آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ میرا سوال ان حادثات کے متعلق ہے جن میں ایک سے زیادہ لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کس کا انتقال کب ہوا،مثلاً ًہمارے ملک میں جو فضائی حادثے ہوئے، اسی طرح بم دھماکوں میں بسااوقات بے شمار جانیں چلی جاتی ہیں ۔ایسے حادثات کے متعلق سوال یہ ہے کہ اگر قریبی رشتےدار اس میں سفر کررہے ہوں تو میراث کے احکام کیا ہوں گے؟ جیسے میاں بیوی یا باپ بیٹا ساتھ سفر کررہے ہوں اور پھر وہ اس حادثے میں ہلاک ہوجائیں تو میاں بیوی میں سے اورباپ بیٹے میں سےکون کس کاوارث ہوگا؟

جواب:۔ ایسے دو یا دو سے زائد اشخاص جو ایک دوسرے کے وارث ٹھہرتے ہوں اور ان کاکسی حادثےمیں ایک ساتھ انتقال ہوجائے یاایک دوسرے کے آگے پیچھے انتقال ہوجائے ، مگرتعیین کے ساتھ معلوم نہ ہو کہ کس کی وفات پہلے اور کس کی بعد میں ہوئی ہے یا کچھ معلوم نہ ہو تو ان تینوں صورتوں میں وہ ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے اور ان کامال ان کے ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