پنجاب حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019میں 72صفحات پر مشتمل ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا ہے جس سے ایک مرتبہ پھر اتنے ابہام اور پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں کہ عوام کو نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کا خواب دور دور تک شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ حکومت میں بھی کوئی شخص ایسا نہیں مل رہا جو صحیح طریقے سے جانتا ہو کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ہے کیا اور اوپر سے اتنا بڑا ترمیمی آرڈینس جاری کردیا گیا ہے کہ عوام تو دور کی بات اہلِ اقتدار بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ لوکل باڈیز کا اصل قانون 112صفحات جبکہ ترامیم 72صفحات پر مشتمل ہیں۔ قانون بنانے والے بھی پاگل ہو گئے ہیں کہ کر کیا رہے ہیں اور آگے چل کر کیا ہوگا؟ بیورو کریسی، جس کا ترمیمی آرڈیننس لانے میں بڑا کردار ہے، کو اب دوبارہ بڑے اختیارات حاصل ہوں گے۔ 2019کے لوکل گورنمٹ ایکٹ جس میں نیبرہڈ کونسلرز اور پنچایت کونسلیں بنانے کا لکھا تھا، میں ڈپٹی کمشنروں کے اختیارات صرف (DISPUTE RESOLUTION) کی حد تک تھے، انہوں نے کارپوریشنز اور میونسپل کمیٹیوں کے مابین کسی قسم کے اختلافات پیدا ہونے کی صورت میں معاملات افہام و تفہیم سے حل کروانے تھے۔ افسر شاہی کے اختیار نہ ہونے کے برابر تھے۔ لوکل کونسلوں کو ایک علیحدہ (ENTITY) کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔ منتخب نمائندوں کے پاس زیادہ طاقت تھی لیکن لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2021ءسے تقریباً 2013ء والا بلدیاتی نظام ہی واپس آ جائے گا۔ ترامیم سے 2019ءکے ایکٹ کا بنیادی ڈھانچہ ہی تبدیل کردیا گیا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140Aیہ کہتا ہے کہ اختیارات عوامی نمائندوں کے ہاتھوں میں ہونے چاہئیں۔ یہ بات حیران کن ہے کہ اتنے بڑے بلدیاتی نظام کو چلانے کے لئے 2019ءمیں بنائے گئے ایکٹ میں راتوں رات ترامیم کی گئیں۔ ان ترامیم کے پیچھے قانون سے زیادہ انتظامی ہاتھ ہے۔ 2019ءکے ایکٹ کے تحت بلدیاتی انتخابات ہوتے تو اختیارات تقسیم ہو جاتے۔ اس وقت ڈپٹی کمشنروں اور کمشنروں کے پاس لامحدود اختیارات اسلئے بھی ہیں کہ کیونکہ وہ ضلعی کونسلوں اور میٹروپولیٹن کارپوریشنز کے ایڈمنسٹریٹر بھی ہیں۔ سپریم کورٹ نے تو سوال کر رکھا ہے کہ پنجاب کے بلدیاتی نظام کو آخر کیوں توڑا گیا؟ عدالتِ عظمیٰ نے جب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے کہا کہ بطور حکومتی نمائندہ نہیں ایک وکیل ہونے کے ناطے عدالت کی رہنمائی کی جائے تو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا جناب والا بڑا مشکل سوال ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے حکم دیا کہ یکم مارچ کو پیش ہو کر تحریری جواب دیں بلدیاتی نظام کیوں توڑا؟ اٹارنی جنرل آف پاکستان نے تسلیم کیا کہ غلط ہوا ہے۔
افسر شاہی کے تو مزے ہیں۔ نئے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نور الامین مینگل کو لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ءمیں ترامیم کا ٹاسک ملا۔ 72صفحوں کے ترمیمی آرڈیننس 2021ءمیں 111پیرے اور ہر ایک میں 15سے 20سب پیرے ہیں۔ نئی ترامیم میں یہ کہیں ذکر ہی نہیں کہ میئر کا الیکشن کیسے ہوگا؟ میئر کے نمائندے کتنے ہوں گے؟ ان کا انتخاب کیسے ہوگا؟ ان کے اختیارات کیا ہوں گے؟ ترامیم میں کچھ نہیں لکھا۔ ڈپٹی کمشنرز ضلعی کوآرڈینیشن کمیٹیوں اور کمشنرز ڈویژنل کوآرڈینیشن کمیٹیوں کے سربراہ ہونگے۔ یونین کونسل اور تحصیل کونسلوں کے زیادہ تر کاموں کی منظوری ڈپٹی کمشنر دے گا ورنہ کوئی کام نہیں ہو سکے گا۔ اسی طرح میٹروپولیٹن کارپوریشنوں کے کاموں کی حتمی منظوری کمشنر کے ہاتھ میں ہوگی۔ پنجاب حکومت پتہ نہیں چاہتی کیا ہے۔ کے پی کی طرز کا ویلج پنچایت اور نیبرہڈ کونسل کا قانون 2019میں بنایا اب اس کو ختم کردیا۔ پنجاب کی بیوروکریسی کہتی ہے کہ پہلے زبردستی کنسلٹنٹ بھجوا کر 2019میں قانون بنوایا۔ لوکل گورنمنٹ پر اتنا دبائو ڈالا گیا کہ محکموں اور بیوروکریسی کو اس کا پوری طرح ادراک نہ ہونے کے باوجود اس قانون کو منظور کروانا پڑا۔ حکومت پنجاب کے اقدامات سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بھی عوام کو نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی میں سنجیدہ نہیں۔ کئی اراکینِ صوبائی اسمبلیم جن کا تعلق حکومتی بنچوں سے ہے، ببانگِ دہل یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات نہیں ہوں گے۔ بیوروکریسی بھی یہی چاہتی ہے کہ ایسا نظام اور قوانین بنائے جائیں جس میں حقیقی اختیارات عوامی نمائندوں کی بجائے انہی کے پاس اور عوام اپنے آئینی حقوق کے لئے ان کے دروازوں پر ہی خوار ہوں۔ حکومت اگر عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمان ہے تو ٹائون کمیٹیوں، تحصیل کونسلوں اور میونسپل کارپوریشنوں کو آزاد کردیا جائے تاکہ وہ اپنا ہر کام خود کر سکیں۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن چونکہ حساس معاملہ ہوتا ہے جس میں سالانہ ترقیاتی اسکیمیں اور صوبائی سطح کے معاملات بھی چل رہے ہوتے ہیں اوور لیپنگ سے بچنے کے لئے کمشنروں کو ایک رول دیا جا سکتا ہے تاکہ غیرضروری طور پر پروجیکٹس میں (REVISION)نہ ہو۔ اس کے لئے بھی اچھے ٹی او آر بنائے جائیں اور لوکل معاملات میں بیوروکریسی اور صوبائی حکومت کی مداخلت انتہائی کم دی جائے۔ نئی ترامیم 2021کے تحت 25ہزار 238ویلج اینڈ نیبر ہڈ کونسلیں ختم کرکے 8ہزار کونسلز بنا دی گئیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب حکومت کو حلقوں کی حتمی فہرست جمع کروانے کے لئے 18مارچ کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔ اب نئی ترامیم کے بعد حکومت کون سے حلقوں کی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گی؟ یہ حکومت بھی نہیں جانتی۔