آپ آف لائن ہیں
منگل8ربیع الثانی 1442ھ 24؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گستاخانہ خاکے اور مسلم حکمرانوں کا امتحان

فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے اپنے چیلوں کی طرف سے بنائے گئے گستاخانہ خاکوں کی حمایت کی ہے۔فرانسیسی صدر کے طرز عمل اور ردعمل کے دو مطلب بنتے ہیں۔

ایک تو یہ کہ اس نے ایسی قبیح اور ذلیل حرکت کرنیوالوں کی سرکاری سطح پر پذیرائی کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خود شیطانوں کا سرپرست ہے۔

دوسرا مطلب اس سے بھی زیادہ واضح ہے کہ فرانس کے صدر نے کھلے عام مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں کی غیرت و حمیتِ اسلامی کو للکارا ہے۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ صدر میکرون کو اندازہ ہی نہ ہوکہ اس کے بیان اور خاکے بنانیوالے شیطانوں کے ناپاک اقدام پر مسلمانوں کا کیا ردِ عمل ہوگا؟

اس لئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اپنے چیلوں کے مذموم اقدام کی حمایت کر کے فرانس کے موجودہ صدر نے مسلمانوں کی غیرتِ اسلامی کو چیلنج کیا ہے۔اس پر حسبِ توقع بلکہ یقینی ردعمل مسلمانوں کی طرف سے جاری ہے ۔متعدد مسلم ممالک کے رہنے والوں نے شدید رد عمل ظاہر کیا ۔فرانس کی بنی اشیاء کے بائیکاٹ کے اعلانات کئے جا رہے ہیں۔

پاکستانی عوام اور حکومت نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔فرانسیسی سامان کی خریداری کے بائیکاٹ پر عمل درآمد شروع کردیاگیا ہے۔پاکستان کی تاجر برادری نے فرانسیسی اشیاء کو درآمد نہ کرنے کا اعلان کیا بلکہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فرانس سے ہر قسم کا سامان منگوانے پر سرکاری پابندی لگائی جائے اور تجارت کو مکمل طور پر بند کیا جائے۔

پاکستانی پارلیمنٹ نے متفقہ قرارداد منظور کی جس میں فرانس میں گستاخی کے مرتکب ذلیلوں اور صدر میکرون کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور فرانس سے پاکستانی سفیر کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

پاکستان میں عقیدے سے بالا تر ہو کر تمام علماء نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ فرانس کے ساتھ تمام سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم اور فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔ترکی کے صدر طیب اردوان نے بھی شدید اور عملی رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

دنیا بھر کے مسلمانوں میں اس مذموم واقعہ پر شدید رد عمل کا سلسلہ تو جاری ہے لیکن حیرت انگیز طور پر پاکستان اور ترکی کے علاوہ کسی اورمسلمان حکمران کی طرف سے اس ناپاک واقعہ پر کوئی ٹھوس بیان یا ردِعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

اس صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے مسلمان حکمرانوں کے نام خطوط ارسال کئے ہیں اور ان سے اپیل کی ہے کہ آئیں اور گستاخانہ اور ناپاک حرکتیں کرنے والوں کے خلاف متحد ہو جائیں۔

آئیں ہم سب مل کر ایسے رد عمل کا اظہار کریں کہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کی ناپاک حرکت کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔دوسری طرف فرانسیسی صدر نے بے شرمی اور ڈھٹائی کا ایک بار پھر مظاہرہ کیا اور کہا کہ پاکستان اور ترکی فرانس کے اندرونی معاملات میں دخل دینے سے باز رہیں۔ 

تمام صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ اس بار یہ معاملہ صرف مذمتی قراردادوں،بیانات اور معافی تلافی سے ختم نہیں ہوگا۔ممکن ہے کہ اس واقعہ کے نتائج سنگین صورتحال کا پیش خیمہ ثابت ہو جائیں۔فرانسیسی صدر دنیا کو نفرت،مذہبی تعصب اور انتہا پسندی کی طرف لے جا رہا ہے اور اپنے بیانات سے دہشت گردی،نفرت اور تعصب کی دھماکہ خیز سرنگیں بچھا رہا ہے۔

صدر میکرون نے نہ صرف آزادی اظہار کے نام پر گستاخانہ خاکوں کی حمایت کی ہے بلکہ ان خاکوں کی سرِعام تشہیر کی اجازت بھی دی ہے۔کسی ملک کے صدر کی طرف سے ایسے گھنائونے اقدام کی حمایت اور تشہیر کی اجازت کا کیا مطلب ہےجس کے سنگین نتائج کا بھی صدر میکرون کو علم ہے۔

کیا فرانسیسی صدر کسی منظم منصوبے پر عمل پیرا ہےاور دنیا کو ایسی آگ اور مصیبت کی طرف دھکیل رہا ہےجس کے نتائج نہایت خطرناک اور خوفناک ہو سکتے ہیں۔اس کے بیانات سے فرانس میں مقیم بڑی تعداد میں مسلمانوں کی زندگی خطرات سے دو چار ہو سکتی ہے اور پھر یہ آگ پوری دنیا میں پھیل سکتی ہے۔

صدر میکرون کو اس پر بھی غور کرنا چاہئے کہ اس کے بیانات سے نہ صرف فرانس میں مقیم مسلمانوں کو خطرہ ہو سکتا ہے بلکہ دنیا کے تمام مسلم ممالک میں مقیم فرانس کے شہریوں اور املاک کو بھی شدید خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔فرانس کی معیشت کو بھی بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مسلم حکمرانوں کو خوابِ غفلت سے جاگنا چاہئے اور متحد ہو کر فرانس کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم کرنے چاہئیں اور فرانس کی بنی اشیاء اور تمام متعلقہ سامان کے بائیکاٹ کے سرکاری طور پر اعلانات کرنے چاہئیں۔

یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رکھیں جب تک صدر میکرون مسلمانانِ عالم سے بذریعہ ٹیلی وژن ،اخبارات اور خطوط سرعام معافی نہ مانگےاور گستاخانہ خاکے بنانے والوں اور ان کو شائع کرنے والوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی نہ کرے۔

امریکہ،برطانیہ اور تمام یورپی ممالک کو فرانس کے خلاف اقدامات کرنے چاہئیں کہ فرانسیسی صدر کے بیانات سے جس آگ کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ اس سے کوئی بھی ملک شاید ہی لاتعلق اور محفوظ رہ سکے۔

او آئی سی کو بھی ہنگامی اجلاس طلب کر کے ایسی گستاخانہ حرکتوں کے خلاف سخت اور ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ آئندہ کوئی بد بخت ایسی جرات نہ کر سکے اور نہ کوئی ایسی ناپاک جسارت کرنیوالوں کی حمایت اور حوصلہ افزائی کر سکے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین