہا کہ نواب زادہ لیاقت علی خاں کو ہر طبقے کے مسلمانوں میں عزت و احترام حاصل ہے اور میں ان کے محاسن کی بنا پر سمجھتا ہوں کہ یہ میرے دستِ راست ثابت ہوں گے۔ اس موقع پر قائداعظم نے یہ بھی اعتراف کیا کہ گزشتہ سات سال سے لیاقت علی خاں مسلم لیگ کی بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں۔

1940ء میں نواب زادہ لیاقت علی خاں ہندوستان کی مرکزی مجلس قانون ساز کے ممبر منتخب ہوئے اور چونکہ اس مجلس میں مسلم لیگ پارٹی کے لیڈر خود قائداعظم تھے۔ اس لئے ڈپٹی لیڈر کا عہدہ نواب زادہ کے سوا اور کسی کو مل ہی نہیں سکتا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ مرکزی مجلس قانون ساز میں پہنچ کر ہی لیاقت علی خاں کی اس قابلیت کے جوہر کھلے، جو انہیں آئندہ ملک بھر میں سربلند و ممتاز بنانے والی تھی۔ انہوں نے ہندوستان اور ہندی مسلمانوں کے مسائل پر فاضلانہ تقریریں کیں۔ مباحثوں میں انتہائی دانشمندی، خطابت اور حاضر جوابی کا ثبوت دیا۔ اور بہت ہی قلیل عرصے میں ان کا شمار ہندوستان کے سیاسی اکابر کی صفِ اوّل میں ہونے لگا۔ 

یہاں تک کہ جب قائداعظم اور نواب زادہ لیاقت علی خاں وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر بنائے گئے اور وزارتِ خزانہ کا قلمدان ان کو تفویض ہوا۔ اگرچہ ان کو عمر بھر کبھی فنانس کے مطالعہ اور اس کی پیچیدگیوں کو سلجھانے کا اتفاق نہ ہوا تھا، لیکن انہوں نے بہت جلد اس شعبے کی تفصیلات پر قابو پا لیا اور 1947-48ء کے ایک نہایت اعلیٰ درجے کا میزانیہ پیش کیا، جس کی تعریف سے مخالفین کے ایوان بھی گونج اُٹھے اور ملک بھر میں چرچا ہوگیا کہ یہ ’’غریبوں کا میزانیہ‘‘ ہے، کیونکہ اس میں محاصل کا بار غریبوں کے سر سے اُٹھا کر دولت مندوں پر ڈال دیا گیا تھا۔ سرمایہ داروں کی حالت نہایت عجیب تھی۔ وہ قومیت پرستی اور عوامیت کے مدعی ہونے کی وجہ سے اس میزانیہ کے خلاف آواز تو بلند نہ کر سکتے تھے جس نے ان کے دولت مند طبقے کو انتہائی اضطراب میں مبتلا کر دیا تھا، لیکن سخت پیچ و تاب کھا رہے تھے اور اکثر غیرمتعلق حملے کر کے اپنے کھسیانے پن کا ثبوت دیتے تھے۔

آخر وہ وقت آ گیا، جب حصول پاکستان کی جدوجہد ختم ہوئی۔ دُنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت وجود میں آ گئی اور نواب زادہ لیاقت علی خاں کے سر پر اس کی وزارتِ عظمیٰ کا تاج رکھا گیا۔ اگرچہ قائداعظم کا دستِ شفقت رہنمائی کے لئے موجود تھا، تاہم نواب زادہ صاحب کے لئے یہ کام بالکل نیا تھا، مسائل نئے تھے، مصائب نئے تھے اور ذمہ داری تمام و کمال نئی اور بہت ہی گرانبار تھی، تاہم دُنیا جانتی ہے کہ انہوں نے اس ذمہ داری کو کس خوش اُسلوبی سے پورا کیا، لیکن ابھی ان کے سامنے ایک نہایت شدید اور صبر آزما مرحلہ پیش ہونے والا تھا۔ قائداعظم کی بے وقت وفات نے ان کی ذمہ داریوں میں بے اندازہ اضافہ کر دیا۔ ان کی زندگی میں تو نواب زادہ صاحب کبھی کبھی بعض معاملات کے متعلق ایسے احساس کا اظہار بھی کر دیتے تھے، جیسے باپ کی زندگی میں بیٹوں کو ہوا کرتا ہے، لیکن بابائے ملت کے انتقال کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ اب پاکستان کی سو فیصد ذمہ داری انہی کے سر پر آن پڑی ہے۔

