مولانا نعمان نعیم
(مہتمم جامعہ بنوریہ عالمیہ)
ضرورت مندوں اور محتاجوں پر خرچ کرنا ، ان کی ضرورت پوری کرنا ، بڑے اجر و ثواب کا موجب ہے ، اس میں عقیدہ اور دین و مذہب کا فرق نہیں رکھا گیا ہے ، محتاج شخص مسلمان ہو یا غیر مسلم ، مشرک ہو یا اہل کتاب ، رشتے دار ہو یا غیر رشتے دار ، ہر ایک پر خرچ کرنے کا جذبہ نیک اورباعث اجر ہے ، ایک موقع پر آپ ﷺنے فرمایا : تمام اہل مذاہب پر صدقہ و خیرات کرو‘ اس میں انسانیت کا احترام ہے ، اس لیے کہ بھوک و پیاس ہر ایک کو لگتی ہے ، غیر مسلم بھی اﷲ کے بندے اور اس کی مخلوق ہیں ، ان کے ساتھ ہمدردی کی جانی چاہیے ، بحیثیت انسان وہ بھی ہمارے حسن اخلاق اور رحم دلی کے مستحق ہیں ۔
قیدیوں کے ساتھ ظلم و ستم کا عام رجحان ہے ، وہ چوںکہ کمزور اور ناتواں بن کر ماتحتی میں آتے ہیں ، اس لیے ان کے ساتھ نازیبا سلوک کیا جاتا ہے ، اسلام نے اسے سختی سے منع کیا ہے ، سورۂ دہر میں مسکینوں اور یتیموں کے ساتھ قیدیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، عہد نبویؐ میں قیدی صرف غیر مسلم ہوا کرتے تھے ، اس لیے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیدی خواہ غیر مسلم ہو ، اس کے ساتھ بہتر سلوک کیا جائے گا ۔
صحابۂ کرامؒ نے اپنے قیدیوں کے ساتھ جو حسن سلوک کیا ، تاریخ اس کی مثال پیش نہیں کرسکتی ، جنگ بدر میں جب ستر قیدی ہاتھ آئے اور آپﷺ نے مختلف صحابۂ کرامؓ کے درمیان ان کو دیکھ بھال کے لیے تقسیم کیا اور بہتر سلوک کی ہدایت دی تو صحابۂ کرامؓ نے ان کے ساتھ حیرت انگیز حسن سلوک کا معاملہ کیا ، خود بھوکے رہے یا روکھا سوکھا کھایا ،مگر انھیں اچھا کھلایا پلایا ، ان کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر مقدم رکھا ، خود تکلیف اُٹھاکر اپنے قیدیوں کو راحت پہنچائی، جب کہ وہ حالت جنگ تھی اور ان ہی کفار کے ہاتھوں یہ ستائے گئے تھے ،یہاں تک کہ ان کے مظالم کے سبب صحابۂ کرا م کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا ، ان تمام باتوں کے باوجود غیر مسلموں کے ساتھ یہ رواداری اور بہتر سلوک سارے مسلمانوں کے لیے ایک روشن نمونہ ہے ، جس کے نقش قدم پر چلنا ہمارا نصب العین ہونا چاہیے ۔
دوسروں کے لیے دُعا قلبی سخاوت اور وسعت ذہنی کی مثال اور آئینہ ہے ، اس میں اظہار ہمدردی اور خیر خواہی بھی ہے کہ دوسروں کے لیے ایک شخص وہی چاہتا ہے جو اپنے لیے چاہتا ہے ، دوسروں کی ترقی ، راحت اور خوشحالی کی تمنا کرنا اسلام کی تعلیم ہے ، یہ مسلمانوں کے لیے بھی ہے اور غیر مسلموں کے لیے بھی۔ حضرت انسؓ کی روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے ایک یہودی سے پینے کی کوئی چیز طلب کی اس نے وہ پیش کی تو آپﷺ نے اسے دُعا دی کہ اﷲ تعالیٰ تمہیں حسین و جمیل رکھے ، چنانچہ مرتے وقت تک اس کے بال سیاہ رہے ۔(مصنف عبد الرزاق : ۰۱/۳۹۲)
عدل و انصاف کی شریعت نے بہت سخت تاکید کی ہے ،بلکہ یہ اسلام کا امتیازی وصف ہے کہ انسان کسی بھی حال میں ہو ،وہ عدل و انصاف کو ترک نہ کرے ، اسلام اپنے متبعین کو ہر گز اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی فرد یا گروہ پر ظلم و زیادتی کریں ، چاہے اس سے کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں اور اس نے کتنے ہی زیادتی کیوں نہ کی ہو۔ ارشاد ربانی ہے :اے ایمان والو! اﷲ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو ،کسی گروہ کی دشمنی تمہیں اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جاؤ ۔(سورۃ المائدۃ : ۸)
عدل سے کام نہ لینا ظلم ہے اور ظلم کبھی اﷲ تعالیٰ کو برداشت نہیں ہے ، خواہ وہ کسی جانور کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو ، آپﷺ نے مظلوم کی بددُعا سے بچنے کی تاکید کی ہے ، جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں داخل ہیں ۔حضرت عبید اﷲ بن فاروقؓ نے دو کافروں کو اس شبہے میں قتل کردیا کہ وہ قتل عمرؓ میں شریک تھے ، حضرت عثمانؓ مسند خلافت پر پہنچے تو انھوں نے مہاجرین و انصار سے رائے لی ، حضرت علیؒ نے فتویٰ دیا ،گردن اڑا دی جائے ، مہاجرین نے بالاتفاق کہا ، عمرؓ کے بیٹے کو قتل کردینا چاہیے ، حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے پاس سے خون بہا ادا کرکے معاملہ ختم کروایا ۔
