• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بزرگوں اور خواتین سمیت گلگت بلتستان کے عوام کی بڑی تعداد نے تو اتوار کو انتہائی سرد موسم میں گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہوکر ووٹ ڈال کر جمہوریت پر اپنے اعتماد کا اظہار کرکے ایک تاریخ بنادی، اب یہ منتخب نمائندوں اور وہاں حکومت بنانے والی پارٹی پر منحصر ہے کہ انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کو کیسے پورا کیا جاتا ہے۔

انتخابات کے اعلان سے پولنگ کے دن تک سیاسی ماحول پرامن رہنا گلگت بلتستان کے لوگوں کی سیاسی بالغ النظری کو ظاہر کرتا ہے. گنتی کے بعد البتہ حریفوں میں معمولی لڑائی جھگڑے کے اکا دکا واقعات ہوئے. بالعموم یہی خیال کیا جارہا تھا کہ اسلام آباد میں حکمران پارٹی یعنی تحریک انصاف ہی اکثریت حاصل کرے گی لیکن اس بات نے بہت سوں کو حیران کیا کہ پچھلے دو انتخابات کے برعکس وہ واضح اکثریت حاصل نہ کرسکتی۔

یہ بھی ایک مثبت پیشرفت ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ پارٹیاں الیکشن کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جارحانہ مہم چلائیں تو کیافرق پڑ سکتا ہے. گلگت بلتستان الیکشن کمیشن اور مقامی انتظامیہ کے زیر انتظام ہونے والے ان انتخابات سے سیاسی جماعتیں کیا سبق حاصل کرسکتی ہیں؟ ایک سبق تو یہ ہے کہ الیکٹیبلز بھی ہار سکتے ہیں. اس الیکشن میں بھی کچھ ہارے۔

حتیٰ کہ 2018 کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے پنجاب میں جن الیکٹیبلز کو ٹکٹ دئیے، ان میں سے بھی بعض ہارے. یہ سبق پی ٹی آئی ہی کیلئے ہی نہیں ،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کیلئے بھی ہے. گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے بعض ایسے امیدواروں کو مسترد کردیا جو حال ہی میں میں پارٹی میں شامل ہوئے تھے اور انہیں پرانے کارکنوں پر ترجیح دی گئی۔

یہ ہماری سیاست میں ایک اچھی پیشرفت ہے. پی ٹی آئی نے یقیناً کچھ اچھی روایات پیدا کی ہیں، مثلاً جو چند سال پہلے بعض ایم پی ایز کے ساتھ کیا. گلگت بلتستان میں 2009 اور 2015 کے برعکس اس دفعہ کے الیکشن میں زیادہ جوش و خروش تھا، اس کی وجہ تین بڑی پارٹیوں کے سرکردہ لیڈروں کی وہاں موجودگی تھی. عمران خاں، بلاول بھٹو اور مریم نواز نے وہاں جلسوں سے خطاب کیا۔

بلاول بھٹو سب سے زیادہ سرگرم تھے اور آخر تک وہاں رہے. وہ اب بھی تمام نتائج کو ماننے پر تیار نہیں اور سمجھتے ہیں کہ الیکشن چرایا گیا. ان کے جلسوں کی خاص بات پہلے سے ہٹ کر ان کی فی البدیہہ تقریریں تھیں. مریم نواز نے مہم تاخیر سے شروع کی لیکن کچھ بڑے جلسے کئے. اگرچہ مختلف وجوہ کی بنا پر نتائج مایوس کن رہے. آپس میں سخت سیاسی اختلافات کے باوجود تینوں پارٹیوں نے گلگت بلتستان کو الگ صوبہ بنانے پر اتفاق کیا. الیکشن کے بعد اب یہ وعدہ پورا کرنا ان کا امتحان ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان عبوری صوبہ بنانے کا کہہ چکے ہیں لیکن اس پر مزید بحث کی ضرورت ہوگی کیونکہ لوگ مکمل صوبائی حیثیت چاہتے ہیں. لیکن اسلام آباد اور راولپنڈی دونوں کو آزاد کشمیر حکومت کے تحفظات بھی مدنظر رکھنا ہوں گے. وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے حال ہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے علیحدگی میں ملاقات کی. گلگت بلتستان الیکشن سے پہلے آرمی چیف نے پارلیمانی لیڈروں سے جو ملاقات کی تھی، وہ اس میں بھی شریک ہوئے تھے۔

اس صورت حال میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے اس الزام پر بھی توجہ دینا ہوگی کہ الیکشن چرایا گیا. پیپلز پارٹی ریس میں تحریک انصاف اور آزاد امیدواروں کے بعد تیسرے نمبر پر ہے. پیپلز پارٹی نے سخت مقابلہ کیا. اکثر حلقوں میں ووٹوں کا بہت کم فرق ہے۔

نتائج سے ظاہر ہے کہ 2009 اور 2015 کے برعکس کوئی واضح فاتح نہیں ہے. 2009 میں پیپلزپارٹی نے14 اور 2015 میں مسلم لیگ ن نے16 نشستیں جیتی تھیں. اب 2020 میں تحریک انصاف نے 10،پیپلز پارٹی نے3، آزاد امیدواروں نے7، مسلم لیگ ن اور مجلس وحدت المسلمین نے ایک ایک نشست حاصل کی ہے. کچھ نشستوں پر تنازعات بھی ہیں. الیکشن نتائج کو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں نے مسترد کردیا. صورت حال پر آصف علی زرداری اور نواز شریف نے فون پر صلاح مشورہ بھی کیا۔

