آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لفظی بازیگری

مشیر خزانہ نے جو اعدادوشمار پیش کئے ہیں، وہ پڑھ کر دل شکوہ، جواب شکوہ جیسی صورتحال کا شکار ہو جاتا ہے، بہرحال آ ہی جائے گا قرار ایک دن، گھبرانا نہیں، مفلس کیلئے بازار اب بھی گزرگاہ ہے خریدنے کی جگہ نہیں، میٹنگ میں انہوں نے تنخواہ، مراعات اور پنشن بارےبھی فرمایا کہ انہیں راہ پر لانا ہو گا تاکہ خزانے پر بوجھ کم ہو، یہ وہ بات ہے جس سے تنخواہ دار طبقے اور بالخصوص بزرگ پنشنرز کو درد قولنج لاحق ہو سکتا ہے، مشیر خزانہ کے انداز میں نہ جانے کونسا سحر ہے کہ ان کے وار سے زخم آتا ہے نہ خون نکلتا ہے، بہرصورت وہ جو کریں جو کہیں ہمیں تو اچھے لگتے ہیں کہ ان کی گھمبیرتا سے دل کو قرار سا مل جاتا ہے، یہ حسین جبر، عددی بازیگری میں ان کا کامل ہونا ہے، قیمتوں کو کم کرانے اور سطح یکساں رکھنے میں حکومت تاجروں ، دکانداروں کے سامنے بےبس ہے۔ ہم نے کبھی کسی مجسٹریٹ کو "On Check" نہیں دیکھا، بجلی اتنی مہنگی کہ بے وقت کی لوڈشیڈنگ کے دوران بھی کرنٹ مارے، گویا رگِ تاک اور رگِ برق میں ایک سا نشہ ہے۔ خان صاحب ہر حال میں اپوزیشن پر برستے ہوئے لگتے ہیں کتنے پیارے، قوم مطمئن ہے کہ وہ متقی ہیں، گویا ان کو ڈبل فائدہ ہے کہ لطف حکمرانی کے ساتھ نوافل کا حظ بھی اٹھاتے ہیں ۔72سال ہو گئے کہ ہم فقیروں کو ہندسوں کے چڑھائو سے بہلایا جا رہا ہے مگر اب تو حد ہو گئی یارو صبا سے کچھ تو کہو کہ ہوائے معیشت خوشگوار چلے، تاکہ بندہ مزدور بھی کہہ اٹھے؎

کوئی کرکے بہانہ قیمتاں گھٹا

راتاں آگئیاں چانڑیاں

٭٭ ٭ ٭ ٭

ایک جرم اور سہی

جرائم کی نیرنگی اور تنوع میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے، خبروں میں لمحہ بہ لمحہ ایک وکھری ٹائپ کے جرم کی خبر ملتی ہے ۔سائبر کرائم وہ نیا جرم ہے جو اکھاڑ پچھاڑ میں یکتا ہے اور لوٹ مار کا بازار گرم کئے ہوئے ہے، چلو اس جرم کو سہنے یا کرنے میں شامل ہو جاتے ہیں، حکمرانوں نے تو دونوں صورتوں میں کچھ نہیں کرنا کہ اور مزا آتا ہے جرموں میں جب جرم ملیں، انگریزی کے حروف تہجی کو آگے پیچھے کرکے کتنے ہی سہ حرفی محکمے کام کر رہے ہیں بیکاری کا، ایف آئی اے کا ایک بازو سائبر کرائم کو ڈیل کرتا ہے، ایک معصوم سے شہری نے ایف آئی اے کی ہیلپ لائن پر اطلاع دی کہ میں ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے آپ کو اطلاع دیتا ہوں کہ فلاں نمبر سے مجھے مسلسل تنگ کیا جا رہا ہے ، طریقہ واردات کی تمام تفصیلات انڈوں پر بیٹھے گرم کمرے میں موجود ایک بااختیار آفیسر کو فراہم کر دی گئیں اس نے ایک اور نمبر دیا کہ اس پر رابطہ کرو، ذمہ دار شہری نے اس نمبر کو آزمایا اس کا انجام بھی ’’بس کا لا جوڑا پایا ‘‘ جیسا ہوا، کچھ دنوں بعد ذمہ دار شہری کو سائبر کرائم ونگ سے فون آیا‘ آپ کی اطلاع ناقص ہے، آپ نے مکمل شواہد پیش نہیں کئے‘ اس لئے یہ شکایت ناقابل شنوائی ہے۔ کہئے یہ اس ونگ کی رسوائی ہے یا عزت افزائی، اب ذمہ دار شہری جو اِکا دُکا رہ گئے ہیں، وہ بھی ناپید ہو جائیں گے اور سائبر کرائم روکنے والے مزید انڈے بچے دیں گے، کیا اس سے قومی خزانے پر بوجھ نہیں پڑے گا؟ البتہ بزرگ شہری کی ناکافی پنشن سے خزانہ بیٹھ جائے گا۔ اچھا ہے کہ اینٹی سائبر کرائم والے فارسی معقولے برایں عقل و دانش بباید گریست کا کسی عالم سے ترجمہ کروائیں اور خراجِ تحسین حاصل کریں۔ نظام حکومت کے ہر موڑ پر یہ پیچیدگیاں آخر کیوں؟

