آپ آف لائن ہیں
ہفتہ2؍جمادی الثانی 1442ھ 16؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بھارت افغان صورتحال خراب کر رہا ہے، وزیر خارجہ، مستحکم افغانستان میں پاکستان کا اپنا مفاد ہے، آرمی چیف، افغانستان کے ٹاپ شیعہ رہنما کریم خلیلی کی وزیراعظم سے بھی ملاقات

مستحکم افغانستان میں پاکستان کا اپنا مفاد ہے، آرمی چیف


اسلام آباد، راولپنڈی (نمائندہ جنگ، مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر خارجہ شاہ محمود نے کہا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کی صورت میں افغان قیادت کے پاس قیام امن کا ایک نادر موقع ہے ، بدقسمتی سے بھارت افغان صورتحال خراب کررہا ہے، ہم نے اس حوالے سے ناقابل تردید ثبوت دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے، خوشحال اور مستحکم افغانستان ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان خیالات کا اظہار افغان حزب وحدت اسلامی کے چیئرمین اور ٹاپ شیعہ رہنما کریم خلیلی کیساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقات میں کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کریم خلیلی نے پاک افغان تعلقات کے حوالے سے آرمی چیف کے ویژن کو سراہا۔ملاقات میں افغان امن عمل اور خطے میں امن واستحکام کے امور زیر غور آئے۔ کریم خلیلی نے وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی۔

اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن واستحکام چاہتا ہے،پرامن اور مستحکم افغانستان تجارت کی نئی راہیں کھولے گا۔

پاکستان چاہتا ہے کہ مسئلہ افغانستان کے حل کے لئے تمام فریقین مل کر کام کریں،وزیر اعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں افغان امن عمل پر پیش رفت اور دوطرفہ تعلقات پر گفتگو ہوئی۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ افغان مسئلہ کے جامع حل کے لئے بین الافغان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔مسلسل تصادم سے افغان عوام بری طرح متاثر ہوئے۔ہم افغانستان سےتجارت معیشت سمیت دوطرفہ تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق افغان رہنما کریم خلیلی سے ملاقات میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام تاریخ ، عقیدے ، ثقافت اور روایات کے ناقابل فراموش بندھن کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔

کریم خلیلی نے افغانستان کے لئے پاکستان کی مستقل حمایت خصوصا امن عمل میں اور گذشتہ کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ 

انہوں نے نظرثانی شدہ ویزا پالیسی کے ذریعے پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے مابین تجارت کو مستحکم کرنے اور افغان شہریوں کی سہولت کے لیے مختلف اقدامات کو سراہا۔

اہم خبریں سے مزید