پی ڈی ایم کا جلسوں اور اسلام آباد مارچ کا پروگرام بھی ہے. بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز ایک سخت بیان میں یہ دھمکی دی کہ ان کی شکایات دور نہ کی گئیں تو وہ گلگت سے اسلام آباد مارچ کریں گے. پی ڈی ایم نے اپنے منگل کے اجلاس میں گلگت بلتستان انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں 2018 کے انتخابات کا ایکشن ری پلے قرار دیا۔

تاہم بیشتر آزاد مبصرین نے الیکشن کو آزادانہ اور منصفانہ قراردیا اگرچہ یہ شکایت کی گئی کہ جی بی الیکشن کمیشن انتخابی مہم کے دوران وفاقی وزیروں کو جلسوں سے روک کر اپنی رٹ قائم نہ کرسکا. ہماری سیاسی کلاس سیاسی نظام کی اصلاح میں ناکام ہے. وہ الیکشن بازی سے نکل کر کوئی سنجیدہ کام نہیں کرتی. افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ ڈھائی سال میں پارلیمنٹ میں کوئی اتفاق رائے نہ ہوسکا۔

اس سے پہلے اٹھارویں ترمیم کے وقت انہوں نے کچھ کام کیا مثلاً عبوری حکومت اور چئیرمین الیکشن کمیشن مقرر کرنے کا طریق کار طے کیا گیا لیکن یہی کافی نہیں. حکومت اور اپوزیشن دونوں میرٹ کی بجائے اپنے پسندیدہ افراد کا تقرر چاہتی ہیں. وزیر اعظم عمران خان کی انتخابی اصلاحات کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے، بالخصوص بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کے بارے میں. لیکن سینیٹ الیکشن شو آف ہینڈز کے ذریعے کرانے سے کی ترمیم سے ہارس ٹریڈنگ یقیناً بہت کم ہوجائے گی جو ہماری سیاسی روایت بن چکی ہے۔

وزیراعظم نے اصلاحات پر اپوزیشن کو بات چیت کی دعوت بھی دی ہے لیکن اپوزیشن پہلے ہی حکومت سے کسی قسم کی بات چیت کو مسترد کر چکی ہے اور حکومت گرانے کی تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے. اس سب کا نتیجہ تصادم ہوگا اور آئندہ ہفتے سیاسی واقعات کے لحاظ سے اہم ہوں گے. اسی طرح جی بی الیکشن سے پہلے سیاسی پارٹیوں کے پاس وہاں کے الیکشن کمیشن کی اصلاح کیلئے کافی وقت تھا. لیکن کسی نے سنجیدگی سے یہ معاملات نہیں اٹھائے اور انتخابات کا اعلان ہوگیا۔ ہم ابھی اتنے بالغ النظر نہیں ہوئے کہ انتخابی نتائج قبول کرسکیں۔

 اگرچہ کبھی اس کی جائز وجہ بھی ہوتی ہے. ماضی میں الیکشن سے پہلے اور بعد انجنئیر نگ کے تنازعات رہے ہیں. لیکن ان میں سے کوئی بھی پارٹی اقتدار میں آئی ہے تو کوئی اصلاحات اور بہتری نہیں لائی. ایک اور فیکٹر جو متاثرین کو عدالتوں اور الیکشن ٹربیونل میں جانے سے روکتا ہے وہ درخواستیں نمٹانے میں تاخیر ہے. قانون کے مطابق الیکشن ٹربیونل کو چار ماہ میں فیصلہ کردینا چاہئیے لیکن اس میں سال لگ جاتے ہیں۔

 روایت یہی ہے کہ اسلام آباد میں برسراقتدار جماعت کو ہی آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور پہلے فاٹا میں الیکشن میں برتری حاصل ہوتی رہی ہے. تو اس بار ہم کسی آپ سیٹ کی توقع کیوں کررہے تھے. بہت سوں کواس بات پر حیرت ہوئی کہ وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کو الیکشن میں بہت مشکل پیش آئی اور سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑا. تحفظات کو الگ رکھیں۔

 بظاہر الیکشن میں کوئی سنگین شکایات نہیں . دو تین نشستوں پر ممکن ہے کچھ گڑبڑ ہوئی، اگرچہ گلگت بلتستان میں یہ بھی بہت ہے. لیکن اس سب کیلئے شواہد چاہئیں. ہر پارٹی اور امیدوار کواحتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا حق ہے لیکن مستقبل کیلئے دیکھیں تو سیاسی جماعتیں فوری اور مختصر مدتی فوائد کی بجائے نظام کی اصلاح کیلئے سنجیدہ کوششیں کریں، سیاسی انجنئیر نگ روکنے کیلئے اقدامات کریں اور شکست تسلیم کرنا شروع کریں. ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان میں جمہوریت قائد اعظم کے ویژن سے بہت دورمحض خواب وخیال رہ جائے گی۔

اہم خبریں سے مزید