• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کچھ دیر لئے یہ تصورکرنا مشکل ہورہا تھاکہ میں اس وقت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں واقع عالمی شہرت یافتہ ٹوکیو یونیورسٹی میں موجود ہوں یا پاکستان کے چند بہترین تعلیمی اداروں میں سے ایک کراچی یونیورسٹی میں ، میرے سامنے اس وقت پبلک ایڈمنسٹریشن کا شعبہ تھا ، ایک خوبصورت اور اعلیٰ معیار کی بہترین عمارت جہاں داخل ہونے سے قبل داخلی دروازے کے دونوں جانب بہترین لان تیار کیا گیا تھا جہاں ہری بھری گھاس اور اس کے درمیان پھولوں کی خوبصورت کیاریاں موجود تھیں ،جو بلاشبہ طالب علموں اور اساتذہ کرام کو ذہنی آسودگی فراہم کرتی ہونگی ، داخلی دروازے سے عمارت میں داخل ہوتے وقت وہاں موجود طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد انتہائی عزت احترام کیساتھ راستہ دے رہے تھے ، جو بلاشبہ اساتذہ کرام کی تعظیم کی بھی بہترین مثال تھی ، یہ تعظیم میرے ساتھ موجودکراچی یونیورسٹی کے ہردلعزیز استاد اور فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے ڈین ڈاکٹر خالد عراقی کیلئے تھی جن کے سبب ہم بھی اساتذہ کرام کو ملنے والی اس عزت و تکریم سے بہر ہ مند ہورہے تھے ، اساتذہ کرام کی عزت و تکریم جس قدر جاپان میں ہے وہ دنیا میں شاید ہی کسی ملک میں ہو ، لیکن اگر استاد شاگردوں کو پوری توجہ دے اور ان کی فلاح وبہبود کو فوقیت دے تو پھر ملکوں کی اہمیت نہیں رہتی اور کراچی یونیورسٹی میں بھی بہترین اساتذہ کو جاپان جیسی اہمیت ہی حاصل رہتی ہے جو اس وقت میرے مشاہدے میں تھی اوربلاشبہ یہ ہمارے مذہب کی بنیادی تعلیمات میں سے بھی ہے، اس روز کراچی یونیورسٹی میں میری آمد شعبہ ماس کمیونیکیشن میں طالب علموں کو، جاپان میں صحافتی اقدار، کے حوالے سے لیکچر دینے کیلئے ہوئی تھی لیکن کچھ مشترکہ دوستوں کے توسط سے میری ملاقات ڈاکٹر خالد عراقی سے بھی ہوگئی ، پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی کراچی یونیورسٹی میں اپنی خدمات کے حوالے سے کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ، ڈاکٹر عراقی فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے ڈین ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی یونیورسٹی کے سیکورٹی ایڈوائزر بھی ہیں ، ساتھ ہی وہ ایک طویل عرصے سے ڈائریکٹر ایڈمیشنز کی ذمہ داریاں بھی نبھارہے ہیں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کی تیار کردہ داخلہ پالیسیوں کے تحت کراچی یونیورسٹی میں تعلیمی معیار میں بھی کافی بہتری آئی ہے جبکہ ڈاکٹر خالد عراقی کو ان کی خدمات کے پیش نظر گورنرسندھ کی جانب سے کراچی یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ کا رکن بھی بنایا گیا ہے، اور آج میں ان کے ساتھ ہی ان کے کیمپس میںاس تعلیمی ادارے کے معیارتعلیم کا مشاہدہ کررہا تھا ، اب ہم کلاس رومز کی جانب آچکے تھے ،ایک طویل عرصے بعد پاکستان کے کسی سرکاری تعلیمی ادارے میں آنا ہوامیرے ذہن میں جو سرکاری یونیورسٹی کا خاکہ تھا حقیقت اس کے برعکس تھی۔ پبلک ایڈمنسٹریشن کے اس کیمپس میں لیکچرز روم انتہائی کشادہ اور بہترین فرنیچر سے آراستہ تھے ، جہاں اساتذہ کیلئے بہترین ڈائس اور سفید بورڈ آویزاں تھا ، طالب علموں کیلئے خوبصورت نشستیں موجود تھیں جبکہ کمرے کے ایک کونے پر ڈسٹ بن یعنی کچرا دان بھی نظر آیا جو اس بات کی علامت تھی کہ کلاس میں صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ، اس شعبے میں کہیں بھی کسی بھی سیاسی جماعت یا طلبہ تنظیم کا عمل دخل نہیں تھا جو اس بات کی علامت تھی کہ یہاں طالب علموں کا اصل مقصد تعلیم ہی تھا سیاست نہیں ، کلاس رومز کے بعد لائبریری دیکھی اور کمپیوٹر لیب بھی جدید کمپیوٹرز کے ساتھ موجو د تھی ، یہ کالم ان پاکستانیوں کیلئے بلاشبہ باعث فخر ہوسکتا ہے جو پاکستان کو ہمیشہ منفی نظروں سے دیکھتے ہیں اور پاکستان کے مستقبل سے ہمیشہ مایوس نظر آتے ہیں ، سرکاری سطح پر ایسی بہترین سہولتیں اور اعلیٰ معیار کی تعلیم کی انتہائی کم نرخوں پر فراہمی بلاشبہ قابل فخر ہے ، ایک اور حیران کن بات جو مجھے ڈاکٹر خالد عراقی سے ہی معلوم ہوئی کہ وہ یہاں کے طالب علموں سے پندرہ ہزار روپے فی سمسٹر وصول کرتے ہیں یعنی تین ہزار روپے مہینہ اور اس رقم میں یہاں کے طالب علموں کو بزنس ایڈمنسٹریشن اور پبلک ایڈمنسٹریشن میں بیچلرز اور ماسٹرز کی تعلیم فراہم کرتے ہیں اور اتنی کم فیسوں کے باوجود ان کا شعبہ نہ صرف اپنی مالی ضروریات پوری کرنے میں خود کفیل ہے بلکہ یونیورسٹی کو بھی بھاری مالی وسائل فراہم کررہا ہے، اس ادارے سے تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات میں سے اٹھانوے فیصد کو تعلیم مکمل کرتے ہی ملک کے بہترین اداروں میں ملازمتیں مل جاتی ہیں ، ڈاکٹر خالد عراقی کی جانب سے ملنے والی تفصیلات کو سنتے ہی میرے ذہن میں جو پہلا خیال آیا وہ ان اسکولوں کے بارے میں تھا جہاں دس سے پندرہ ہزار ماہانہ فیس وصول کی جاتی ہے جبکہ وہ نجی یونیورسٹیاں جہاں لاکھوں روپے فی سمسٹر بطور فیس وصول کی جاتی ہے ، یہ نجی تعلیمی غیر معیاری تعلیم فراہم کرکے بھی کروڑوں کا منافع کمارہے ہیں ،حالانکہ کراچی یونیورسٹی کے فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے تین ادارے اتنے کم اخراجات میں طالب علموں کو بہترین تعلیم فراہم کرنے میں کوشاں ہیں جس کیلئے بلاشبہ اس ادارے کے اساتذہ کرام اور سربراہ مبارک باد کے مستحق ہیں ، دورے کے اختتام پر میں نے ڈاکٹر خالد عراقی اور دیگر اساتذہ کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھیں خدا حافظ کہاجس کے بعد اگلے دن کی فلائٹ سے میں واپس جاپان پہنچ گیا ، مجھے جاپان کے نظام تعلیم کو بھی انتہائی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے ، صرف ٹوکیو میں ایک ہزار سے زائد یونیورسٹیاں موجود ہیں ، جاپانی عوام سو فیصد تعلیم یافتہ ہیں لیکن جاپان میں لاتعداد یونیورسٹیوں کے قیام اور عوام کو سو فیصد تعلیم یافتہ بنانے میں سب سے اہم کردار حکومت کا ہے ، جاپان کی حکومت اپنے مجموعی بجٹ کا چار فیصد جو اربوں ڈالر میں بنتا ہے مختص کرکے اس سلسلے میں اپنا کردار بہترین طریقے سے ادا کررہی ہے ، جاپان میں سرکار کی جانب سے یونیورسٹیوں کے قیام کیلئے ایک وسیع رقبہ مختص کیا جاتا ہے جہاں بہترین عمارتیں قائم کرنا ، بہترین اساتذہ کی فراہمی اور ایک ایسا ماحول فراہم کرنا جہاں طالب علم یکسوئی سے علم حاصل کرسکیں سب حکومت کا کام ہے ، تاہم سب سے اہم چیز ادارے کے سربراہ کا تقرر ہوتا ہے جس کیلئے جاپان میں صرف میرٹ کو ہی فوقیت دی جاتی ہے کیونکہ ادارے کا سربراہ ہی ادارے کی پالیسیاں مرتب کرتا ہے اور ادارے کی سمت کا تعین کرتا ہے ۔پاکستان میں بھی اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کے بہترین ادارے موجود ہیں لیکن سب کچھ اچھا نہیں ہے جس کیلئے حکومت وقت کو سنجیدگی سے فیصلہ کرنا ہوگا کہ قوم کو تعلیم یافتہ بنانا ہے تو پھر تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا اور پاکستان میں تعلیم کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لانا ہوگی بصورت دیگر پاکستان کو سو فیصد تعلیم یافتہ قوم بنانا صرف ایک خواب ہی رہ جائے گا۔
تازہ ترین