آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نسلِ نو میں قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان

محمد فاروق دانشؔ

ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ نوجوانوں کی قوت کو صحیح سمت ، شعورا ور قائدانہ صلاحیت کی نمو تعلیم و تربیت ہی سے حاصل ہوتی ہے۔یہ خیال رہے کہ تعلیم جس قدر معیاری ہوگی ، اس کو حاصل کرکے اس لو سے چراغ جلانے والوں کا عزم بھی مصمم ہوگا اور ارادے بھی پختہ ہوں گے۔تعلیم ایک واضح راہ عمل ہے جس پر گامزن ہو کر انسان کام یابی اور خوش حالی کو گلے لگاتا ہے۔

دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کے بھی مختلف مدارج ہوتے ہیں، جن سے گزر کر نئی نسل ایک متوازن، سماج سے ہم آہنگ فکری سانچے میں ڈھلتی ہے یا پھر ایک غیر متوازن اور سماج سے غیر آہنگ غیر پسندیدہ شخصیت کا وجود ظہور میں آتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر تعلیم کے معیار پرہی انسانی زندگی کے دیگر معیار استوار ہوتے ہیں۔

تعلیمی معیار ،ہماری زندگی ،حالات اور رویوں کے معیار کاغماز ہے جو تعلیم اور قیادت آدمی کو ترقی ،تمدن اور تہذیب کی راہوں پر گامزن نہ کر سکے ، وہ ملک و قوم کی سربلندی کا باعث نہیں ہوسکتی۔تعلیم اور قیادت جہاں معاشرے کو فکر ی آزادی عطا کر تی ہے ، وہیںانسانوں کو ذہنی غلامی کی زنجیروں میں باندھنے کا کام بھی انجام دیتی ہے۔ زندگی کے مختلف شعبہ جات میں اچھے ماہرین پیداکرنے میں ہماری ناکامی کی وجہ بھی نئی نسل کی قائدانہ صلاحیتوں کی شناخت ،اعتراف و فروغ میں ہمارا معاندانہ رویہ ہے۔آج قیادت کا بحران صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں دکھائی دیتاہے۔

اگر ہم ایسے ماحول میں زندگی گزاررہے ہیں ،جہاں ہر قسم کے پروگرام جو کہ سماجی ،معاشرتی اور قومی سطح پر ناپسندیدہ اور گمراہی کی طرف لے جائیں توایسے میں ہم اپنی نئی نسل کو صحیح خطوط کی جانب گامزن کرنے کی بہ جائےغلط روش پر لے جا سکتے ہیں۔،مثلاً ہم تفریح طبع کے لیے نوجوانوں کو جو ٹی وی چینلزدیکھنے کی اجازت دیتے ہیں، انھیں اخلاقی معیار پر بالکل بھی نہیں پرکھتے۔

یوں سمجھ لیجیے کہ روزمرہ زندگی اور اس کے لوازمات کو اختیار کرنے کے طریقے کلی طور پر ان لوگوں کے سپرد کر دیتے ہیں، جنھیں خود اس بات کا شعور نہیںہوتاکہ وہ تفریح کے نام پر بگاڑ کا سامان کر رہے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ نوجوان اس پر خوش بھی ہیں۔وہ اس سوچ سے نابلد ہیں کہ انھیں معاشرے کی اصلاح کے لیے کئی امور انجام دینے ہیں جس کے لیے انھیں خرافات سے نکل کر سنجیدہ امور کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔

یہ امر غور طلب ہے کہ تعلیمی نظام جن اقدار کو رواج دیتا ہے ،طلبہ اپنی زندگی میں ان ہی اقدار کو اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اُن میں قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ اور شخصیت کی تعمیر کے لیے نچلی سطح پر سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔اسکول کی زندگی طلبہ کی ذہنی ،فکری رویوں کی تعمیر ،ترقی ، تبدیلی اور ارتقاکا نقطہ آغاز ہوتی ہے۔ اساتذہ ،طلبہ کی زندگی کے اس اہم دور کو ضائع نہ کریں۔

