• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی پولیس کی ناردرن بائی پاس پر باڑ لگانے کی تجویز


کراچی پولیس نے ناردرن بائی پاس پر باڑ لگانے کی تجویز نیشنل ہائی وے اتھارٹی( این ایچ اے) کو دے دی ہے۔

ایک خط میں پولیس حکام نے این ایچ اے کو یہ تجویز دی، خط کی کاپی جیو نیوز نے حاصل کرلی ہے۔

حکام نے بتایا کہ شہر سے چھینی اور چوری کی گئی گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں ہوں یا اسمگلنگ کا روٹ، دہشت گردوں کی آمد و رفت ہو یا اغوا برائے تاوان کی وارداتیں، زیادہ تر جرائم کی کڑیاں اسی راستے سے ملتی ہیں۔

حکام کے مطابق 10 مہینوں میں 1500 گاڑیاں اور 32 ہزار موٹرسائیکلوں سے کراچی کے شہریوں کو محروم کیا جاچکا ہے۔


ان حقائق کے پیش نظر پولیس حکام نے ناردرن بائی پاس پر باڑ لگانے کی تجویز پر مبنی خط این ایچ اے حکام کو لکھ دیا ہے۔

تجویز ایس ایس پی اے وی ایل سی کی جانب سے سینئر حکام کو دی گئی۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ شہر سے چھینی اور چوری کی گئی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی اسی روٹ سے اسمگلنگ ہوتی ہے۔

خط کے مطابق دہشت گردی، اغوا برائے تاوان یا کراچی میں ہونے والا کوئی بھی جرم ہو، ان میں سے بیشتر کی کڑیاں ناردرن بائی پاس کے بعد بلوچستان سے ملتی ہیں۔

ناردرن بائی پاس کا دوسرا حصہ جرائم پیشہ عناصر کی آمد و رفت کا راستہ رہا ہے، جرائم روکنے کے لیے پولیس پٹرولنگ یونٹس اور مستقل چوکیاں بھی موجود ہیں، لیکن نفری اور وسائل اتنے نہیں کہ مکمل ناردرن بائی پاس کو کور کیا جاسکے۔

اب تک صرف دس مہینوں میں 1500 گاڑیوں جبکہ 32 ہزار موٹرسائیکلوں سے شہریوں کو محروم کیا جاچکا ہے۔

خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ ندی کے خشک حصے سے گاڑیاں بھی بغیر ٹول کے بلوچستان میں آتی اور جاتی رہتی ہیں۔

اس فینسنگ سے نہ صرف جرائم روکنے میں مدد ملے گی بلکہ ٹول ٹیکس میں بھی اضافہ ہوگا۔

قومی خبریں سے مزید