• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لیاقت مظہر باقری

پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی جسے گیٹ وے آف اسلام یعنی "باب اسلام" کے نام سے پکارا جاتا ہے۔آج یہ مسائلستان بنا ہو اہے، وقت گزرنے کے ساتھ اس شہر کے مسائل بھی تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ تو وافر آبادی ہےجو کراچی کی حدود سے نکل کر حب سے بھی آگے تک پھیل گئی ہے ، جس کی روک تھام کسی طور نہیں کی جارہی ۔ اضافے کے بہت سے اسباب ہیں، جن میں قیام پاکستان کے بعد ابتدائی ایام میں ہندوستان سے ہجرتِ کرنے والے مہاجرین کی آمد تھی جس کا سلسلہ پچاس کی دھائی تک جاری رہا۔ 

دوسرے مرحلے میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات سمیت دیگر صوبوں سے مزدوروں، محنت کشوں اور کاروباری حضرات کی ایک بڑی تعداد نے اس شہر کا رخ کیا ،جس کا سلسلہ وقفے وقفے سے تاحال جاری ہے۔ یوں کراچی کے اطراف بہت سے چھوٹے چھوٹے مضافاتی علاقے وجود میں آنا شروع ہوگئے۔ مالیاتی فنڈز اس کے ترقیاتی کاموں، بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختص نہیں کیے گئے۔

بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں وسائل اور ترقیاتی فنڈز کی کمی نے اس شہر کو گونا گوں مسائل سے دوچار کردیا۔ ان مشکلات و وجوہات کے باعث کراچی کے لوگوں کو جہاں بےروزگاری، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، صاف پانی تو درکنار استعمال کےلئے پانی کی عدم دستیابی و دیگر بنیادی ضروریات کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے متاثر کیا وہاں دہشتگرد، نسلی و فرقہ وارانہ فسادات اور اسٹریٹ کرائمز جیسی غیر انسانی و غیر اخلاقی سرگرمیوں نے رہی سہی کثر بھی پوری کردی، یوں کراچی کہ جس کا شمار دنیا کے تیسرے بڑے شہر میں ہوتا ہے، اب یہ پسماندہ ترین ہونے کے ساتھ ساتھ جابجا پڑے گندگی و کچرے کے ڈھیروں اور ابلتے ہوئے گٹروں نے روشنیوں کے اس شہر کو آلودہ شہر قرار دے دیا ہے۔ 

سڑکوں کی حالت زار کی جانب نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ لاتعداد سڑکیں ٹوٹی پھوٹی جبکہ بیشتر سڑکیں کھنڈر اور بڑے بڑے گڑھوں کا نقشہ پیش کررہی ہیں۔ گزشتہ تیس برسوں کے دوران پانچ میئرز یا سٹی ناظم رہے ان سب نے کراچی کے مسائل اور اس کے لئے مختص کردہ فنڈز کو نا کافی قرار دیا۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے عدم دلچسپی، آپس کی نوک جھونک، بلدیاتی اداروں کے اختیارات کو سلب کرنا بھی اس شہر کی تباہی و بربادی کی ایک وجہ ہے۔

دعا ہے کہ آنے والے وقتوں میں اس شہرِ کراچی کی رونقیں بحال ہوں اور "عروس البلاد"، "غریب پرور" اور "روشنیوں کا شہر" جیسے القاب سے ایک مرتبہ پھر پکارا جانے لگے ، تاہم، اس کے لئے ضروری ہوگا کہ ملک کا 60 فیصد ریونیو کمانےوالے شہر کو اس کا جائز حق ادا کرتے ہوئے اس رقم کو اس کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی سمیت فلاوبہبود کے دیگر کاموں پر صرف کیا جائے۔ شہرِ قائد کے باسی ہونے کی حیثیت سےہماری بھی ذمہ داری ہے کے ہم اسے صاف ستھرا رکھنے، خوبصورت بنانے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کریں۔