• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کامیابی کے حصول کیلئے درکار ہنر اور صلاحیتیں

آج کی جدت پسند دنیا اور معیشتوں میں ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے وہ تعلیم اور ہنر درکار ہے، جو ماضی سے مختلف ہو۔ بنیادی اسکلز جیسے خواندگی (Literacy) اور ہندسوں کی پہچان (Numeracy)کے علاوہ ان میں شراکت داری (Collaboration)، تخلیق (Creativity)اور مسائل حل کرنے (Problem-Solving) جیسی صلاحیتوں کے علاوہ مستقل مزاجی (Persistence)، تجسس (Curiosity) اور پیش قدمی (Initiative)جیسی ذاتی خصوصیات ہونی چاہئیں۔

لیبر مارکیٹ میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے طلبا میں ان ہنر، صلاحیتوں اور خصوصیات کے ہونے کو ناگزیر بنادیا ہے۔ آج دنیا بھر کی معیشتیں، تخلیقی صلاحیتوں، جدت پسندی اور شراکت داری پر چلتی ہیں۔ آج ہنرمند نوکریاں (Skilled Jobs) اُلجھے ہوئے مسائل زیادہ سے زیادہ حل کرنے اور دستیاب یا حاصل شدہ معلومات کا مؤثر جائزہ لینے کی صلاحیتوں کے گرد گھومتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ہاتھ سے ہونے والے زیادہ سے زیادہ کام ٹیکنالوجی پر منتقل ہورہے ہیں۔ یہی نہیں، زندگی کے ہر شعبہ میں ٹیکنالوجی ہر گزرتے دن کے ساتھ پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ وارد ہورہی ہے۔

گزشتہ 50سال کے دوران، امریکی معیشت میں دیگر ترقی یافتہ معیشتوں کی طرح عمومی سطح کی نوکریوں کے حجم میں کمی اور اسی تناسب سے ایسی نوکریوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں تجزیہ کرنے اور افراد کے درمیان باہمی تعلقات قائم کرنے کی صلاحیتیں زیادہ درکار ہوتی ہیں۔ ان تبدیل ہوتے رجحانات کے پیچھے کئی قوتیں کارفرما ہیں، جن میں بڑھتی خودکاری (Automation)اور مواد کی کمپیوٹر پر منتقلی (Digitizaion)سرِفہرست ہیں۔

21ویں صدی میں نوکری کے لیے درکار صلاحیتوں میں تبدیلی نے ہنر کی رسد (Skill Supply)میں ایک مسئلہ پیدا کردیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق، 2014ء میں ایک تہائی بین الاقوامی کمپنیوں کو مختلف اسامیوں پر لوگوں کا تقرر کرنے میں مشکلات پیش آئیں، کیونکہ لوگوں میں ان نوکریوں کے حوالے سے مطلوبہ صلاحیتیں موجود نہیں تھیں۔

صلاحیتوں میں کمی کے مسئلے کی طرف ایک اور رپورٹ میں بھی نشاندہی ہوتی ہے۔ ’پروگرام فار دی انٹرنیشنل اَسیسمنٹ آف اَیڈَلٹ کامپی ٹینسیز‘(PIAAC)کے تحت 24ملکوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ ان24ملکوں کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 16فیصد تعلیم یافتہ نوجوانوں میںخواندگی کی مجموعی صلاحیتوں میں کمی پائی گئی جبکہ 19فیصدتعلیم یافتہ نوجوان ہندسوں کی تعلیم میں کمزور ثابت ہوئے۔ ان 24 ملکوں میں اوسطاً صرف 6فیصد نوجوان ٹیکنالوجی سے لیس ماحول میں مسائل حل کرنے کی صلاحیت کے حامل تھے۔

بنیادی خواندگی

بنیادی خواندگی سے مراد طلبا میں روز مرہ کے کاموں کو انجام دینے کے لیے مطلوب بنیادی صلاحیتوں کا ہونا ہے۔ ان ہی صلاحیتوں کی بنیاد پر طلبا اپنے اندر اعلیٰ درجہ کی صلاحیتوں اور ذاتی خصوصیات کو پروان چڑھاتے ہیں۔ ان میں نہ صرف خواندگی اور ہندسوں کے علم کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معیارات شامل ہیں بلکہ سائنسی خواندگی، انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم، مالیاتی تعلیم اور شہری تعلیم بھی شامل ہے۔

ذاتی خصوصیات

ذاتی خصوصیات سے مراد یہ ہے کہ طلبا تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال کو کس طرح لیتے ہیں۔ تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی منڈیوں میں ذاتی خصوصیات جیسے رکاوٹوں کا مستقل مزاجی کے ساتھ سامنا کرنے اور خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کو طویل مدتی کامیابی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے جبکہ نئی سوچ اور اختراعی تصورات کو پروان چڑھانے کے لیے تجسس اور پیش قدمی کو نقطہ آغاز کی حیثیت حاصل ہے۔

مہارت یا اہلیت

مہارت یا اہلیت ان چیزوں کا مجموعہ ہے، جن کی بنیاد پر ایک طالب علم کی پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچا جاتا ہے۔ مثلاً مسائل کو حل کرنے اور تجویز کردہ لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے صورتحال، تصور اور معلومات کی نشاندہی، تجزیے اور اندازے کی صلاحیت غیرمعمولی سوچ(Critical Thinking) کو کہا جاتا ہے۔ مسائل سے نمٹنے کے لیے تصور کرنے، اختراع اور نئے طریقے اختیار کرنے کو تخلیق(Creativity) کہا جاتا ہے۔ مسائل کے حل کے لیے معلومات کو دوسروں تک پہنچانے اور باہمی طور پر مل کر کام کرنے کو شراکت داری (Collaboration) کہا جاتا ہے۔