قائداعظم کا معاملہ بالکل مختلف تھا۔ وہ پوری قوم کے باپ تھے، جنہوں نے پاکستان قائم کر کے دکھا دیا تھا۔ ان کا ایک ایک لفظ قوم کے لئے بمنزلہ قانون تھا اور کسی کو ان کے آگے زبان کشائی کی جرأت ہی نہ ہوتی تھی، لیکن نواب زادہ لیاقت علی خاں جانتے تھے کہ انہیں خود اس قسم کا مقام حاصل کرنے کے لئے اَشد محنت کرنی ہوگی اور قوم کو اپنے اعلیٰ تدبر اور اپنی تعمیری دانشمندی کا عملی ثبوت دینا ہوگا۔ جو لوگ پاکستان کے قیام سے پہلے اور اس کےبعد یہ کہا کرتے تھے کہ یہ ایک شاعر کا خواب ہے، جو کبھی شرمندئہ تعبیر نہیں ہو سکتا اور اگر ہو بھی گیا تو چند مہینے سے زیادہ قائم نہ رہ سکے گا، وہ پاکستان کی کامیابی کے باعث خاموش ہوگئے تھے، لیکن اب انہوں نے پھر سر اُٹھایا۔ 

یہاں تک کہ انگلستان اور امریکہ کے بعض اخباروں تک نے صاف صاف لکھ دیا کہ معمار کی وفات کے بعد یہ تعمیر بھی منہدم ہو جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اس زمانے میں سقوط حیدرآباد کا سانحہ پیش آ چکا تھا۔ نواب زادہ لیاقت علی خاں کی پریشانی جس قدر بھی ہوتی کم تھی، لیکن انہوں نے کمر ہمت باندھ کر شبانہ روز کام کرنا شروع کیا اور اپنی تمام ذمہ داریوں کو بوجہ اَحسن نباہ دیا۔ پاکستان روز بروز دُنیا کی نظروں میں معزز و مقتدر ہونے لگا۔ اس کی دفاعی طاقت اور مالی قوت روز اَفزوں ہونے لگی۔ تعمیر قومی کے تمام شعبوں میں ترقّی کی رفتار تیز ہوگئی اور اس مملکت کی مضبوطی اور استعماری ہی میں کسی کو شبہ نہ رہا۔

انہی دِنوں یعنی چار سال کے اسی عرصے میں جب لیاقت علی خاں پاکستان کے اُمور کو سلجھانے میں مصروف تھے، انگلستان نے پائونڈ کی قیمت گھٹا دی۔ اس پر اسٹرانگ ایریا کے تقریباً تمام ملکوں نے اپنے اپنے سکے گرا دیئے، لیکن نواب زادہ لیاقت علی خاں نے مردانہ وار اعلان کیا کہ ہم اپنے روپے کی قیمت ہرگز نہ گرائیں گے۔ دُنیا بھر نے کہا کہ پاکستان اپنے اس فیصلے پر قائم نہ رہ سکے گا اور اقتصادی قوتیں اسے تخفیف ِقدر پر مجبور کریں گی، لیکن لیاقت علی خاں نے اس اَمر کا ثبوت دے دیا کہ پاکستان اپنے اس فیصلے پر قائم رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کامن ویلتھ اور روس کے سلسلے میں ان کے رویہ سے صاف ظاہر ہوتا تھا اور وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو آزاد رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ میں ٭٭ واضح کیا کہ ہم مغربی سرمایہ داری کو روا رکھتے ہیں نہ روسی کمیونزم کو قبول کر سکتے ہیں، بلکہ ہماری زندگی کی بنیاد اسلام پر ہے، جو ان دونوں انتہائوں کے درمیان اعتدال اور توازن کا نظام پیش کرتا ہے۔ چنانچہ اہل امریکہ کی اکثریت نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اگر اسلام یہی ہے جو وزیراعظم پاکستان پیش کر رہے ہیں تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سرمایہ داری اور کمیونزم کی تمام خرابیوں کا علاج اسی میں مضمر ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ امریکہ کے اس سفر میں نواب زادہ صاحب نے مملکت کے علاوہ دین کی خدمت بھی انجام دی۔ بھارت کے ساتھ اقلیتوں کی حفاظت کا معاہدہ مرحوم کا ایک کارنامہ عظیم ہے۔

اسی طرح ان کا یہ کارنامہ یادگار رہے گا کہ انہوں نے ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کو منظور کروایا اور پاکستان کے آئین و دستور کے مقاصد اسلام پر مبنی قرار دیئے۔

نواب زادہ صاحب اگرچہ ایک دولت مند، خطاب یافتہ، جاگیردار اور قدیم خاندان کے چشم چراغ تھے اور ان کی زندگی ہر قسم کے ناز و نعم میں بسر ہوئی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کی طبیعت میں بے حد قناعت تھی، تقسیم ہند کی وجہ سے ان کی تمام تر جائیداد چھن گئی، چنانچہ آج پاکستان میں ان کے بچوں کے قبضے میں کوئی املاک نہیں ہیں، لیکن نواب زادہ صاحب نے کبھی یہ جتانے کی کوشش نہیں کی اور دن رات اس مملکت کی بہتری کے لئے کام کرنے میں مصروف رہے۔ قائداعظم کے انتقال کے بعد خصوصاً ذمہ داریوں کے بوجھ نے ان کو بے حد زیر بار کر رکھا تھا، لیکن بظاہر ان کے بشرے یا طرزعمل سے کسی پریشانی کا اظہار نہ ہوتا تھا۔ وہ متانت و سنجیدگی کی وجہ سے بے حد آہستہ رو تھے۔ آہستہ بولنا، آہستہ سوچنا اور سوچنے کے بعد بھی بے حد محتاط انداز سے عمل کرنا ان کا شعار تھا اور تعمیری کام کے لئے اسی قسم کی ذہنیت و طبیعت درکار ہے۔

نواب زادہ صاحب کی یہی خوبیاں تھیں جن کی وجہ سے ان کے رفقائے وزارت، سرکاری حکام، تعلیم یافتہ طبقے، عوام ان پر جان دیتے تھے۔ جو مخالفین ان کے خلاف کچھ کہتے یا لکھتے تھے وہ بھی اگرچہ چند روز ان کو قریب سے دیکھتے، تو ان کی مخالفت کی شدت باقی نہ رہتی اور وہ ان کا ذکر بے حد احترام سے کرتے۔

یہ پاکستان کی انتہائی بدقسمتی ہے کہ ایسے کارآزمودہ، مخلص، محنتی اور وطن کے فدائی کو زیادہ دیر تک خدمت کا موقع نہ ملا اور 16 اکتوبر 1951ء کو جب نواب زادہ لیاقت علی خاں راولپنڈی میں اپنی زندگی کی اہم ترین تقریر کرنے والے تھے اور صرف برادرانِ ملّت کے لفظ ہی ان کی زبان سے نکلنے پائے تھے کہ ایک سفّاک بزدل انسان نے ان کو گولی کا نشانہ بنا دیا اور وہ چند لمحے کے بعد ’’لا الہ الا اللہ‘‘ اور خدا پاکستان کی حفاظت کرے‘‘ کہتے ہوئے اپنے پیدا کرنے والے کے دربار میں حاضر ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم نے صرف ستّاون برس کی عمر پائی۔ کاش وہ چند سال اور زندہ رہتے اور پاکستان کو زیادہ مستحکم کر جاتے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اعلیٰ علیّین میں جگہ دے اور پاکستان کے حکام و عوام کو ان کے نقش قدم پر چلنے اور پاکستان کی بے غرضانہ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

