آپ آف لائن ہیں
اتوار10؍جمادی الثانی 1442ھ 24؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

برطرفیاں، اسٹیل ملز کے ملازمین نے احتجاج کی حکمت عملی تیار کرلی

کراچی(رپورٹ/رفیق بشیر)پاکستان اسٹیل سے ایک حکم نامہ کے تحت چار ہزار سے زائد ملاز مین کو برطرف کرنے پر ملاز مین نے احتجاج کی حکمت عملی ترتیب دی ہے،جبکہ انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان اسٹیل کی نج کاری کرنے کیلئے اس طرح کے اقدامات اٹھارہی ہے، پاکستان اسٹیل کو کوڑیوں کے مول فروخت کرنے کی سازش ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق جمعہ کو پاکستان اسٹیل کے ترجمان کی جانب سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں پاکستان سے چار ہزار سے زائد ملاز مین کی برطرفی کا حکم جاری کیا ہے، جبکہ پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کی جانب سے برطرف ملاز مین کی کوئی فہرست نہیں بنائی جاسکی۔ جبکہ ذرائع کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں برطرفی کے احکامات تیار کرنے کیلئے وقت درکار ہے۔

تاہم ایک حکم نامے کے تحت کون برطرف ہوا ہے کون نہیں کسی کو علم نہیں ہے، اس سلسلے میں نام اور عہدے کے تحت برطرف کی کوئی فہرست مرتب نہیں کی گئی ، پاکستان اسٹیل پر پہلے ہی 305 ارب روپے سے زائد کے قرضے ہیں جبکہ گولڈن شیک ہینڈ اسکیم کے تحت حکومت مزید 3 سو ارب روپے کے قرضے لینے ہونگے ، پاکستان اسٹیل نے ملاز مین کے پہلے ہی 53ارب کے واجبات ہیں جو انتظامیہ کے ریٹائرڈ ملازمین کے ہیں۔ 

انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان اسٹیل کو ڑیوں کے مول فروخت کرنے کیلئے کیا گیا ہے ، اس فیصلے سے پاکستان کی شیئر ویلیو اور بک ویلیو کم ہوگی جس سے پاکستان اسٹیل کے خریدار کو فائدہ پہنچے گا،جبکہ ملاز مین کا کہنا تھا کہ صدر پاکستان عارف علوی ، وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر اسد عمر نے اقتدار میں آنے سے پہلے پاکستان اسٹیل کو بحال کرنے کا منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا ، تاہم وفاقی حکومت نے 28ماہ میں پاکستان اسٹیل کو بحال بنانے کا منصوبہ پیش نہ کرسکی اور ہزاروں ملازمین کو برطرف کردیا۔ 

ایک ملازم نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں معلوم میں نوکری پر ہوں یا برطرف کردیا ہے ، اس صورتحال میں ملاز مین نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان اسٹیل سے ہزاروں کی تعداد میں ملاز مین کی بر طرفی کی خبر میڈیا پر آنے کے بعد ملاز مین میں افراتفری اور تشویش کی لہر دوڑ گئی اوربڑی تعداد نے ایک دوسرے کوکو فون کرکے اس سلسلےمیں تفصیلات معلوم کیں جبکہ کئی ملاز مین کو ریٹائرمنٹ کے قریب تھے۔ 

انہوں نے وفاقی حکومت کو اس فیصلے بد دعائیں دیں، ملاز مین کا کہنا تھا تھا کہ لوگوں کو روزگار دینے کا اعلان کرنے والے وزیر اعظم نے بے روزگاری مہم شروع کردی ہے۔

اہم خبریں سے مزید