ان کی قائدانہ صلاحیتوں کی نشو ونما کے ذریعے معاشرے کو امن و آشتی کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے، ان کی زندگی استاد کی تعلیم و تربیت کی زیر اثر پروان چڑھتی ہے،وہ اپنی زندگی کے ہرشعبے میں استاد کی رہنمائی کے تابع رہتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ کے لیے لیڈرشب کوالیٹی پروگرامز کا انعقاد ناگزیر ہے ۔

یہ بات بھولنے والی نہیں کہ کسی بھی ملک کی ترقی اورکامرانی میں قائدانہ صلاحیتیں آکسیجن کا کردار ادا کرتی ہیں۔دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی ترقی و کامرانی میں تعلیم اورلیڈرشپ کا کلیدی کردار رہا ہے۔ملک و قوم کی پائیدار ترقی و استحکام کے لیے طلبہ میں لیڈرشپ کوالیٹی کو فروغ دینا اشد ضروری ہے ۔ نئی نسل میں قیادت کے اوصاف پیدا کیے بغیر ملک کو استحکام اور دیرپا خوش حالی فراہم کرنا بے حد دشوارہے ۔ 

اساتذہ ،مسائل کا شکوہ اور وسائل کی قلت کا رونا چھوڑ کر دست یاب سہولتوں اور تعلیمی نصاب کو بہتر طریقے سے بروئے کار لاتے ہوئے جامع منصوبہ بندی ،مناسب تعلیمی سرگرمیوں کی انجام دہی ، مسلسل رہنمائی اور رہبری کے ذریعےطلبہ میں قائدانہ صلاحیتوں کی نشوونما میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتیں اور تجربات صرف کریںتو بہتر نتائج نکل سکتے ہیں۔

ایک مشہور کہاوت ہے جو ہمارے اس خیال کی عکاس ہےکہ ’’ اگر ایک سال کی منصوبہ بندی کرنی ہو تو مکئی اگاؤ، اگر دس سال کی منصوبہ بندی کرناچاہتے ہو تو درخت اُگاؤ اور اگرصدیوں کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہو تو اپنے عوام کی تربیت کرو انھیں بہترین تعلیم دو۔‘‘

جب تک ذہن و سوچ کا اندازنہیں بدلتا، حالات نہیں بدل سکتے۔ حالات کا فکری تبدیلی کے بغیربدلنا ناممکن ہے۔ اسی لیے تبدیلی کے لیے ہمیں نئی نسل پر توجہ مرکوز کرناچاہیے۔ قائدانہ صلاحیتوں کی موجودگی کے باوجود موقع نہ ملنے کے سبب تشدد اور عدم برداشت کی جانب مائل ہو رہی ہے۔تشدد، منفی رویوں اور عدم برداشت جیسے غیر پسندیدہ رجحانات پر طلبہ میں قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ کے ذریعے قابو پایا جاسکتا ہے۔

تعلیمی اداروں کو جسمانی ،روحانی اور تربیت فراہم کرنے والے مراکز میں بدلنا اسی وقت ممکن ہے ،جب اساتذہ ذہنی و روحانی طور پر فعال ہوں۔پرائمری تعلیم سے قطع نظر ہماری تمام تر توجہ سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری ایجوکیشن پر مرکوز ہے، جس کی وجہ سے بچوں کی غیر ہموار اور غیر متوازن شخصیت ابھر کر سامنے آرہی ہے۔یہ حقیقت جان کر بھی انجان بنے ہوئےہیں ۔ جب تک بنیاد پختہ نہ ہو کوئی بھی عمارت مضبوط اور پائیدار نہیں ہوسکتی۔

قیادت کے تعمیری عناصر میں علم اور کردار کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ملک و قوم کی آب یاری کا حوصلہ رکھنے والی نئی نسل کو مثبت تعمیری اوصاف سے ہم آہنگ کرنا ہوگا،صلاحیتوں کو مناسب سمت اور رفتا ر سے روشناس کرنا پڑے گا،احترام انسانیت کے درس کے ساتھ عزت نفس کے جوہر سے آراستہ کرنا ہوگا، شخصی مفادات پر اجتماعی مفادات کو ترجیح دینے کی صلاحیت کو پروان چڑھانا ہوگا،ایثار و قربانی کے جذبے سے آراستہ کرناہوگا،صبر و تحمل کا مادہ پیدا کرنا ہوگا، اعتماد کی راہوں پر گامزن کرنا ہوگا،رواجی ذہن و فکر کے شکنجوں سے آزاد کرکےارتقا،ترقی اور کامیابی کے حقیقی معنی سے انھیں آگاہ کرنا ہوگا، قوت فیصلہ اور قوت نافذہ کی صلاحیت پیداکرناہوگی۔

طلبہ میں سیاسی شعور کی آب یا ری اور قومی شعور کو بیدار کرنے والی سیاست آج جارحانہ غیر تعمیری اور پرتشدد رویوں کی وجہ سے مقبولیت کھو بیٹھی ہے۔ تعلیمی اداروں میںپر تشدد ماحول، آمریت پسندی، مذہبی،لسانی اور علاقائی بنیادوں نے طلبہ میں تخریبی مزاج کو پھلنے پھولنے کے خوب مواقع فراہم کیے جس کے سبب تعلیمی اداروں کے معیار کو کافی نقصان پہنچا ۔ تعصب اورنفرت کے اسی بطن سے عدم برداشت،صوبائی عصبیت اور انتہا پسندی نے جنم لیا۔ غیر صحت مند ماحول سے تعلیمی اداروں میں ادبی اور ثقافتی سرگرمیاں محدود ہو تی چلی گئیں اورنوجوانوں کی غیر نصابی صلاحیتوں نکھرنے کے بجائے منجمد ہوکر رہ گئیں۔

آج نئی نسل میں قائدانہ صلاحیتوں کاجو بحران یافقدان دکھائی دیتا ہے ،اس کی وجہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے نئی نسل کی عدم تربیت اور تعلیمی اداروں کی جانب سے دوران تعلیم ان کے سیاسی شعورکی آبیار ی کا فقدان ہے۔ مطالعہ،کھیل کود اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں کی انجام دہی سے طلبہ میں موثر طریقے سے قائدانہ اوصاف پیداکیے جاسکتے ہیں۔ سماجی مفکرین و ماہرین تعلیم مدارس پر زور دیتے ہیں کہ وہ بچوں میں اوائل عمری سے ہی دیگر افراد کو متاثر کرنے والے قائدانہ اوصاف اور انسانی قوت کے سر چشموں کو اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے مناسب طور پر استعمال کرنے کا داعیہ پیدا کریں۔ 

قائدانہ صلاحیتوں کی شخصی اور سماجی اہمیت کے پیش نظر اساتذ ہ طلبہ میں مطلوب قائدانہ کردار کو پروان چڑھانے،ان کے شخصی اوصاف و کردار کو صحت مند و سماج کے لیے پسندیدہ بنانے میں ایک اعلیٰ فرض شناس رہبر و رہنما کا کردار انجام دیں۔اساتذہ کی جانب سے کیے جانے والے یہ اقدام نہ صرف طلبہ میں قائدانہ اوصاف پیداکرنے کا سبب بنتے ہیں بل کہ دیگر افراد کے لیے رہنما اصول کا کام کرتے ہیں نتیجتاً شخصی ترقی،مثالی تمدن اوربہترحکمرانی کی خصلتوں کو از خود فروغ حاصل ہوتا ہے۔

ایک بہترین قائد کی پہچان اس کی ذہنی بالیدگی ،حوصلہ و ہمت ،بلند نگاہی اور اس کے جرات مند اقدامات سے ہوتی ہے۔ اساتذہ طلبہ کو ایسے عظیم رہنماؤںاور قائدین کی زندگیوں سے سبق فراہم کریں جنہوںنے معاشرے کا رخ ہی بدل دیا، زندگی کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ زمانےکے تغیرات و تبدیلیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے سماجی اقدار کی پاس داری کو ملحوظ رکھتے ہوئے مستقبل کی قیادت کی تیاری بلاشبہ تعلیمی نظام اور اساتذہ کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ نوجوانوں مین سیاسی تدبر اور تفہیم کے لیے بھی اساتذہ ان کی درست راہ نمائی اور تربیت کا فریضہ انجام دیں گے تو انھیں دنیا و آخرت دونوں میں ضرورسرخ روئی حاصل ہوگی۔