آپ آف لائن ہیں
اتوار3؍جمادی الثانی 1442ھ 17؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سب کچھ ﷲ توکل چل رہا ہے، حکومت کو لے لیں، حکومت نہ حکومتی رٹ، ضُعف جگر کی ماری ہوئی، جو کہے وہ کرے نہ، جو کرے وہ کہے نہ، کوئی مافیا کنٹرول میں نہیں بلکہ مافیا ز کے کنٹرول میں، مسائل، مصائب کی بھرمار، کوئی حل نہیں، حکمت عملی یہ، تب تک کسی مرض کی طرف دیکھنا بھی نہیں جب تک مرض لاعلاج نہ ہو جائے، تب تک کسی مسئلے کوحل کرنے کی کوشش نہیں کرنی جب تک وہ مسئلہ حل کرنے کے قابل نہ رہے، صبح وشام آگ لگانے، آگ بجھانے میں مصرو ف حکومت بہت کام کی ہوتی اگر ٹوئٹر نہ ہوتا، حکومت کو بھولنے کی بیماری، یہ بھی بھول چکی کہ کیا کرنے آئی تھی، حکومت کا محبوب مشغلہ لڑنا، جس دن کوئی لڑنے کیلئے نہ ملے، اس دن خود سے لڑ پڑے، جو کچھ نہ کرسکے یا جو غلط کر دے وہ اسٹیبلشمنٹ پر ڈال دے، مستقبل کی غلطیاں بھی ماضی کی حکومتوں کے کھاتے میں ڈالنے کی خواہش مند حکومت کو جو شے سمجھ میں نہ آئے وہ سمجھانے لگ جائے، حکومتی اتحاد کو دیکھیں، کل کے مخالف آج حکومت میں، بس فرق یہ، کل یہ سب اعلانیہ ایک دوسرے کے مخالف تھے، آج غیر اعلانیہ مخالف، حکومتی پالیسی، ہر نالائق کو ایک موقع اور دو، اور اگر وہ پھر بھی نالائق ہی نکلے تواسے کسی دوسرے نالائق کے ساتھ بدل دو، جتنا نالائقوں کا موجودہ حکومت نے خیال رکھا، گزرے 73برسوں میں کسی حکومت نے نہیں رکھا، نالائق پروری میں حکومت کا کوئی ثانی نہیں، حکومت دوراندیش کتنی، ایک مثال حاضرِ خدمت، انڈے آج مہنگے ہوئے، وزیراعظم نے سال بھر پہلے کہہ دیا تھا کہ مرغیاں پال لیں، حکومت بہت کچھ کرنا چاہتی ہے، بس صرف یہ پتا چل جائے کہ کرنا کیا ہے،حکومت کی خواہش ہر برائی کو جڑ سے ختم کیا جائے، اسی لئے جب سے آئی تب سے اپنی جڑیں کاٹ رہی اور کیفیت کچھ ایسی کہ بقول شاعر:

