• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فیصل واؤڈا کے جواب داخل نہ کرانے پر عدالت برہم


وفاقی وزیر فیصل واؤڈا کی نااہلی کے کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصل واؤڈا کی جانب سے جواب داخل نہ کرانے پر اظہارِ برہمی کیا ہے۔

دورانِ سماعت فیصل واؤڈا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فیصل واؤڈا کی جانب سے عدالتی کارروائی روکنے کی درخواست دائر کی ہے، الیکشن کمیشن میں 4 درخواستیں زیرِ سماعت ہیں۔

جس پر بیرسٹر جہانگیر جدون نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن جا کر کہتے ہیں کہ معاملہ ہائی کورٹ میں بھی چل رہا ہے۔

عدالت نے سوال کیا کہ پہلے یہ بتائیں کہ ہمارے آرڈر کی روشنی میں جواب داخل کرا دیا ہے؟

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ نے الیکشن کمیشن کی آرڈر شیٹس درخواست کے ساتھ کیوں نہیں لگائیں؟

جسٹس عامر فاروق نے فیصل واؤڈا کے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ کورٹ کے ساتھ ہائیڈ اینڈ سیک نہ کھیلیں، آپ الیکشن کمیشن میں بھی نہیں پیش ہو رہے، فیصل واؤڈا کے وکیل اُدھر پیش نہیں ہو رہے اور یہاں بھی یہی کر رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصل واؤڈا کے کاغذاتِ نامزدگی کا ریکارڈ عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ریکارڈ کے ساتھ دہری شہریت نہ رکھنے کا فیصل واؤڈا کا بیانِ حلفی بھی دیا گیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کیس یہ ہے کہ فیصل واؤڈا کاغذاتِ نامزدگی جمع کراتے وقت دہری شہریت رکھتے تھے، 11 جون 2018ء کو بیانِ حلفی جمع کرایا کہ دہری شہریت نہیں رکھتے، شہریت ترک کرنے کی درخواست تو بعد میں 25 جون 2018ء کو منظور ہوئی، اس کا مطلب ہے کہ جب بیانِ حلفی جمع کروایا گیا تو وہ امریکی شہری تھے۔

فیصل واؤڈا کے وکیل نے کہا کہ اس ڈاکیومنٹ کے مصدقہ ہونے پر اعتراض ہے۔


جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اسی لیے آپ کو بار بار نوٹس جاری کر رہے ہیں کہ جواب داخل کرائیں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے کلائنٹ کو نوٹس کر کے یہاں بلائیں؟ آپ جواب میں لکھ دیتے کہ یہ ڈاکیومنٹ جعلی ہے۔

عدالتِ عالیہ نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ پٹیشن سے منسلک ڈاکیومنٹس جعلی ہوں، اسی لیے الیکشن کمیشن سے ریکارڈ منگوایا گیا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کراچی کے ریٹرننگ افسر کے آفس سے ریکارڈ منگوا کر جمع کرایا ہے۔

فیصل واؤڈا کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے اپنے مؤکل سے ہدایات لینے کے لیے کچھ مہلت دی جائے۔

قومی خبریں سے مزید