جنازے کا آنکھوں دیکھا حال

نوابزادہ لیاقت علی خان کا جنازہ 17اکتوبر 1951کو ان کی اقامت گاہ 10 وکٹوریہ روڈ سے ٹھیک بارہ بجکر 45منٹ پر اٹھایا گیا تھا۔ نماز جنازہ ایک بجکر 36منٹ پر پولو گرائونڈ میں ممتاز عالم دین مولانا احتشام الحق تھانوی نے پڑھائی اور پھر جلوس ہیولاک روڈ، الفٹن اسٹریٹ، گارڈن روڈ، بندر روڈاور محمدعلی جناح روڈ سے ہوتا ہوا نمائش گاہ پہنچا جہاں ملت اسلامیہ کے سرمایہ حیات قائداعظم محمدعلی جناح کو تین سال ایک ماہ اور 5 دن پہلے سپرد خاک کیا گیا تھا۔ جلوس میں کم و بیش 7 ,8 لاکھ افراد تھے ،جن میں مرد، عورتیں بچے بوڑھےاور جوان سب ہی شامل تھے۔ قائد ملت کی والدہ محترمہ جو مجسم غم کی صورت تھیں، کی حالت کسی سے دیکھی نہ جارہی تھی، وہ اپنے نامور سپوت کو جسے انہوںنے اپنی گودی میں کھلایا تھا ،لوری دے کر اور تھپک تھپک کر سلایا تھا، انہیں مٹی دینے آئی تھیں۔

قائدملت کی بیوہ ان کےبڑے صاحبزادے، وزارت میں انکے رفقا کار، گورنر جنرل پاکستان، بیرونی ممالک کے سفیر اور عمائدین شہر تھے۔ ہر شخص کا چہرہ اداس، آنکھیں پرنم اور جسم نڈھال تھا، مگر نظم و ضبط کو ہاتھ سے نہ جانے دیا عوام کی یہ غیرمعمولی تنظیم پاکستان کے لازوال عزم و استقلال کی مظہر تھی۔

جلوس جب قائد ملت کی اقامت گاہ سے چلا تو ہزاروں آدمی جلوس کے ساتھ تھے۔ جلوس کے آگے بحری فوج کے ایک افسر اعلیٰ ہاتھ میں برہنہ تلوار لئے آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ ان کے پیچھے بحری، بری اور فضائی فوج کے جوان اور افسر تھے،جن کے چہرے غمگین اور اداس تھے، مگر جن کی چال میں عزم و استقلال نمایاں تھا ۔بحری فوج کے جوان سفید براق پوشاک پہنے ہوئےتھے، ان کے سروں پر سفید ٹوپی اور گلوں میں نیلا رومال تھا، ان کے کاندھوں پر بندوقیں تھیں، جن میں سنگینیں لگی ہوئی تھیں۔ 

بری فوج کے جوان خاکی وردی پہنے تھے،ان کے سروں پرنیلی ٹوپی تھی، یہ نوجوان دوسری عالمگیر جنگ کے بعد دنیاکے کونے کونے میں اپنی بہادری اور جانبازی کیلئے مشہور تھے ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں۔ بری فوج کے بعد فضائی فوج کے جوان تھے۔ ان کی آسمانی رنگ کی ٹوپی تھی ۔ ان کے قدم آہستہ آہستہ اٹھ رہے تھے ۔

پاکستانی فوج کے جوانوں کے بعد گورنر جنرل کے خاص باڈی گارڈ گھوڑوںپر سوار ہاتھوں میں سیاہ و سبز جھنڈیاںلئے چل رہے تھے۔ گھوڑوں کی گردنیں جھکی ہوئی تھیں ان کے درمیان قائد ملت کا جسد خاکی ایک توپ پر رکھا تھا، جسے بحریہ، بری اور فضائیہ کے جوان کھینچ رہے تھے۔ محافظوں کے اس دستے کے بعد پاکستان کے وزرا، غیرملکی سفرا اور عمائدین شہر اور پھر لوگوںکا ہجوم تھا۔ 

