• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

سینیٹ انتخابات: وفاداریاں تبدیل کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے

ایک ایسے وقت میں جب ملک میں سینیٹ انتخابات ہورہے ہیں اور الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول جاری کیا ہے ،ایک انتہائی شرمناک ویڈیو منظرعام پر ’’لائی‘‘ گئی ہے جس نے پاکستان کی داغدار سیاست کو مزید سیاہ اور غلیظ بنادیا ہے، یہ ویڈیو ممکنہ طور پر 2018 سینیٹ انتخابات کی ہے جس میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان مبینہ طور پر ووٹ فروخت کرکے نوٹوں کے انبار وصول کررہے ہیں، ویڈیو میں صوبہ کی حکمران جماعت تحریک انصاف اور قومی وطن پارٹی کے بعض ارکان کو نوٹوں کی گڈیاں گنتے اور بیگ میں رکھتے دیکھا جاسکتا ہے۔ 

2018 میں سینیٹ انتخابات کے خلاف توقع نتائج اور صوبائی اسمبلی میں محض 6 ممبران کی حامل پاکستان پیپلز پارٹی کے دو سینیٹرز کی حیران کن کامیابی کے بعد تحریک انصاف نے ابتدائی معلومات کی روشنی میں ہارس ٹریڈنگ کے الزام میں اپنے 20 ممبران خیبرپختونخوا اسمبلی کو پارٹی سے نکالا جبکہ قومی وطن پارٹی نے بھی بکنے والے اپنے دو ارکان اسمبلی کی پارٹی رکنیت ختم کی، تحریک انصاف کے کئی ارکان نے تو ہارس ٹریڈنگ الزامات اور کارروائی پر پارٹی چیئرمین عمران خان کیخلاف ہتک عزت کے کیس دائر کئے۔ 

اگرچہ بعدازاں صرف دو خواتین کے علاوہ باقی تمام ارکان نے اپنے کیس واپس لئے تاہم تین سال گزرنے کے باوجود تحریک انصاف نے ان مبینہ ضمیر فروش ارکان کیخلاف کوئی شواہد پیش نہیں کئے تاہم جب 2021 کے سینیٹ انتخابات میں ایک مرتبہ پھر بولیاں لگنے کا مرحلہ آیا تو تحریک انصاف حکومت نے ضمیر فروشی کا دھندہ ختم کرانے کیلئے سینیٹ انتخابات کا طریقہ کا ر تبدیل کرکے اوپن بیلٹ کے ذریعے ایوان بالا کے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا اور اس ضمن میں صدارتی آرڈیننس جاری کروایا جو سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جس پر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا انتظار ہے چنانچہ عین اسی وقت اچانک ایک ویڈیو سامنے لائی گئی جس میں حیران کن طور پر خیبر پختونخوا کے وزیر وزیر قانون بیرسٹر سلطان محمد خان بھی مبینہ طورپر وصولی کرتے ہوئے نوٹوں کے سامنے ڈیر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ 

اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف نے چمک کا شکار ہونے والے ایم پی ایز کو پارٹی سے نکال کر اعلیٰ روایت قائم کی تھی تاہم یہ الگ بات ہے کہ قومی وطن پارٹی کے نکالے گئے ایم پی اے کو تحریک انصاف میں خوش آمدید کہا گیا بلکہ اس کو وزیر قانون بھی بنایا گیا جس کی یہ ویڈیو آنے کے بعد اب قربانی دیدی گئی ہے اور وزیر اعظم نے سلطان محمد خان کو وزارت سے ہٹاکر ویڈیو کی انکوائری کیلئے وزرا کی تین رکنی کمیٹی قائم کی ہے،ہارس ٹریڈنگ کی ویڈیو کس حد تک مستند ہے اس کی تصدیق ابھی باقی ہے لیکن یہ حقیقت ہےکہ خیبر پختونخوا اسمبلی ارکان کی ویڈیو نے سینیٹ انتخابات میںہارس ٹریڈنگ پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے،بدقسمتی سے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا مسئلہ کافی سنگین ہوچکاہے، اس لئے ملک میںجمہوریت کی بقا اور نیک نامی کیلئے نوٹوں کے لالچ میں وفاداریاں تبدیل کرنے کا سلسلہ روکنا اور شفاف انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہوچکا ہےچنانچہ اگر سیاسی جماعتیں سینیٹ انتخابات میں ایمانداری کا مظاہرہ کریں اور ایک دوسرے کے امیدواروں کو رقم کا لالچ نہ دیں تو انتخاب کا طریقہ کار کوئی بھی رہے اس سے فرق نہیں پڑے گا۔

