• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اردو زبان میں فصاحت کا معیار اردوہے نا کہ عربی یا فارسی

عربی کا لفظ ’’جن ّ ‘‘(نون پر تشدید کے ساتھ)اردو میں بھی مستعمل ہے اوراس کی مختلف شکلیں مثلاً جنّات اور اَجِنّہ بھی اردو میں رائج ہیں۔البتہ بعض اہل علم نے اجنہ اور جنات کے استعمال پر اعتراض بھی کیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں اصل صورت حال کیا ہے۔

لفظ جن کا مادّہ عربی میں ج ن ن ہے۔ اس سے مراد ہے آگ یا دھویں سے پیدا کردہ ایک غیر مرئی مخلوق۔ عربی میں لفظ جن کے نون پر تشدید ہے لیکن اردو میں تشدید کے بغیر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔لفظ’’جنّ‘‘ کو اردو میں واحد مان کر اس کی جمع ’’جنّات ‘‘ بنائی جاتی ہے۔ لیکن عربی میں جن ّ یا جنّہ اصل میں جمع ہے ، عربی میں اس کا واحد جِنّی ہے اور مونث جنّیہ۔ گویا اُردو میں ہم جسے جنّی(یعنی جن کی مونث) کہتے ہیںاسے عربی میں جنّیہ کہتے ہیں( یعنی جن کی مونث ) ۔وارث سرہندی نے اس ضمن میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اردو میں جن کو واحد قیاس کرکے اس کی جمع جنات بنالی گئی ہے لیکن یہ جمع صرف اردو میں رائج ہے، عربی میں نہیں۔

اردو میں اس ضمن میں ایک اور لفظ بھی مستعمل ہے اور وہ ہے ’’اَجِنّہ‘‘۔ لفظ اجنہ اردو میں بالعموم جن ّ کی جمع کے طور پر آتا ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ عربی میں ’’اجنّہ‘‘ کا لفظ ایک بالکل مختلف مفہوم میں مستعمل ہے اور وہ ہے ’’جنین ‘‘کی جمع۔جنین کے معنی ہیں:وہ بچہ جو ابھی بطنِ مادر میں ہو، گویاوہ بچہ جو ابھی پیدا نہ ہوا ہوجنین ہے اور عربی میں اس کی جمع اجنہ ہے ۔ جنین کو انگریزی میں embryo یا foetus کہتے ہیں۔

اسٹین گاس نے اپنی عربی فارسی بہ انگریزی لغت میں جنین کے ایک اور معنی بھی لکھے ہیں جو یہ ہیں:’’کوئی شے جو پوشیدہ ہوــ‘‘۔ رحم ِ مادر میں بچہ بھی پوشیدہ ہوتا ہے شاید اس لیے یہ نام پڑگیا ہو۔

اردو اور عربی کی بعض لغات بھی اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ اجنّہ دراصل جنین کی جمع ہے۔ اس کے علاوہ بعض کتب بھی جو صحتِ املا یا صحتِ زباں کے موضوع پر لکھی گئی ہیں اسی امر پر زور دیتی ہیں کہ یہ جنین کی جمع ہے اور اسے’’ جن ‘‘کی جمع کے طور پر برتنا غلط ہے ، مثلاًمولوی رفیع احمد اپنی کتاب ’’رسالہ تصحیح اللغات موسوم بہ اسم ِ تاریخی اصلاح ِ ضروری ‘‘میں لکھتے ہیں :

’’اجنّہ :بچہ جو شکم ِ مادر میں ہو ، جمع جنین کی۔۔۔یہ لفظ بمعنی جمع جنّی کے غلط مستعمل ہے ۔ جمع جنّی کی جنّہ ہے، اجنّہ یا جنّات نہیں‘‘۔اسی طرح منیر لکھنوی اپنی کتاب ’’غلط العوام و متروک الکلام ‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’جن کی جمع اجنہ غلط ہے۔ ‘‘ فرہنگ ِ آصفیہ نے لفظ جنات کے بارے میں لکھاہے کہ ’’ جن بمعنی دیو کی جمع مگر کتب ِ عربی میں اس طرح نہیں آیا ہے‘‘۔

