آپ آف لائن ہیں
جمعہ5؍ربیع الاوّل 1442ھ 23؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اپوزیشن دوبارہ شرمندہ نہیں ہونا چاہتی!

اپوزیشن نے پہلا جلسہ گوجرانوالہ میں کیوں کیا ؟ شاید اس لئے کہ گوجرانوالہ ڈویژن نون لیگ کا گڑھ ہے۔ سنٹرل پنجاب سے نون لیگ نے 33 نشستیں حاصل کیں۔ 

وسطی پنجاب نون لیگ کو اون کرتا ہے مگر پھر بھی جلسہ ایک ایسے اسٹیڈیم میں رکھا گیاجو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 30 ہزار افراد کےلئے بنایا گیا تھا۔ اس سے پہلے یہ اسٹیڈیم عمران خان اور نون لیگ والے دونوں الیکشن کے دنوں میں بھر چکے ہیں۔ 

اپوزیشن کی ساری پارٹیوں نے مل ملا کے اسے کسی حد تک بھر تو اب بھی دیا مگر چالیس فیصد جگہ گاڑیوں کےلئے چھوڑ دی گئی تھی۔ اسٹیج بھی خاصا آگے لگایا گیا تھا۔ پھر لوگ وسطی پنجاب سے ہی جمع نہیں کئے گئے تھے، دور داراز کے علاقوں سے بھی آئے تھے۔ میانوالی سے جلسہ میں شریک ہونے والے کچھ لوگ تو خود میرے جاننے والے تھے ۔جن سے میں لمحہ بہ لمحہ رپورٹ حاصل کرتا رہا ۔

یعنی یہ جلسہ قطعاً اتنا بڑا نہیں تھا ،جتنی توقع کی جارہی تھی۔اس سے بڑے جلسے تو ڈاکٹر طاہر القادری کے ہوتے تھے۔ وہ اب بھی اکیلے اس سے کہیں بڑا جلسہ کرلینے کی پوزیشن ہیں۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک کو اس جلسہ کی وساطت سے کامیاب کہا جاسکتا ہے ۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ کیا یہ جلسے جاری رہتے ہیں۔ پھر جلسوں کی کامیابی کا تعلق بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری سے ہے اور حکومت اس پر قابو پالیتی ہے تو یہ جلسے اور بھی سکڑتے چلے جائیں گے مگر مہنگائی کا تعلق بین الاقوامی معیشت سے ہے۔ 

اندازہ لگائیے کہ برطانیہ میں تقریباً بیس برس کے بعد پہلی بار دودھ کی قیمت بڑھی ہے اور ڈبل ہو گئی ہے۔ ایک کلو دودھ جو ایک پونڈ کا ملتا تھا اب دو پونڈ کا مل رہا ہے۔ پھر جو معاملہ اپوزیشن کی تحریک کےلئے سب سے خطرناک ثابت ہوا۔ وہ اس جلسے کی آخری تقریر ہے جو لندن سے براہ راست جلسہ گاہ میں ٹیلی کاسٹ کی گئی۔ 

وہ تقریر تقریباً ویسی تھی جیسی کسی زمانے میں ایم کیو ایم کے بانی کیا کرتے تھے۔ بس تھوڑا سا فرق تھا کہ اس میں قومی ادارے کو ٹارگٹ نہیں کیا گیا تو اس کا سربراہ ٹارگٹ بنایا گیا تھا اور تقریر میں اس کا نام بیسوئوں مرتبہ لیا گیا۔ اسے خوفناک انجام کی نوید سنائی گئی، حساب کتاب کی باتیں کی گئیں۔ سوباقی اپوزیشن اس معاملہ پر خاصی پریشان ہے ۔

