صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی کا کہنا ہے کہ کوویڈ میں تعلیم کو نقصان ہوا ہے، اب اسکول کھلے ہیں لیکن کچھ نہیں پتہ کہ یہ کب دوبارہ بند ہو جائیں ۔
کراچی میں صوبائی وزیر سعید غنی نے این جے وی اسکول میں این جی او کی جانب سے طلباء میں ٹیبلیٹس تقسیم کرنے کی تقریب میں شرکت کی جہاں ان کاکہنا تھا کہ اس طرز کے بہت سارےاسکول صوبے میں کام کررہے ہیں۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ جو این جی اوز ہمارے ساتھ مل کر تعلیم کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں وہ آگے بڑھیں،صوبے میں 30 سے زائد نئے اسکولوں میں بھی تعلیم کا سلسلہ جلد شروع کیا جائیگا۔
سعید غنی نے کہا کہ سندھ میں 40 ہزار اسکول ہیں، ہمیں کسی این جی او کے رحم کرم ہر نہیں رہنا چاہیے،ہمیں خود بھی آگے بڑھ کر ایسے اسکول بنانے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنیکا کہنا تھا کہ کوویڈ میں تعلیم کو نقصان ہوا، اسکول بند رہے،اب اسکول کھلے ہیں لیکن کچھ نہیں پتہ کے دوبارہ کب یہ اسکول بند ہو جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسکول بند ہوتے ہیں تو ان ٹیبلیٹس کے ذریعے بچے گھر بیٹھ کر آن لائن پڑھ سکتے ہیں،بہت سے علاقوں میں انٹرنیٹ اور دیگر سہولیات نہیں، لیکن 60 فیصدعلاقوں میں ایسا ممکن ہے۔
سعید غنی نے کہا کہ تمام شعبوں کے مقابلے میں اسکولوں میں سب سے زیادہ ایس او پیز کو فالو کیا جارہاہے، کمیٹیز اسکول کے دورے کررہی ہیں،ہمیں تفصیلات اب بھی مل رہی ہوتی ہیں،
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی کمی ہے جسکی وجہ سے مسائل ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ آئی جی پولیس ایشو پر کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے میٹنگ میں کی گئی باتیں ڈسکلوز نہیں کریں گے۔