آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گستاخانہ خاکوں کے خلاف سینیٹ میں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اسلام آباد(ایجنسیاں)فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف سینیٹ میں مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظورکرلی گئی ۔ قرارداد میں دنیا کے مختلف ممالک کی پارلیمان اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اس طرح کے واقعات کے تدارک کے لئے فریم ورک اور طریقہ کار وضع کریں تاکہ پر امن بقائے اور مذہبی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے جبکہ سینیٹر مشتاق احمد ‘طاہربزنجو‘سراج الحق ‘اعظم سواتی ‘جاوید عباسی ‘ مولانا عطاءالرحمن ‘مشاہداللہ خان ‘فیصل جاوید سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے فرانس میں گستاخانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ محض مذمت کافی نہیں۔

اسلامی ممالک کو مل کر عملی اقدامات سے گستاخی کا جواب دینا ہو گا‘ فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم ‘ فرانسیسی سفیر کو ملک بدر اور فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے‘اس معاملے پر اوآئی سی اجلاس بلایا جائے ‘عالمی عدالت میں فرانس کے خلاف مقدمہ کرنا چاہیے۔ 

پیر کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے اپنی اوردیگرارکان کی طرف سے مشترکہ قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ آف پاکستان اسلام اور مسلمانوں پر آزادی اظہار رائے کے نام پر ہونے والے حملوں اور اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔

ایوان بالا ان واقعات اور نبی کریم کی ناموس پر حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔اس طرح کے قابل مذمت اقدامات بالخصوص جبکہ حکومتوں کی طرف سے ان ارتکاب کیا جائے نہایت خطرناک اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مابین تقسیم کو مزید بڑھاوا دینے والے ہیں۔ 

قرارداد میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حضور نبی کریم کے ساتھ ہماری وابستگی ہر چیز سے بالاتر اور ہمارے عقیدے کا حصہ ہے اور کوئی بھی مسلمان اس طرح کے حملوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔ 

قرارداد کی منظوری کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ فرانس کے صدر نے جو حرکت کی ہے، اس سے ایک ارب 70 کروڑ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

حکومت اس معاملے پر او آئی سی کا اجلاس بلائے اور تمام سفارتی ذرائع بروئے کار لائے جائیں‘یہ تہذیبوں کی جنگ کی طرف لے جائے گا، اس طرح کی حرکات کرنے والے دہشت گردوں کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔

اہم خبریں سے مزید