٭٭ ٭ ٭ ٭

خوش آمدید کرونا !

وہ کرونا کو خوش آمدید کہتے ہیں کہ کس قدر بروقت آیا اور دوسرا اس لئے سواگت کرتے ہیں کہ بھلے کسی کی جان جائے پر حصول اقتدار کے امکانات روشن رہیں، عوام دونوں کو خوب جانتے ہیں اس لئے دونوں کو اس طرح سے راضی رکھنے پر بقول غالب مجبور ہیں؎

دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی

دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی

آپ میں سے کسی نے ’’دونی‘‘ (دو آنے کا سکہ) دیکھا ہے ؟اگر ایسا ہے تو پچھلے دنوں ایک دونی چہرے نے ماسک نہیں پہنا تھا پر ’’انہوں‘‘ نے بھی کچھ نہ کہا، شاید کچھ کہہ بھی گئے ہوں، سوشل میڈیا پر دھوم ہے کہ پاکستان نے فائزر سے ویکسین کا سودا کر لیا ہے، مگر کرونا کے تو ہزار چہرے ہیں کسی کو کونسا چہرہ ڈھیر کر دے، لہٰذا گزارش ہے کہ ’’سو گلاں دی اکو گل‘‘ کے مصداق ایس او پیز پر مکمل عمل کیا جائے، جب کرونا آواز لگا رہا ہے کہ مجھ سے پردہ کرو کہ دیکھ نہ سکو گے تو اچھا ہے کہ ہم اس کا سامنا نہ کریں یہی حتمی اور جامع ویکسین ہے، دنیائے طب میں اب تک احتیاط سے بڑا علاج دریافت نہیں ہوا، ڈرانا بھی ٹھیک نہیں، تدابیر بتانا ضروری ہے۔ خان صاحب بھی اس کے منکر تھے، وہ بھی ایمان لے آئے، کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے، عوام الناس ابھی تک باہر سے لائی گئی چیزوں کو ڈس انفیکٹ کرنے سے واقف نہیں، میڈیا ڈیمانسٹریشن دے، یہ کارِخیر ہے، توبہ بھی کرتے رہیں کہ انسانیت سے کچھ تو ایسا ہوا ہےکہ یہ بلا نازل ہوئی ہے ۔

٭٭ ٭ ٭ ٭

گوری چلی پیا کے دیس رے

٭لاک ڈائون کے ساتھ لک ڈائون سے بھی کام لینا چاہئے کہ عجزو نیاز سے سرکش محبوب مان جاتا ہے کرونا کیا چیز ہے۔

٭پاکستان اسٹیل ملز کے چار ہزار پانچ سو چوالیس ملازمین یک جنبشِ قلم برطرف کر دیئے گئے‘ یہ روزگار دینے آئے تھے اب یہ بیٹھے بٹھائے ہزاروں ملازمین کے بچے کیا کھائیں؟ بہتر ہے کہ ان تمام ملازمین کو دیگر محکموں میں کھپا دیا جائے، یہ کام کر جائیں آپ کا کام ہو جائے گا وگرنہ ....

٭بختاور بھٹو کی منگنی ان کو مبارک، زرداری کے چہرے پر بڑی دیر بعد حقیقی مسکراہٹ دکھائی دی گھر بسائو گھر نہ اجاڑو کہ یہ خدائی کاموں میں مداخلت ہے۔

٭ ٭ ٭ ٭ ٭

تازہ ترین