مسجد ایک مقدس جگہ ہے ، اسے پاک رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ، وہاں مسلمان عبادت کرتے ہیں ،اس لیے ہر طرح کی آلودگی ، بچوں کی آمد و رفت ، شور و شرابہ ، ناپاک لوگوں کے داخلے سے حفاظت ایمان کا حصہ ہے ، اس کے باوجود غیر مسلم اقوام کے مسجد میں داخلہ اور قیام کا ثبوت ملتا ہے ، وفد ثقیف جب رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺنے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا ، تاکہ وہ مسلمانوں کو نماز پڑھتے دیکھیں ، آپ ﷺ سے عرض کیا گیا ، اے اﷲ کے رسولﷺ ، آپﷺ انھیں مسجد میں ٹھہرا رہے ہیں ، جب کہ وہ مشرک ہیں ، آپﷺ نے فرمایا زمین نجس نہیں ہوتی ، نجس تو ابن آدم ہوتا ہے ، ( نصب الرایہ : ۴/۰۷۲)
غیر مسلم کو عقیدے کے اعتبار سے قرآن نے ناپاک کہا ہے ، تاہم جسمانی اعتبار سے اگر وہ پاک صاف رہیں تو مسجد میں داخلے کی ممانعت نہیں ہوگی ،بالخصوص اس نیت سے کہ مسلمانوں کے طریقۂ عبادت ، ان کی اجتماعیت اور سیرت و اخلاق کو دیکھ کر ان کے دل نرم پڑیں اوروہ اسلام کی طرف مائل ہوں ، جیساکہ آپﷺ نے مختلف وفود اور اشخاص کو مسجد میں قیام کی اجازت اسی مقصد کے تحت دی تھی۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر کو اگر مسجد میں کوئی حاجت درپیش ہو یا مسلمان کی اس سے کوئی حاجت ہو تو وہ وہاں جاسکتا ہے ۔
خوشی اور غم خواہ غیر مسلم کو ہی کیوں حاصل نہ ہو ، وہ انسان ہیں ، اس لیے ان کی خوشی اور غم میں شمولیت حدود میں رہتے ہوئے جائز ہے ۔ ایک مرتبہ ایک یہودی کا جنازہ گزرا تو رسول اکرم ﷺکھڑے ہوگئے ، صحابہؓ نے عرض کیا یہ تو یہودی کا جنازہ ہے ، آپﷺ نے فرمایا ، آخر وہ بھی تو انسان تھا ۔( صحیح بخاری ، بحوالہ مشکوٰۃ : ۷۴۱ ) یعنی ہم نے انسانیت کا احترام کیا ہے اور انسان ہونے میں تمام نوع بنی آدم یکساں ہیں ۔
موت ایک خوفناک حادثہ ہے ، یہ حادثہ مسلمانوں کو ہوتو وہ یقینا ًلمحۂ فکر ہے ، لیکن غیر مسلم کے گھر میں بھی یہ حادثہ پیش آجائے تو اس کی بھی تعزیت اور انسانی ہمدردی کا اظہار کیاجانا چاہیے، یہ ایک سماجی تقاضا ہے اور عین اسلام کی تعلیم ہے ۔ امام ابویوسفؒ کا بیان ہے کہ حضرت حسن بصری ؒکے پاس ایک نصرانی آتا اور آپ کی مجلس میں بیٹھا کرتا ، جب اس کا انتقال ہوا تو انھوں نے اس کے بھائی سے تعزیت کی اور فرمایا : تم پر جو مصیبت آئی ہے ، اﷲ تعالیٰ تمہیں اس کا وہ ثواب عطا کرے جو تمہارے ہم مذہب لوگوں کو عطا کرتا ہے ، موت کو ہم سب کے لیے برکت کا باعث بنائے اور وہ ایک خیر ہو جس کا ہم انتظار کریں ، جو مصیبت آئی ہے ، اس پر صبر کا دامن نہ چھوڑو ۔
کاروبار ، خرید و فروخت ، لین دین انسانی زندگی کا لازمی جز وہے ، یہ چیزیں جس طرح مسلمانوں کے ساتھ درست ہیں ،اسی طرح غیر مسلم افراد کے ساتھ بھی جائز ہیں ، غیر مسلم طبقے سے تجارتی تعلقات شرعی حدود میں رہتے ہوئے کیے جاسکتے ہیں ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں :رسول اکرم ﷺ نے ایک یہودی سے ایک مدت کے لیے غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنے لوہے کی ذرہ رہن رکھی ۔ (صحیح بخاری)یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ کفار سے معاملہ کرنا جائز ہے ۔
قرآن وسنت اور تعلیماتِ نبویؐ پر مبنی ان ہدایات اور تعلیمات سے پتا چلتا ہے کہ اسلام احترامِ انسانیت اور رواداری کا دین ہے۔اسلامی ریاست میں غیرمسلموں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں،جو مسلمانوں کو حاصل ہیں۔غیرمسلموں سے کسی قسم کا امتیازی رویہ اور ان پر ظلم و تعدّی اسلامی تعلیمات کے قطعی منافی ہے۔ قرآن کریم ،احادیثِ نبویؐ اور سیرت پاک میں ہمیں غیرمسلموں کے سلسلے میں جو ہدایات اورمثالی تعلیمات ملتی ہیں، بلاشبہ وہ ایک مسلمان کے لیے روشن نمونہ عمل اور اسلامی ریاست کا ابدی دستور ہیں،جن پر عمل کرنا اسلامی ریاست اور مسلمانوں کی اجتماعی ذمے داری ہے۔