 پیپلز پارٹی کے ایک لیڈر کے مطابق ’’ہم اس بیانیے کے ساتھ نہیں چل سکتے ‘‘۔باقی سیاسی پارٹیاں بھی اُس تقریر کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں۔ سو اپوزیشن کے محاذ میں ابھی سے شگاف پڑنے شروع ہو گئے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق آخر کار وہ وقت آ ہی گیا ہے کہ جب شہباز شریف اور نواز شریف کے راستے سچ مچ جدا ہو گئے ہیں۔ اولاد کی محبت بڑی خوفناک چیز ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن تقریر کےلئے ڈائس پرآئے تو پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے بہت سے لوگ پنڈال سے اٹھ کر چلے گئے۔ بے شک مولانا ’’مشرف بہ میوزک ‘‘ ہو چکے ہیں مگر عوام ابھی تک انہیں اپوزیشن کی پارٹیوں کا سربراہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ مجھے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ محترمہ مریم نواز نے فرمایا کہ ’’عمران خان کی کرپشن کی داستانیں جب عوام کے سامنے آئیں گی تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے۔‘‘

اس جملے کے کئی مفہوم ہیں ایک یہ کہ صرف ہم نہیں عمران خان بھی کرپٹ ہیں۔ دوسرا عمران خان کی کرپشن ہم سے زیادہ نکلے گی۔ تیسرا’’ جب عوام کے سامنے آئیں گی تو وہ کانوں کو ہاتھ لگائیں ‘‘یعنی ابھی ہمارے پاس عمران خان کی کسی کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں کہ ہم لوگ عوام کے سامنے پیش کر سکیں۔ عمران خان کرپٹ نہیں۔

اپوزیشن اس جھوٹ کو جتنی مرتبہ بھی بولے، کوئی فرق نہیں پڑے گا۔بلکہ عمران خان کےلئے عوامی ہمدرد ی بڑھے گی ۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ دسمبر میں نواز شریف پاکستان آنے کا پروگرام بنا چکے ہیں مگر وہ بار بار پوچھتے ہیں کہ کہیں پھر معاملہ پچھلی مرتبہ جیسا تو نہیں ہو گا کہ نون لیگ کا جلوس کہیں راستہ میں کھو گیا تھا اور مریم اور نواز شریف جیل پہنچا دئیے گئے تھے۔ 

اپوزیشن کے پاس نئے انتخابات کیلئے صرف ایک راستہ ہے کہ وہ اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائے تاکہ حکومت نئے انتخابات کرانے پر مجبور ہو جائے مگر خبر یہی ہے کہ صرف پیپلز پارٹی نے ہی انکار نہیں کیا، خود نون لیگ کے بےشمار ایم این ایز نے اس آئیڈیا کو ناقابل عمل قرار دے دیا۔ 

یعنی مستعفی ہونے سے انکار کر دیا۔ ان کے خیال کے مطابق اس وقت حکومت مہنگائی کے دیو کو قابو کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ توقع ہے کہ دو تین ماہ میں کامیاب ہو جائے گی۔ 

سو نئے الیکشن ہمارے لئے نقصان کا باعث بنیں گے۔ ہاؤس کے اندر تبدیلی کا آپشن بھی موجود ہے مگر سینٹ میں سنجرانی کے انتخاب میں اپوزیشن کو شرمندگی ہوئی اس کے بعد وہ بہت محتاط ہو چکی ہے اور دوبارہ شرمندہ نہیں ہونا چاہتی۔

مولانا فضل الرحمن نے دعوی کیا کہ ’’حکومت آنے والا دسمبر نہیں دیکھے گی‘‘ مولانا جب اپنا ڈنڈہ بردار جلوس لے کر اسلام آباد تھے تو اس وقت بھی واپس جاتے ہوئے ایسا ہی اعلان کیا تھا کہ دو ماہ میں عمران خان کی حکومت ختم ہوجائے گی۔ پتہ نہیں ایسے خواب مولانا دن کی روشنی میں کیسے دیکھ لیتے ہیں۔ 

کچھ احباب کا خیال ہے کہ بڑے عرصہ کے بعد اقتدار سے باہر ہونے کے سبب مولانا کی شخصیت میں کئی نفیساتی پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں۔اب ان کی حالت بالکل ماہی ِبے آب کی طرح ہے۔ سو حکومت کو ان کی کسی بات کا برا نہیں منانا چاہئے۔