جب جلوس ایوب کھوڑو روڈ سے پولو گرائونڈ پہنچا تو وہاں لاکھوں کا مجمع تھا۔ لوگ مکانوں کی چھتوں کھڑکیوں، شہ نشینوں، دروازوں سے اپنے محبوب رہنما کا آخری دیدار کررہے تھے۔ اسی مقام پر قائد ملت نے 14 اگست 1951 کو سلامی لی تھی۔ یہاں ایک بجکر 28 منٹ پر جنازہ لایا گیا۔ دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں لاکھوں افراد کا یہ ہجوم اس سے پہلے کبھی پولو گرائونڈ میں دیکھنے میں نہ آیا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ لوگوں کو اپنے محبوب رہنما کا شدید غم تھا۔

نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد جلوس نمائش گاہ کی طرف بڑھا، جہاں شہید ملّت کے جسد خاکی کو اپنے دیرینہ امیر اور پرانے ساتھی قائداعظم کے پہلو میں 3بجکر 8 منٹ پر قبر میں اتارا گیا اور ٹھیک 3 بجکر 14 منٹ پر سپرد خاک کردیا گیا۔

سفر ِ زندگی

سولہ اکتوبر 1951 کو وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راول پنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔ اوائل سرما کی اس شام نواب زادہ لیاقت علی خان پونے چار بجے جلسہ گاہ میں پہنچے۔ ان کے استقبال کے لیے مسلم لیگ کا کوئی مرکزی یا صوبائی رہنما موجود نہیں تھا۔ مسلم لیگ کے ضلعی رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا۔ مسلم لیگ گارڈز کے مسلح دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ پنڈال میں چالیس پچاس ہزار کا مجمع موجود تھا۔

مسلم لیگ کے ضلعی رہنما شیخ مسعود صادق کے خطبہ استقبالیہ کے بعد وزیراعظم مائیک پر آئے۔انہوں نے ابھی ’’برادرانِ ملت‘‘کے الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ پستول کے دو فائر سنائی دیے۔ اگلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے پستول نکال کر وزیر اعظم پرگولی چلادی۔ پہلی گولی وزیر اعظم کے سینے اور دوسری پیٹ میں لگی۔وہ گر پڑے۔

نو سیکنڈ بعد 9 ایم ایم پستول کا ایک فائر سنائی دیا پھر یکے بعد دیگرے ویورلے ریوالور کے تین فائر سنائی دیے۔ اگلے 15 سیکنڈ تک ریوالور اور رائفل کے ملے جلے فائر سنائی دیتے رہے۔ اس وقت تک قاتل کے ارد گرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ اس کا پستول چھین لیا گیا تھا مگر ایس پی نجف خان کے حکم پر انسپکٹر محمد شاہ نے قاتل پر سرکاری پستول سے یکے بعد دیگرے پانچ گولیاں چلا کر اسے ختم کر دیا۔

وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امورِ کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری اسپتال پہنچایا گیاجہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کر گئے۔

لیاقت علی خان کا قتل پاکستان کی تاریخ کے پراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ان کا قتل وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی قیادت سیاسی رہنماؤں کے ہاتھ سے نکل کر سرکاری اہل کاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے ہاتھ میں پہنچی۔ قتل کے محرکات، سازشیوں کے نام اور واقعات کا تانا بانا شکوک و شبہات کی گہری دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔

یکم اکتوبر 1890 کو کرنال ( مشرقی پنجاب)کے متمول زمیں دار نواب، رستم علی خاں کے ہاں پیدا ہونے والے لیاقت علی خاں نے علی گڑھ اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ 1926 میں یوپی کی مجلسِ قانون سازکے رکن منتخب ہونے کے بعد انہوں نے ہندوستان کی مرکزی سیاست میں نمایاں حیثیت برقرار رکھی۔ ان کی بنیادی شناخت مسلم اشرافیہ کی سیاست تھی۔

وہ ابتدا ہی سے محمد علی جناح کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ہیکٹر بولیتھو کے مطابق قائد اعظم کو 1933 میں انگلستان سے واپس آ کر مسلم ہندوستان کی سیاست میں دوبارہ شریک ہونے پر لیاقت علی خان ہی نے آمادہ کیا تھا۔ 1940 کی قرار دادِ لاہورکے بعد سے لیاقت علی خان، مسلم لیگ میں قائداعظم کے دست راست سمجھے جاتے تھے۔

