• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حذیفہ احمد

بعض اوقات بارش کے بعددھوپ نکلنے پر آسمان پر دل کش اور خو ب صورت رنگوںکی قوس بنتی ہے ۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک یا دو نہیں بلکہ 12 مختلف انداز میں بنتی ہے ۔فرانس کے موسمیاتی تحقیق کے مرکزکےماہر جین رچرڈ کے مطابق بارش کے بعد دو یا تین جوڑوں میں بھی’’ قوس ِقُزح‘‘ (rainbow)تر تیب پاتی ہے ۔ ان میں سے بعض تھوڑی تھوڑی دیر بعدرنگ بدلتی رہتی ہیں۔

بعض اوقات یہ تبدیلی منٹوں میںہوجاتی ہے ۔قوس ِقُزح یا دھنک بننے کے عمل میں سورج کی کرنیں پانی کے قطروں سے منعکس ( ریفلیکٹ) اور منعطف ( ریفر یکٹ) ہوتی ہیں ،جس سے روشنی سات رنگوں میں تقسیم ہوجاتی ہےاور سات رنگوں کا ایک نیم دائرہ تشکیل پاتا ہے ۔ لیکن روشنی کی مختلف طولِ موج (ویوولینتھ ) کی وجہ سے مختلف رنگ مختلف انداز میں مڑتے ہیں ۔بعدازاں مختلف انداز میں دھنک وجود میں آتی ہیں جنہیں ماہر ین ’’دھنک کے ذا ئقوں‘‘کا نام د یتے ہیں ۔

ان میں چار اور پانچ رنگوں کی دھنک بھی ہوتی ہیں ۔انہیں آر بی ون،آربی ٹو اور آربی تھری کا نام دیا جاتاہے ۔ ماہرین کے مطابق دھنک کے ذائقوںکی کل تعداد12 ہے ۔مثال کے طور پر چار طرح کی د ھنک میں سارے رنگ نظر آتے ہیں جب کہ آربی 6 میں سبز رنگ نہیں ملتا۔اسی طرح آربی 9 میں صرف نیلا اور سرخ رنگ ہی نمایاں ہوتا ہے ۔

ماہرین کے مطابق قوس ِقُزح دراصل فطر ت کا ایک مظہر ہے،جس میں بارش کے بعد فضا میں مو جو د پانی کے قطرے ایک مثلث کی طرح کام کرتے ہیں اور جب ان میں سے سورج کی شعاعیں گزرتی ہیں تو وہ سا ت رنگوں میںتقسیم ہوجاتی ہیں ۔یوں آسمان پرایک دھنک نمودار ہو جا تی ہے۔قوس ِقُزح اس وقت نظر آتی ہے جب بارش کے قطرے فضا میں موجود ہوں اور سورج کی روشنی دیکھنے والےکے پیچھےسےچھوٹے زاویے سے آر ہی ہو۔زیادہ خوب صورت دھنک اُس وقت بنتی ہے جب آسمان پر بادل ہوں اور آدھاآسمان صاف ہو ۔ آ بشا روںاور فوّاروں کے گرد دھنک بننےکے مواقع زیادہ ہوتے ہیں ۔

دھنک کے رنگوں میں سرخ ،نارنجی ،پیلا ،سبز ،نیلا ، جا منی اور گہرانیلا رنگ شامل ہوتاہے ۔ پانی کے قطرے میں داخل ہونے کے بعد سورج کی شعاعیں مڑتی ہیں اور قطر ے کے آخر میں پہنچ کر منعکس ہو کر واپس مڑجاتی ہیں۔پھر قطرے سے باہر نکلتے ہوئے یہ دوبارہ مڑتی ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قوس ِقُزح یا دھنک آسمان پر عملی طو رپر موجود نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک نظری مظہر ہے ،جس کا مقام دیکھنے والے کی موجودگی کی جگہ پر منحصر ہوتا ہے ۔ پانی کےتمام قطرے سورج کی شعاعوں کو موڑتے اور منعکس کرتے ہیں لیکن چند قطروں کی روشنی ہی دیکھنے والے تک پہنچتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بارش برسانے والے بادلوں کی کم سے کم بلندی 1200 میٹرز ہوتی ہے۔ اگر بارش کے پانی کےقطرے کے وزن اور جسامت (سائز) کے برابر کوئی بھی شئےاسی بلندی سے گرے تو وہ زمین پر 558 کلو میٹرز فی گھنٹہ کی رفتار سےآئےگی۔ یقیناًاتنی رفتار سے گرنے والی کوئی بھی شئےجب زمین سے ٹکرائے گی تو بڑ ے نقصان کا باعث بنے گی۔ اگر اسی طرح بارش برسے تو تمام کاشت شدہ زمینیں برباد ہوجائیںگی ۔ رہائشی علا قے ، مکانات اور موٹر گاڑیاں تباہی کا شکار ہوجائیں گی۔ 

مزید یہ کہ یہ اعداد و شمار 1200 میٹر بلندی پرموجود بادلوں سے متعلق ہیں جب کہ ایسے بارش برسانے والے بادل بھی ہوتےہیں جو سطح زمین سے دس ہزار میٹرز کی بلندی پر ہوتےہیں۔ا س بلندی سے گرنے والے بارش کے ایک قطرے کی رفتار نہایت تباہ کن ہوگی۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ بارش کے قطروں کی اوسط رفتار (جب وہ زمین تک پہنچتے ہیں) آٹھ سے دس کلو میٹرز فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ 

اس کی وجہ ان کی خاص بناوٹ ہے۔ ان قطروں کی یہ خاص بناوٹ فضا کی رگڑ کا اثر بڑھا دیتی ہے اور جب وہ قطرہ ایک خاص رفتار کو پہنچتا ہے تو اس کی مخصوص بناوٹ اس کی رفتار مزید بڑھنے نہیں دیتی۔

بارش برسنے کا عمل طویل عرصے سے لوگوں کے لیے عجوبہ رہاہے۔ فضائی ریڈار (Air Radar) کی ایجاد کے بعد ہی بارش برسنےکے مراحل کو سمجھنا ممکن ہوا۔بارش برسنے کا عمل ایک نہیں بلکہ کئی مراحل میں مکمل ہوتاہے ۔ سب سے پہلےبارش کے لیے درکار ’’خام مال‘‘ (رامیٹر یل )،یعنی پانی، فضا میں پہنچتا ہے ،پھر بادل بنتے ہیں اور آخر میں بارش کے قطرے وجود میں آتے ہیں ۔یہی قطرے بعد میں قوس ِقُزح کا سبب بنتے ہیں۔

تازہ ترین
تازہ ترین