ڈاکٹر محمد سہیل شفیق
کسی نے کیا خوب کہا ہے،’’I have always imagine that paradise will be a kind of library‘‘(میں نے ہمیشہ تصور کیا ہے کہ جنّت ایک طرح کی لائبریری ہوگی)۔ اسکندریہ کا جدید کُتب خانہ دیکھ کر ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ اسکندریہ (Alexandria) مصر کا دوسرا بڑا شہر اور ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ زمانۂ قدیم میں یہ شہر اپنے روشن مینار (لائٹ ہاؤس) کے باعث مشہور تھا، جو 7 عجائباتِ عالم میں شامل ہے۔ اس شہر کا ’’کتب خانہ اسکندریہ‘‘ بھی اس کی وجۂ شہرت بنا۔
کتب خانہ اسکندریہ کی بنیادب طلیموسی فرماں روا، سوتر اوّل نے83 قبلِ مسیح میں اسکندریہ کے مقام پر رکھی۔ اس کے بیٹے فلاڈیلفس (Philadelphus) کی علم پروری اور کتابوں سے دل چسپی نے کتب خانے کو جلد ہی علمی و ثقافتی مرکزیت کا حامل بنادیا۔ یہ کتب خانہ ایک کثیر المقاصد عجائب گھر میں قائم کیا گیا، جو رصدگاہ، ادارئہ علم الابدان، ادارئہ نشرواشاعت اور کتب خانے کی عمارت پر مشتمل تھا۔
اس ادارے کے زیرِاہتمام رصدگاہ، چڑیا گھر، باغِ نباتات اور علمی مجالس کے لیے متعددکمرے بھی تیار کیے گئے۔ بعض مورخین کے نزدیک اس علمی ادارے کو دنیا کی سب سے پہلی جامعہ یا سائنسی اکادمی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ دُور دُور سے اصحابِ علم وفضل اس علمی مرکز کی طرف جوق دَر جوق کھنچے چلے آتے تھے۔ یہاں بے شمار یونانی اور دوسرے اہلِ علم سائنس دانوں، فلسفیوں نے تجربات اور مشاہدات کے ذریعے حصولِ علم کے بعد دنیا کو فیض یاب کیا۔
ان درخشاں ستاروں میں ارشمیدس، اقلیدس، ایریاٹا ستینبز، اپالوئیس، بطلیموس اور جالینوس وغیرہ شامل ہیں۔ یہ کہا جائے، تو غلط نہ ہوگا کہ اسکندریہ کے کتب خانے کے بدولت ہی یونانیوں نے علمی دنیا میں چار دانگِ عالم شہرت حاصل کی۔ کتب خانہ اسکندریہ کے عملے میں بھی یونان کے نام وَر اہل قلم اور علماء شامل تھے۔ جن میں مشہور ماہرِ لسانیات اور شاعر، کیلی ماکس، ایراٹوستھینز (Eratosthenes) مشہور بازنطینی فلسفی ارسٹوفینز (Aristophanes)، ارسٹاکس اور زینوڈوٹس(Zenodotus)قابلِ ذکر ہیں۔ مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ اپنے زمانے میں اس عظیم کتب خانے سے بڑھ کر کوئی دوسرا سرمایہ علمی موجود نہیں تھا، لیکن بدقسمتی سے 48قبلِ مسیح میں جولیس سیزر کی اسکندریہ میں لشکر کشی اور محاصرے کے بعد کتب خانے کی نصف سے زائد کتابیں جلا کر خاکستر کردی گئیں۔
ایک روایت کے مطابق اسکندریہ کی لائبریری اس وقت تباہ ہوئی، جب رومی بادشاہ اوریلئیں نے 272ء میں اسکندریہ پر ملکہ زینوبیاکی بغاوت کچلنے کے لیے حملہ کیا۔391ء میں عیسائی بادشاہ قسطنطین کے عہد میں عیسائیوں اور بُت پرستوں کے درمیان کش مکش کے نتیجے میں قسطنطین نے اس قدیم اور عظیم الشّان کُتب خانے کی کتابیں نذرِآتش کرواکے عمارت کو منہدم کردیا۔
کُتب سوزی کی یہ تاریخ بہت دردناک ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ دردناک اورافسوس ناک وہ مضحکہ خیز الزام ہے، جو عیسائی دنیا حضرت عمر فاروق ؓ پر لگاتی آرہی تھی کہ مصر کی فتح کے بعد آپؓ کے حکم پر اس کتب خانے کو نذرِ آتش کیا گیا۔ تاریخ سے نابلد لوگوں کا یہ بھونڈا الزام دن کو رات یا سفید کو سیاہ کہنے کے مترادف ہے۔
دراصل تاریخ کو مسخ کرنے کی یہ ایک بدترین کوشش تھی۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بعثتِ محمدی ﷺ سے بہت پہلے چوتھی صدی عیسوی میں کتب خانہ اسکندریہ کی تباہی کا واقعہ پیش آچکا تھا۔ اس بات کا اعتراف انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا نے بھی ان الفاظ میں کیا ہے’’یہ ادارے اس وقت تک زندہ رہے، جب تک کہ تیسری صدی عیسوی کی خانہ جنگی کے دوران مرکزی میوزیم اور لائبریری کو ختم نہیں کیا گیا۔
عیسائیوں نے 391 میں ایک ذیلی لائبریری کو نذرِ آتش کیا تھا۔ (I/479)۔مشہور مستشرق فلپ کے ہیٹی (P.K.Hitti)اپنی کتاب ’’ہسٹری آف دی عربز‘‘ میں لکھتا ہے کہ ’’یہ سراسر ایک فرضی کہانی ہے کہ کتب خانہ اسکندریہ خلیفہ دوم، حضرت عمرؓ کے حکم پر برباد کیا گیا اور شہر کے لاتعداد حمّاموں کی بھٹیاں 6 ماہ تک کتب خانے کی کتابیں جلا کرگرم کی جاتی رہیں، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ بطلیموس کا عظیم کتب خانہ اسلام سے بہت پہلے 48 قبلِ مسیح میں جولیس سیزر کے حکم پر جلایا جاچکا تھا۔ (P.K.Hitti, History of the Arabs, London, 1970, page 166) بدقسمتی سے ان ہی فرضی کہانیوں اور غیر مستند روایات کی بنیاد پر بہت سے عیسائی مصنّفین نے مسلمانوں پر علم دشمنی کا الزام لگایا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کام خود عیسائی اور یہودی حکمران کتب خانوں کے ساتھ شروع سے کرتے آرہے ہیں۔
اس حوالے سے علامہ شبلی نعمانی نے اپنے رسالے ’’کتب خانہ اسکندریہ‘‘ میں جدید تحقیقی اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عقلی شواہد سے ثابت کیا کہ اس کی تباہی خود یہود و نصاریٰ کے مذہبی و سیاسی رہ نمائوں کے ہاتھوں ہوئی۔
جدید کتب خانہ اسکندریہ بحیرئہ روم کے ساحل پر واقع ہے۔ سیّاحوں کے لیے داخلہ فیس 70 مصری پائونڈ ہے۔ 2002ء میں اس کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ کتب خانے میں آٹھ لاکھ کتابوں کی گنجایش ہے، جب کہ اس جدید کمپلیکس میں ایک کانفرنس سینٹر کے علاوہ نقشہ جات، ملٹی میڈیا، نابیناافراد، نوجوانوں اور بچّوں کے لیے خصوصی گوشے بھی قائم کیے گئے ہیں۔ یہاں بنیادی طور پر تین زبانوں عربی، انگریزی اور فرانسیسی میں کتٖابیں موجود ہیں۔
ناَم ور مصری ادیب اورنقاد طہٰ حسین سے منسوب گوشے میں بصارت سے محروم افراد کے لیے مواد موجود ہے، جہاں خصوصی سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے اُن کے لیے کتابیں اور روزنامچے پڑھنا ممکن ہوجاتا ہے۔ ’’نوبل سیکشن‘‘ میں 1901ء سے لے کر آج تک ادب میں نوبل پرائز جیتنے والی کتابوں کے مجموعے رکھے گئے ہیں۔ اسکندریہ کے اس جدید کتب خانے میں چار میوزیم بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں مختلف موضوعات پر نمائشیں منعقد کی جاتی ہیں۔ جب کہ جدید ٹیکنالوجی کے مطابق ایک ڈیجیٹل ورلڈ بھی ہے، جہاں قدیم کتابوں کو محفوظ کیا جاتا ہے۔
عمارت کی خوب صورتی بھی قابلِ دید ہے۔ دنیا بھر سے روزانہ ہزاروں سیّاح اور اسکولز کالجز کے طلبہ اپنے اساتذہ کی رہ نمائی میں عظیم الشان کتب خانہ اسکندریہ دیکھنے آتے ہیں۔ مطالعے کے لیے گرائونڈ فلور پر مرکزی ہال بنایا گیا ہے، جب کہ سیّاحوں کی رہنمائی کے لیے عربی، انگریزی، فرانسیسی اور ہسپانوی زبانوں میں 15 منٹ کی بریفنگ بھی دی جاتی ہے۔