آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

قومی اسمبلی: سی پیک اتھارٹی کے قیام کے احکام وضع کرنے کا بل قائمہ کمیٹی کے سپرد


قومی اسمبلی نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے قیام کے احکام وضع کرنے کا بل قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا، اس آرڈیننس میں 120 دن کی توسیع کردی گئی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت سے کم و بیش 55 منٹ تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی زیرِ صدارت شروع ہوا تو اپوزیشن کی رکن شگفتہ جمانی نے کورم کی نشاندہی کردی۔

گنتی کے بعد کورم پورا نکلا اور ایوان کی کارروائی باقائدہ طور پر شروع ہوئی۔

مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے قومی اسمبلی میں سی پیک اتھارٹی بل پیش کیا۔

بل کو قانون سازی کے لیے متعلقہ قائم کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

مشیر پارلیمانی امور کی طر ف سے ایوان میں تین آرڈینسز قومی اسمبلی پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی، سرکاری و نجی شراکتی اتھارٹی ترمیمی آرڈیننس اور کاروباری تعمیر نو کمپنیات ترمیمی آرڈیننس مجریہ 2020 میں چار ماہ کی توسیع کی قراردادیں پیش کیں جنہیں منظور کرلیا گیا۔

وفاقی وزیر انسداد منشیات اعظم سواتی کی طرف سے پیش کیا گیا نشہ آور اشیا کی روک تھام ایکٹ میں ترمیمی بل منظور کرلیا گیا۔

نئی ترمیم کے مطابق منشیات کے الزام میں کسی بھی ملزم کو 45 دن تک تحویل میں رکھا جاسکے گا۔

اجلاس میں حکومتی رکن قومی اسمبلی خواجہ شیراز نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں 510 فیصد اضافہ ہوا ہے، یہ ملبہ ماضی کی حکومت پر مت ڈالا جائے، قیمتوں میں کمی کا اعلان کریں۔

ایک اور حکومتی رکن نور عالم خان بولے کہ اس حکومت کے دوران تین مرتبہ دوائیں مہنگی ہوئی ہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ عوام کے لیے دوائیاں مہنگی ہوں اور ہم خاموش رہیں۔

قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سربراہ اور حکومتی رکن اسمبلی ریاض فتیانہ نے کہا کہ اگر کیمیکل کی درآمدی ڈیوٹی کم کردی جاتی تو ادویات کی قیمت میں اضافہ نہ ہوتا۔

انھوں نے مزید کہا کہ کہا گیا تھا پرانی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا مگر اس پر عمل نہیں ہوا۔

ریاض فتیانہ کا کہنا تھا کہ اگر آپ ٹائیگر فورس ہی لگادیتے تو شاید قیمتیں کنٹرول میں آجاتیں۔

وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ حکومت نے فارما سیوٹیکل کمپنیوں کو نکیل ڈالی ہے، اب فارما سیوٹیکل کمپنیاں اپنے طور پر ادویہ کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کرسکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ جن ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے وہ سرکاری اسپتالوں میں سستی اور مارکیٹ میں بلیک میں ملتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 89 ادویات کی قیمتوں میں کمی بھی کی ہے، جن میں کینسر کی ادویات بھی شامل ہیں۔

اپوزیشن کی طرف سے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ایوان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ارکان خواجہ شیراز اور نور عالم نے جس طرح ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ اٹھایا ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ سچ چاہے کوئی حکومتی ایوانوں سے بولے ہم اس کی تعریف کریں گے۔

اجلاس میں اپوزیشن کی طرف سے خواجہ آصف نے بولنے کی کوشش کی تو حکومتی رکن عطا اللّٰہ نے نکتہ اعتراض پر کورم کی نشاندہی کردی۔

کورم پورا نہ ہونے کے باعث پینل آف چیئرمین نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔

قومی خبریں سے مزید