آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

معاملات آگے بڑھنے چاہئیں، ماحول بھارت نے بنانا ہے، معید یوسف


کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ”جرگہ“ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معیدیوسف نےکہا ہےکہ چینی قونصلیٹ اور پی سی گوادرکے حملوں میں انڈیا ملوث ہے،ثبوت موجود ہیں،معاملات آگے بڑھنے چاہئیں، اس کے لئے کچھ ماحول ہندوستان نے بنانا ہے اگر وہ تیارہوں گے تو بات چیت ہوگی،انڈیا سے کوئی بیک چینل نہیں ہے کسی قسم کی بات نہیں ہورہی۔

ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ فون اٹھایا دوسرے کو کہا کہ میں بات کرنا چاہتا ہوں وہ تو دوست ممالک آپس میں کرتے ہیں۔مختلف طریقے ہوتے ہیں۔بنیادی بات یہ ہے کہ ان کی جو تردید آئی مجھے پتہ تھا کہ ایسی بات ہوگی۔ میں تو کرن تھاپڑکو بھی پروگرام میں یہ کہہ رہا تھا کہ آپ اتنا شرمندہ کیوں ہورہے ہیں۔

اگر تو کوئی ایسی بات ہونی چاہئے ہم تو کہہ رہے ہیں کہ بات چیت ہونی چاہئے ۔ اس کی کچھ شرائط ہیں اگردوسری طرف یہ خیال آیا ہے تو بڑی اچھی بات ہے۔اس میں کیا بات ہے آپ اس کو تردید کررہے ہیں اب جو انہوں نے کر بھی دیا تو ٹھیک ہے یہ ان کی مرضی ہے ۔

ہم نے جو بات کی ہے وہ بالکل درست ہے کہ معاملات آگے بڑھنے چاہئیں۔ اس کے لئے کچھ ماحول ہندوستان نے بنانا ہے اگر وہ تیا رہوں گے تو بات چیت ہوگی۔

دعویٰ یہ ہے کہ یہ معاملات رکے ہوئے ہیں اور ان کو نظر آرہا ہے کہ ایک طرف چین سے مار پڑ رہی ہے اور وہاں جو شعور رکھنے والے ہیں وہ یہ کہہ رہی ہیں کہہ رہی ہوں گی کہ پاکستان سے اس طرح سے خراب کیا ہوا ہے تو ہرطرف سے اپنا فرنٹ خراب نہ کریں شاید وہ کوئی سوچ ہو۔میں اتنا آپ کو وثوق سے کہہ دیتا ہوں کہ ہم نے جو بات کی ہے سوچ سمجھ کر کی ہے اور اس انٹرویو میں جو بھی چیز تھی اس پر ہم کھڑے ہیں۔

انڈیا سے کوئی بیک چینل نہیں ہے کسی قسم کی بات نہیں ہورہی۔ظاہری بات ہے عوام کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی چیز نہیں ہوسکتی ۔ کشمیریوں کو اعتماد میں لئے بغیرکوئی چیز نہیں ہوسکتی۔

وہ بنیادی طور پر یہ چاہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں ایک بیانیہ شروع ہوجائے جس کی وہ بہت کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان میں توکشمیر کے معاملے پر سودا ہوگیا ہے۔ اب مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے ہمارے ساتھ رہنا ہے آپ انسان بن جائیں ہم جو کہیں آپ وہ کریں۔

یہ جو گلگت بلتستان کی یہاں بات شروع ہوئی کیا بیانیہ انہوں نے وہاں کیایہ تو اسی کی کڑی ہے ہم نے تو آپ کو کہا تھا بات چیت معاملہ سیٹ ہوگیا۔ جب وہ وہاں یہ بات کرنا چاہ رہے ہیں تو وہ کیوں ڈائیلاگ چاہیں گے ۔

منطق یہ ہوگا کہ آپ بات کریں دنیا کوکہیں کہ جی پاکستان ہندوستان تو بات کررہے ہیں اور بات اس لئے کررہے ہیں کہ معاملات ٹھیک ہوگئے سودا ہوگیا۔اور وہ لے جائیں کشمیری عوام کے پاس اور ان کو کہیں کہ دیکھیں آپ کو بیچ دیا۔تو میں نے یہ ہی بات کی ہے کہ اس طرح کے ڈھونگ رچانے سے بات نہیں بنے گی ارادہ ہے بات کرنی ہے ہم کل تیار ہیں۔ 

حقیقی نیت دکھانے کے لئے آپ کوکشمیر میں یہ چار چیزیں کرنی ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی روکنی ہے۔ان کے سامنے شرائط رکھی ہیں کہ فوجی محاصرہ ختم کریں۔ 

جتنے سیاسی قیدی ہیں وہ رہا کریں جو اوپن جیل بنایا ہوا ہے اس کو ختم کریں اور یہ تسلیم کریں کہ کشمیری پرنسپل پارٹی ہے جس کے بارے میں بات ہورہی ہے۔حق خود ارادیت کشمیریوں کا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ہندوستان کا نام بھی نہیں سنتے شکل بھی نہیں دیکھتے بات بھی نہیں کرتے ۔ 

فاروق عبداللہ جیسا بندہ جس نے دہلی کے ساتھ مل کر حکومتیں بنائیں وہ کیا کہہ کر گیا ہے کہ چینی ہمارے اوپر مسلط ہوجائیں کوئی مسئلہ نہیں ہے ہندوستان نہیں ہوگا۔کہنا وہ پاکستان چاہ رہا تھا کہہ نہیں سکتا اس نے ہندوستان میں زندہ رہنا ہے ۔

جنگ کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو پاکستان نے5 اگست کے بعد نہیں کی۔ اقوام متحدہ سے لے کر نیچے تک ڈپلومیسی بین الاقوامی قانون کے تحت جو کچھ ہوسکتا ہے انسانی حقو ق کے تحت جو کچھ ہوسکتا ہے ۔ 

جتنی اس وقت ملامت اور لعن طعن ہندوستان کی اس وقت ہوئی ہے اس میں انہوں نے اپنا بھی حصہ ڈالا ہے ۔گلگت بلتستان میں سرتاج عزیز کی رپورٹ ہے2009ء میں اصلاحات ہیں 2015ء یا2017ء میں مقننہ کی قرارداد ہے۔

یہ حکومت پاکستان نے تو شروع نہیں کیاکیونکہ وہاں انتخابات آرہے ہیں سیاسی ماحول وہاں پر بننا شرو ہواہے اور وہاں سے مقامی آواز اٹھنی شرو ع ہوئی ہے کہ پھر سے انتخابات آئے ہیں ہمیں جماعتیں بتائیں ہم ووٹ اس کو دیں گے ۔ ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ جو آواز وہاں سے آئے اس کو پذیرائی ملے اس کو انٹرٹین کیا جائے ۔

اہم خبریں سے مزید