شخصی زندگی میں لیاقت علی خان روشن خیال اور مجلسی مزاج رکھتے تھے۔ وہ ہندوستان کی پہلی عبوری حکومت میں وزیر خزانہ بنے۔ تقسیم ہند کے بعد انہیں پاکستان کا وزیرِ اعظم منتخب کیا گیا۔

انہوں نےآکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی اور1922میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کی ۔ 1923میں ہندوستان واپس آئے اور مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔1936میں مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل بنے۔ نواب زادہ لیاقت علی خان، نواب رستم علی خان کے دوسرے بیٹے تھے۔ان کی والدہ محمودہ بیگم نے گھر پر ان کے لیےدینی تعلیم کا انتظام کیاتھا۔ 1918 میں انہوں نےایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کیا۔ 1918 ہی میں ان کی جہانگیر بیگم سے شادی ہوئی۔ شادی کے بعد وہ برطانیہ چلے گئے جہاں آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ برطانیہ سے واپس آنے کے بعد انہوں نے اپنے ملک کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔

1924میں قائداعظم محمد علی جناح کی زیرِ قیادت مسلم لیگ کا اجلاس لاہور میں ہوا۔اس اجلاس کا مقصد مسلم لیگ کو دربارہ منظم کرنا تھا۔ اس اجلاس میں لیاقت علی خان نے بھی شرکت کی۔ 1926 میں وہ اتر پردیش سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1940 میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہونے تک یو پی اسمبلی کے رکن رہے۔1932میں دوسری شادی کی۔ ان کی دوسری بیگم ، رعنا لیاقت علی ماہر تعلیم اور معیشت داں تھیں۔وہ لیاقت علی خان کی زندگی کی بہترین معاون ثابت ہوئیں۔

زندگی کا بہت بڑا فیصلہ

پچاس کی دہائی میں ایک بیوروکریٹ نے بیگم لیاقت علی خان سے پوچھا کہ انسان اپنی اولاد کے لیے کچھ نہ کچھ جمع کرتا ہے،خان صاحب نے کیوں ایسا نہیں کیا؟ بیگم صاحبہ نے جواب دیاکہ ایک بار میں نے بھی خان صاحب سے یہ سوال پوچھا تھا۔خان صاحب نے جواب دیا میں ایک نواب خاندا ن سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے زندگی میں کبھی ایک لباس دوسری بار نہیں پہنا تھا۔میرے خاندا ن نے مجھے آکسفورڈ یونیورسٹی میں بھیجا تو مجھے خانساماں، خادم اور ڈرائیور دے رکھا تھا۔ ہم کھانا کھاتے یا نہ کھاتے ہمارے گھر پچاس سے سو لوگوں کا کھانا روزانہ پکتا تھا۔لیکن جب میں پاکستان کا وزیر اعظم بنا تو میں نے اپنے آپ سے کہا کہ لیاقت علی خان اب تمہیں نوابی یا وزارت عظمی میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا اور میں نے اپنےلیے وزارت عظمی منتخب کر لی۔

سادہ زندگی

بیگم رعنا لیاقت علی خان کے مطابق قائد ملت فرمایا کرتے تھے کہ میں جب بھی اپنے لیے کپڑا خریدنے لگتا ہوں تواپنے آپ سے سوال کرتا ہوںکہ کیا پاکستان کے سارے عوام کے پاس کپڑے ہیں۔میں جب اپنا مکان بنانے کا سوچتا ہوں تو اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا پاکستان کے تمام لوگوں کے پاس اپنے گھر ہیں۔جب میں اپنے بیوی بچوں کے لیے کچھ جمع کرنے کا سوچتا ہوں تو اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ کیا پاکستان میں سب لوگوں کے بیوی بچوں کے لیے کچھ ہے؟جب سب سوالوں کا جواب نفی میں ملتا ہے تو میں اپنے آپ سے کہتاہوں کہ لیاقت علی خان ایک غریب ملک کے وزیر اعظم کو نئے کپڑے، لمبا چوڑا دسترخوان اور ذاتی مکان زیب نہیں دیتا۔