اُلجھن کیا بتاؤں میں تمہیں اپنے دل کی

عمر جینے کی ہے اور خواہش مرنے کی

سب کچھ ﷲ توکل چل رہا ہے، اپوزیشن کو لے لیں، جب سے کائنات بنی، تب سے آج تک سب مخالفین کو اکٹھا کر دیں، اپنی اپوزیشن بن جائے، مکس اچار، مگر اُلی زدہ، ایکسپائرڈ اچار، اپوزیشن اتحاد دیکھ کر بندہ سوچے اگر یہ ملک ٹھیک کرنے نکلے ہیں تو ملک خراب کس نے کیا تھا، اپوزیشن اتحاد میں کوئی چیز مشترک نہیں سوائے اس کے کہ سب نے عمران خان کو ہٹانا ہے، خود اقتدار میں آنا ہے، سب کی خواہش کسی دن صبح اٹھیں، عمران خان استعفیٰ دے چکا ہو، نیب ختم ہوچکا ہو، یہ ایک دوسرے کے اتنے ہی خلاف جتنے عمران خان کے، یہ ایک دوجے کے خلاف اتنا بول چکے کہ اب ان میں سے اکثر کی ایک دوسرے سے بول چال بند، انہوں نے اتنا مال اکٹھا کر لیا کہ اب گھروں میں عزت رکھنے کی بھی جگہ نہ رہی، انہیں بخوبی علم پاکستان کے مسائل کیا، مگر حل کیا، یہ نہیں پتا، اپوزیشن کو عمران خان سے ایک گلہ یہ بھی کہ ہم ایک دوسرے کے ازلی وابدی مخالف تھے، تم نے ہمیں اکٹھا کر دیا اور ایسا اکٹھا کر دیا کہ بھٹو اور ضیاء کو اتحاد کرنا پڑا، مفتی محمود اور باچاخان کا میلا پ مجبوری بنا، عبدالصمد اچکزئی اور مسلم لیگ ایک ہونے پر مجبور ہوئے، اپوزیشن بے روزگار اور بے کار بیٹھی ہوتی اگرحکومت عمران خان کی نہ ہوتی،جس حساب سے عمران حکومت غلطیاں کررہی، یوں لگے اپوزیشن ایک دن بھی بیکار نہیں بیٹھے گی، اپنی اپوزیشن وہ بینڈ گروپ جو ملک کا بینڈ بجاکر اب بینڈ بجارہی کہ ملک کا بینڈ بج گیا، دنیا کا کوئی بھی مہذب ملک ہوتا، اپوزیشن رہنماؤں کی اکثریت عمر بھر جیلوں، حوالاتوں میں رہنمائی فرمارہی ہوتی، لیکن چونکہ یہ پاکستان لہٰذا یہاں یہ عمر بھر عوام کی رہنمائی فرمائیں گے، یہ سب روز صبح سے شام بلکہ رات گئے تک یہ بتائیں کہ ملکی حالات نازک ہوچکے، حقیقت یہ اگر یہ نہ ہوتے تو ملک کے حالات نازک نہ ہوتے، یہ بلادھڑک اور بلا جھجک جھوٹ بولیں، انہیں پتا ہم اسی دن پکڑے جائیں گے جس دن سچ بولیں گے اور سب کو پتا وہ دن کبھی نہیں آنا۔سب کچھ اللہ توکل چل رہا ہے،عوام کو لے لیں، خیر سے مرے بنا جنت جانے کے خواہش مند، انہیں زندگی فرعون والی چاہئے جبکہ آخرت موسیٰؑ والی، ملاوٹ، جھوٹ، غیبت چھوڑنی نہیں، نماز جماعت کے ساتھ پڑھنی ہے، جہاں موقع ملے دوسرے کا حق مارلینا ہے، جب موقع ملے تو عمرہ کرنے چلے جانا ہے، اپنا پڑوسی تنگ ہے مگر عالم اسلام کے ٹھیکیدار، اتنی تابعدارقوم کہ جو حکمراں آئے، جو کچھ بھی کر جائے تابعداری سے برداشت کر جائیں، اگر کچھ کریں تو وہ یہ کہ ڈری ڈری، سہی سہی بددعائیں کردیں اور بددعائیں بھی کچھ اس قسم کی کہ’’ اے کرپٹ حکمرانو جاؤ تمہارے سارے مال کو دیمک کھا جائے، اے کرپٹ حکمرانو جاؤ تمہاری چینی پھیکی، دہی کھٹا اور آلومیٹھا نکل آئے، اے کرپٹ حکمرانوجاؤ،تمہارے یورو، ڈالر، پونڈز پڑے پڑے ’ایکسپائر‘ ہوجائیں، اے کرپٹ حکمرانو جاؤ تم کھانے بیٹھو تو تمہیں یہ پتا نہ چلے کہ کھانے بیٹھے یا کھا کر بیٹھے ہو‘‘، اگر زبانی کلامی انقلاب لائے جاسکتے تو ہماری قوم اب تک درجنوں انقلاب لاچکی ہوتی، اپنی قوم اتنی مستقل مزاج کہ جس حکمراں کے آنے پر مٹھائیاں بانٹے اسی کے جانے پربھی مٹھائیاں بانٹے، اپنی قوم اتنی صابر، شاکر کہ اچھا اسکول نہ اچھا اسپتال، نہ تھانے، کچہری میں شنوائی، او پرسے بے روزگاری، غربت، مہنگائی مگر مجال ہے اونچی آواز میں بول بھی جائے، اپنی قوم اتنی سچ پرست کہ جب کوئی سامنے ہو تو رکوع کے عالم میں خوشامدیں اور جب کوئی سامنے نہ ہوتو دنیا جہاں کی برائیاں، اپنی قوم اتنی حق پرست اگر یہ امریکہ مردہ باد ریلی نکال رہی ہو اور ریلی میں امریکی ویزا کھل جائے تو سب کے سب پاسپورٹ پکڑے لائن میں کھڑے ملیں، دوستو! سو باتوں کی ایک بات، حکومت، اپوزیشن، عوام، خارجہ پالیسی، داخلہ پالیسی، معیشت، تجارت سب کچھ ﷲ توکل چل رہا مگر آپ نے پریشان نہیں ہونا، بالکل بھی فکر نہیں کرنی کیونکہ سب کچھ ﷲ توکل ہی چلے گا۔

تازہ ترین