 لیکن بدقسمتی سے یہاں تو سیاسی جماعتوں کا رجحان سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کو ختم کرنے کی بجائے اسے اختیار کرنے کا ہوتاہے، یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک طرف تو ہارس ٹریڈنگ کی مخالفت کرتی ہیں اور دوسری طرف سینیٹ انتخابات کو عملی طور پر ارب پتیوں کا کھیل بنا دیا ہے جو ضمیر کی اتنی بھاری قیمت لگاتے ہیں کہ بڑے بڑے سیاستدان بھی پھسل جاتے ہیں، لہذا انتخابی دھاندلی اورہارس ٹریڈنگ کے خاتمہ کیلئے انتخابی اصلاحات وقت کی تقاضا ہے،اسلئےآئینی اصلاحات کو صرف ایک سیاسی نعرہ اور کسی خاص موقع کی ضرورت بنانے کی بجائے ملکی مفاد میں اس پر اتفاق رائے قائم کرنا ہوگا ۔

دوسری جانب19فروری کو خیبر پختونخوا میں دو نشستوں پر ضمنی انتخابات کیلئے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے63 نوشہرہ کی نشست پر 4 جبکہ قومی اسمبلی کی نشست این اے45کرم پر 27امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا، صوبہ کی حکمران جماعت تحریک انصاف نے دونوں نشستوں پر اپنے امیدوار میدان میں اتارے ہیں جن کے مقابلے میں عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ ن نے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں، جہاں تک خیبر پختونخوا میںضمنی انتخابات کاتعلق ہے تو اس وقت صوبہ کے عوام کی نظریں پی کے63پر جمی ہوئی ہیں کیونکہ تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیر میاں جمشید کاکاخیل کی وفات سے خالی ہونے والی اس نشست کے ٹکٹ کے معاملہ پر وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک اور ان کے بھائی صوبائی وزیر لیاقت خٹک کے درمیان اختلافات کافی سنگین ہوچکے ہیں بلکہ یہ ناراضگی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ دونوں اب کھل کر ایک دوسرے خلاف مورچہ زن ہیں۔ 

پرویز خٹک کا گزشتہ ہفتہ وائرل ہونے والا بیان بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں وہ دعویٰ کررہے ہیں ’’ وہ جس کا ساتھ دیتے ہیں وہ آسمان پر پہنچ جاتا ہے اور جسکا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں وہ صفر ہوجاتا ہے، انہیں سیاست میں کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا وہ وہ نہ چاہیں تو عمران خان کی حکومت ایک دن بھی نہیں چل سکتی ‘‘اگرچہ اس خطاب کی ویڈیو کئی روز تک پرویز خٹک کیخلاف سوشل میڈیا پر بطور مہم چلائی گئی لیکن واقفان حال جانتے ہیں کہ انہوں نے یہ تمام باتیں اپنے ناراض بھائی کی نوشہرہ کی مقامی سیاست میں بڑھتی سرگرمیوں کے تناظر میں کی تھیں، پرویز خٹک کے بیان کے بعد ان کے بھائی صوبائی وزیر آبپاشی لیاقت خٹک بھی خاموش نہیں بیٹھے بلکہ انہوں نے جوابی خطاب میں اپنی صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے خود کوبے بس وزیر ظاہر کیا اوروزیر اعظم عمران خان کو صورت حال سے آگاہ کرنے کیلئے ان سے ملاقات کیلئے وقت مانگا، اگرچہ نوشہرہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کو کسی نہ کسی صورت میں عوامی ہمدردیاں حاصل ہیں کیونکہ میاں جمشید الدین کی ناگہانی موت سے حلقہ کے عوام ان کے بیٹے کو ہمدردی کا ووٹ دے سکتے ہیںتاہم خٹک برادران کے ان اختلافات کیوجہ سے یقیناً نوشہرہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کا ووٹ تقسیم ہوسکتا ہے جسکا فائدہ کسی حد تک اپوزیشن کو ہوسکتاہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید