آپ آف لائن ہیں
بدھ16؍ربیع الثانی 1442ھ2؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بلاول بھٹو کا عمران خان پر سی پیک کو ناکام بنانے کی کوششوں کا الزام


پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان پر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ناکام بنانے کا الزام عائد کردیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں تیسرے جلسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔

انہوں نے خطاب کے آغاز میں کہا کہ میں گلگت بلتستان کے پہاڑوں سے اپنے بلوچ بھائیوں، بہنوں، بچوں، ماؤں سے مخاطب ہوں، کچھ لوگ چاہتے ہیں پی ڈی ایم ٹوٹ جائے، پیپلز پارٹی اپوزیشن اتحاد سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

پی پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ عمران خان نے بلوچستان کو کچھ نہیں دیا، یہ ملکی معیشت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، یہ تباہی ہے تبدیلی نہیں ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سی پیک جیسے منصوبے کو ناکام بنانا چاہ رہے ہیں، گوادر اور گلگت بلتستان کے عوام کو اس میگا پراجیکٹ سے فائدہ نہیں پہنچایا جارہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کا یہ اتحاد وزیراعظم عمران خان کو سندھ اور بلوچستان کے آئی لینڈز پر قبضہ نہیں کرنے دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے غریب عوام اس نالائق، نااہل اور سلیکٹڈ حکومت کا بوجھ اٹھارہے ہیں، تاریخ میں سب سے زیادہ مہنگائی اور غربت ہے، یہ عمران خان اور اس کے سہولت کاروں کی تبدیلی ہے، یہ مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے۔

پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ تاریخی مہنگائی کا سامنا کرتے ہوئے غریب عوام جائیں تو کہاں جائیں؟ کوئٹہ، کراچی یا گوجرانوالہ کے عوام نے ثابت کردیا کہ وہ آزادی اور جمہوریت چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی کوشش ہے کہ ایف سی، ایجنسیوں سمیت ملک کے ہر ادارے کو ٹائیگر فورس میں تبدیل کردیں جبکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ عوام کے ادارے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ عمران خان سندھ پولیس کو بھی اپنی ٹائیگر فورس بنانے کی کوشش کر رہے تھے، میں سیلوٹ کرتا ہوں سندھ پولیس کو جس نے ٹائیگر فورس بننے سے انکار کردیا۔

انہوں نے رکن قومی اسمبلی محسن ڈاور کو کوئٹہ ایئرپورٹ پر روکے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان سے منتخب نمائندے کو کوئٹہ میں داخلے کی اجازت نہیں، کیا اس ملک کے دوسرے صوبے میں جانے کے لیے ویزا چاہیے؟

پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ کیا کسی اور ملک میں یہ مثال ملتی ہے؟ یہ کس قسم کی آزادی ہے، جس میں نہ عوام آزاد ہیں اور نہ ہی سیاست آزاد ہے، عوام بولنے اور سانس لینے کی اجازت چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر شہر اور صوبے سے عوام غائب ہوتے ہیں، اس مطالبے میں ہم سب ایک ہیں کہ لوگوں کے لاپتا کرنے کا سلسلہ ختم کریں۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ آمر پرویز مشرف نے ملک کے لوگوں کو بیچا، میں پوچھتا ہوں کیا اس سے بڑی کوئی کرپشن اور غداری ہوسکتی ہے؟

انہوں نے کہا کہ مشرف کے دورِ حکومت کے بعد ہم اس کے ظلم کی قیمت ادا کرتے رہے، ہم سب کو ایک پیج پر آنا پڑے گا ورنہ ہم سب کو گھر جانا پڑے گا۔

پی پی چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ ملک کی ساری جمہوری جماعتیں نہ صرف اسٹیج پر ہیں بلکہ ایک پیج پر ہیں، ہمارا ساتھ دیں تاکہ ہم ملک کے اداروں، جمہوریت کو بچا سکیں، دنیا کی کوئی طاقت ہمارا راستہ نہیں روک سکتی۔

قومی خبریں سے مزید