احسان دانش ، اثر لکھنوی اور صاحبانِ قاموس الاغلاط نے بھی یہی لکھا ہے کہ ’’جن ‘‘کی جمع کے معنی میں ’’اجنہ ‘‘ استعمال کرنا غلط ہے۔لیکن ماہر القادری نے اس لفظ کے ضمن میں مختلف رائے دی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ عربی کی حد تک تو اجنہ کو جن کی جمع کے معنی میں استعمال کرنا غلط ہے لیکن اردو میں اس کی حیثیت غلط العام کی سی ہے لہٰذا اردو میں اجنہ بمعنی جن کی جمع درست ہے۔ دراصل انھوں نے اپنے رسالے ’’فاران‘‘ میں ’’جن ‘‘کی جمع کے طور پر’’ اجنہ ‘‘ کا لفظ لکھا تھا جس پر ایک عالم اور لغت نویس نے اعتراض کیا تھا۔

ماہر صاحب کی رائے سے اس عاجز طالب علم کو اتفاق ہے۔ ہم عرض کریں گے کہ اجنہ بے شک عربی میں جنین کی جمع ہے لیکن اردو میں اجنہ کو جن کی جمع کے معنی میں (یا واحد کے طور پر بھی)برتا جاتا ہے اور اس معاملے میں ماہر القادری کی اس رائے میں وزن ہے کہ اب اجنہ چونکہ اردو میں جن کی جمع کے طور پر رائج ہوچکا ہے لہٰذا اسے فصیح تسلیم کرلینا چاہیے۔ اس سلسلے میں دوباتیں یاد رکھنے کی ہیں:

۱۔ لغت ، قواعد اور لسانیات کا اصول ہے کہ لفظ کے معنی اس کے استعمال سے اور بالخصوص تواتر سے استعمال سے طے ہوتے ہیں۔

۲۔ کسی زبان میں جو لفظ آگیا وہ اب اس کا ہوگیا ، اب اس کا تلفظ ، املا، محاورات اور مرکبات، سب اس زبان کے استعمال کی بنیاد پر ہوگا جس نے یہ لفظ مستعار لیا ہے اور اصل زبان یاماخذ زبان کے اصولوں اور معیارکا اطلاق مستعار لینے زبان میں سو فی صد نہیں ہوسکتا۔

پس اردو میں فصاحت کی سند اردو سے دی جائے گی نہ کہ عربی اور فارسی سے۔خاص طور پر پڑھے لکھے لوگ اور اردو کے عالم وادیب و شاعر جب کسی لفظ کو خاص انداز میں برتیں تو اردو میں وہی اس کی سند ہے۔ دیکھیے لفظ ’’اجنہ ‘‘کا ’’جن ‘‘ کے معنوں میں استعمال اردو کے ایک بڑے شاعر مرزا سودا کے اس شعر میں ہوا ہے :

اس اجنّہ کو بھی اکثر اے لئیم

کہتے ہیں سیّد کہ گھر جس کا ہو نیم

یہاں اجنہ کا لفظ جن ّ کے معنوں میں آیا ہے اور بطور واحد آیا ہے۔اور اس شعر سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اردو میں جن کو سید بھی کہتے ہیںاور اجنہ کو جن (واحد ) کے معنی میں بھی اردو میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

بعد کے ادوار میں دیکھیں تو سید سلیمان ندوی جیسے جید عربی داں نے بھی اردو میں اجنہ کو جن کی جمع کے طور پر استعمال کیا ہے۔ وہ سیرت النبی میں لکھتے ہیں’’اجنہ جنگلوں اور میدانوں میں رہتے تھے ‘‘۔سلیمان ندوی نے عربی کی ایک لغت بھی مرتب کی تھی۔ کون کہہ سکتا ہے کہ وہ عربی میں اس لفظ کے استعمال سے ناواقف تھے۔ پس ثابت ہوا کہ اردو میں جن کی جمع کے طور پر جنات اور اجنہ کا استعمال بالکل درست ہے۔