کچھ حاصل نہیں ہوگا
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عرب دنیا میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا رواج تیزی سے زور پکڑ رہا ہے، ایسے میں اِس کا امکان سرے سے موجود نہیں تھا کہ یہی سوال پاکستان میں دوبارہ زیر بحث نہیں آئے گا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے ہمارا مؤقف کیا ہے اور کیا ہونا چاہئے؟ سوال یہ ہے کہ ہم نے اسرائیل کو اب تک تسلیم کیوں نہیں کیا ہے اور ہمارے اِس موقف سے ہمیں کیا فائدہ یا نقصان پہنچا ہے اور کیا پہنچ سکتا ہے؟ یہ امر تو بالکل واضح ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا براہِ راست کوئی جغرافیائی تصادم تو موجود نہیں ہے۔ ہم فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی کی وجہ سے اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ مذہبی رشتوں کے علاوہ ہم عالمِ عرب میں ہوئی کسی تبدیلی سے بھی کلی طور پر لاتعلق نہیں رہ سکتے ہیں۔ اور یہی دور رس سوچ تھی کہ جس کی وجہ سے اسرائیل کے حوالے سے ابتدا میں ہی پاکستان نے ایک خاص مؤقف اختیار کر لیا تھا کیونکہ یہ واضح طور پر نظر آرہا تھا کہ اسرائیل کا قیام صرف یہودیوں کو ایک خاص جگہ پر بسانا نہیں بلکہ اِس ریاست کے ذریعے پورے عالمِ عرب کو مستقل بنیادوں پر کنٹرول اور اُنہیں دہشت زدہ رکھنا ہے اور فی الواقع ہوا بھی یہی ہے۔ مقاماتِ مقدسہ کے ساتھ ساتھ کُل عالمِ عرب سے پاکستان کے دیگر اہم امور کے حوالے سے بھی گونا گوں مفادات وابستہ ہے اِس لئے جب کسی بھی حوالے سے اسرائیل عالمِ عرب پر اثر انداز ہوتا ہے تو پاکستان کیلئے بھی اُس کے اثرات کا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک عرب دنیا اور اسرائیل میں ایک مخاصمت کی فضا موجود تھی جو کہ امریکہ اور اُس کے اتحادی ممالک کے مفاد میں جاتی تھی مگر نائن الیون کے بعد افغانستان، عراق اور عرب بہار کی تحریکوں نے خطے میں ایران کو مزید طاقتور کھلاڑی کے طور پر سامنے لا کھڑا کیا۔ ایرانی حکومت سے بدقسمتی سے عرب دنیا کے تعلقات اچھے نہیں رہے اور اِسی لئے خلیج تعاون کونسل کا قیام بھی عمل میں آیا تھا۔ بہرحال اِس تازہ صورتحال نے تمام تو نہیں لیکن بعض عرب ممالک کو ایران سے مزید خائف کردیا، ’’تمام ممالک‘‘ کو ترک کرکے ’’بعض ممالک‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں کہ آج کے دن تک قطر، کویت اور عمان نے ایران سے اپنے مراسم بہت بہتر رکھے ہوئے ہیں اور وہ اِسی پالیسی پر گامزن بھی ہیں بہرحال جب ایرانی عربوں کو یقین دلانے میں کامیاب نہ ہو سکے کہ اُن کے عزائم عرب حکمرانوں کے خلاف نہیں ہیں تو عرب اسرائیل اور ایران دونوں طرف سے خطرہ محسوس کرنے لگے۔ تازہ ترین صورتحال ترکی کے کردار کے بڑھنے سے متعلق ہے۔ ترکی سلطنتِ عثمانیہ کا جانشین ہے اور عالمِ اسلام میں اِس حوالے سے آج تک جذبات موجود ہیں جو عرب کی سلطنتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد قائم ریاستوں کیلئے ایک نظریاتی خطرہ تو تھا ہی مگر اب اُس کی حیثیت مزید بدل گئی ہے۔ اِن حالات میں عربوں کے سامنے یہ حقیقت ہے کہ اسرائیل کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے، اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ اسرائیل بہتر آپشن کے طور پر موجود ہے اور اُنہوں نے یہ آپشن استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، اِس میں بھی کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ پاکستان پر بھی اِس حوالے سے دباؤ موجود ہے۔ لہٰذا اِس سوال کا جواب نہایت غیرجذباتی ہو کر تلاش کرنا چاہئے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے وطنِ عزیز کو کیا نفع و نقصان حاصل ہو سکتا ہے اور جس طرف سے دباؤ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کیا اُن کا دباؤ اِیسا ہے کہ اُس کے آگے سر نگوں ہوا جائے؟ پاکستان کیلئے یہ بہت اہم ہے کہ عجمی ملک ہونے کے باوجود پاکستان کے عربوں سے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں، یہی کیفیت ایران کے ساتھ رہی ہے اور جب ترکی نئے کردار کو سنبھالنے کیلئے ماضی قریب میں سامنے آنے لگا تو پاکستان اِن حالات میں بھی اِس سے تعلقات کو بہت اچھے تعلقات کی سطح پر برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ یہ کوئی زمانہ قدیم کا قصہ نہیں جب ماضی کی نواز شریف حکومت میں عرب، ایران اور ترکی کی حکومتیں پاکستان سے مطمئن تھیں بلکہ پاکستان کو توازن قائم رکھنے والی طاقت کے طور پر دیکھ رہی تھیں۔ قرضے واپس لینے، دینے کی خارجہ پالیسی کا کوئی امکان بھی موجود نہیں تھا مگر اب صورت حال کیا ہے؟ زبانِ حال سے سب کچھ بیان ہو رہا ہے ۔ صورتحال یہ ہے کہ گمان کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے دباؤ بھی ہمارے عرب دوستوں کی جانب سے آ رہا ہے اور اگر پاکستان نے اِس حوالے سے اُن کی بات تسلیم نہ کی تو ایسی صورت میں اُن سے تعلقات میں مزید دراڑ آنے کا امکان ہے۔ اگر صورتحال یہاں تک خراب ہو گئی ہے کہ پاکستان کے عربوں سے تعلقات اِس طرح کی شرائط سے مشروط ہیں تو اِس سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے اُن ممالک سے تعلقات کی نوعیت کیا سے کیا ہو چکی ہے۔ آج سے ڈھائی برس قبل تک کی خارجہ پالیسی اور حالات کا جائزہ لیں تو واضح ہو جائے گا راستے اور بھی ہیں۔ جب ماضی میں پرویز مشرف کے دور میں اُس وقت کے وزیر خارجہ اسرائیلی ہم منسب سے ہاتھ ملانے کی تصاویر شائع کروا رہے تھے تو اُس کا فائدہ پرویز مشرف کو تو ہوا مگر پاکستان کو نہیں۔ اسرائیل کی معاشی اور فوجی طاقت سے وطنِ عزیز کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ جہاں تک بھارت سے توازن قائم ہونے کی بات ہے تو ایسا کبھی نہیں ہوگا کیونکہ بھارت کو امریکہ اور اسرائیل،پاکستان کو کنٹرول کرنے کیلئے ہلا شیری دیتے ہیں۔ ویسے بھی اسرائیل کو چاہے ساری دنیا تسلیم کر لے جب تک فلسطینی تسلیم نہیں کرتے، کچھ نہیں فرق پڑتا کیونکہ فلسطین اور کشمیر کی تحریکیں سلطنتوں نے نہیں بلکہ اُن قوموں کے خون نے زندہ رکھی ہوئی ہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین