آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آخرکار پنجاب میں سینیٹ الیکشن کا ڈراپ سین ہوگیا اور تمام گیارہ امیدوار بلامقابلہ سینیٹر منتخب ہوگئے۔ نومنتخب اراکین میں تحریک انصاف کے پانچ، مسلم لیگ ن کے پانچ اور مسلم لیگ ق کا ایک امیدوار شامل ہے۔ تحریک انصاف سے جنرل سیٹ پر منتخب ہونے والے سیف اللہ نیازی اس وقت پی ٹی آئی کے چیف آرگنائزر ہیں اور پارٹی میں کافی فعال ہیں تاہم ماضی میں پارٹی کے ایک دھڑے سے اختلاف کی وجہ سے کچھ عرصہ سائیڈ لاین پر رہے۔ اعجاز چوہدری نے زمانہ طالب علمی میں سیاست کا آغاز انجینئرنگ یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم سے کیا اور پھر تحریک انصاف میں شامل ہو کر انتھک کام کیا اور پی ٹی آئی کے پنجاب سینٹرل زون کے صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ہائی پروفائل اور بارسوخ امیدواروں کی موجودگی میں مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والے اعجاز چوہدری کا لاہور سے سینیٹ کی سیٹ حاصل کرنا یقیناً ان کی محنت، نیک نیتی اور پارٹی سے وفاداری کا صلہ ہے تاہم برادری فیکٹر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نجی بینک میں آفیسر سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے عون عباس بپی ملتان کے نواحی علاقے کے ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ جلال الدین رومی اور اسحاق خاکوانی جیسی قدآور شخصیات کی موجودگی میں عون عباس کو ساؤتھ پنجاب سے سینیٹ کا ٹکٹ ملنا لوگوںکیلئے اچنبھے کی بات تھی تاہم ان کی بطور ایم ڈی پاکستان بیت المال کارکردگی اور جنوبی پنجاب کے دو بڑے لیڈران کی باہمی چپقلش نے ان کا کام آسان کر دیا۔ ٹیکنو کریٹ نشست پر منتخب ہونے والے بیرسٹر علی ظفر مشہور قانون دان اور سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر کے صاحبزادے ہیں اور پاکستان بار کے صدر کے علاوہ نگران دور میں خود بھی وزیر قانون رہ چکے ہیں۔ سابق سینیٹر بابر اعوان کی عدم موجودگی میں عمران خان کو ایسے قانونی ماہر کی ضرورت تھی جو پارلیمنٹ میں اور باہر پیپلز پارٹی کے فاروق نائیک، شہادت اعوان اور مسلم لیگ ن کے اعظم تارڑ کا مقابلہ کر سکے۔ اچھی شہرت اور قابلیت کے حامل بیرسٹر علی ظفر کو آئندہ دنوں میں پی ٹی آئی اہم ذمہ داری سونپ سکتی ہے۔ خواتین کیلئے مخصوص نشست پر کامیاب ہونے والی ڈاکٹر زرقا تیمور ماضی میں پارٹی کی سرگرم کارکن رہی ہیں اور پی ٹی آئی لاہور وومن ونگ کی صدر رہ چکی ہیں۔ گزشتہ سینیٹ انتخابات اور اسمبلی کی وومین سیٹ پر نظر انداز کئے جانے پر انہوں نے صدائے احتجاج بلند کی تھی اور وہ خوش نصیب ہیں کہ اس مرتبہ بھی سینیٹ ریس میں ڈراپ ہونے سے بال بال بچ گئیں۔ ڈاکٹر زرقا تیمور سکن کیئر اور اینٹی ایجنگ کی ماہر ڈاکٹر ہیں، واضح رہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی اعلیٰ شخصیات اپنے چہروں کو خوبصورت بنانے اور کم عمر دکھائی دینے کیلئے مختلف سکن کیئر ڈاکٹرز سے ان کے کلینکس پر ٹریٹمنٹ کرواتی ہیں جبکہ بعض شخصیات کے سکن اینڈ بیوٹی اسپیشلسٹ ڈاکٹر بیرون ملک سے آتے ہیں۔

مسلم لیگ ن سے منتخب ہونے والے سینیٹر افنان اللہ خاں مرحوم سینیٹر مشاہد ﷲ خاں کے صاحبزادے ہیں جن کو میاں نواز شریف نے خصوصی طور پر سینیٹ کا ٹکٹ دیا ہے۔ پروفیسر ساجد میر ایک مذہبی جماعت کے سربراہ ہیں جو ہر دفعہ مسلم لیگ ن کے ووٹوں سے سینیٹر بنتے ہیں۔ مشہور کالم نگار اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے میڈیا ایڈوائزر عرفان صدیقی کو بھی مسلم لیگ ن نے سینیٹر منتخب کیا ہے۔ راولپنڈی چھاونی کے سابق رہائشی عرفان صدیقی گزشتہ چند برسوں میں نظریاتی طور پر میاں نواز شریف کے کافی نزدیک ہوگئے ہیں۔ پاکستان بار کونسل کے ممبر مشہور وکیل بار اور بنچ میں یکساں مقبول اعظم نذیر تارڑ بھی مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔ عاصمہ جہانگیر گروپ سے وابستہ میاں برادران کے وکیل سینیٹر بننے کے بعد اب اپر ہائوس یعنی سینیٹ میں اپنے قائدین اور پارٹی کا دفاع کریں گے۔ بیرسٹر سعدیہ عباسی سابق سینیٹر دوہری شہریت پر ایک مرتبہ نااہل ہوچکی ہیں۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی خدمات اور میاں برادران سے قربت کی وجہ سے ان کی بہن کو ایک مرتبہ پھر سینیٹر کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔ مریم نواز شریف کے سیاسی مشیر پرویز رشید پنجاب ہائوس کے نادہندہ ہونے کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو مطمئن کرنے میں ناکام ہو گئے جو میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ مسلم لیگ ق کے نومنتخب رکن کامل علی آغا نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز لاہور شہر میں کونسلر سے کیا۔ بعد ازاں ڈپٹی میئر اور پھر سینیٹر منتخب ہوئے اور ایوان میں کافی متحرک رہے۔ کامل علی آغا کی چوہدری برادران سے غیر مشروط وفاداری کے صلے میں انہیں پھر سینیٹ کی ممبری تفویض ہوئی۔ پنجاب میں سینیٹ ڈیل کے پیچھے چوہدری برادران تھے یا کوئی اور تھا ایک بات واضح ہے کہ عمران خان پنجاب حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے فی الحال بچ گئے ہیں۔

(صاحبِ مضمون سابق وزیر اطلاعات پنجاب ہیں)

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین