اکبر ایس بابر کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اکبر ایس بابر کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اکبر ایس بابر کی اسکروٹنی کمیٹی کا ریکارڈ دینے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریکارڈ فراہم کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اکبر ایس بابر کی اسکروٹنی کمیٹی کا ریکارڈ دینے کی درخواست پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

درخواست گزار اکبر ایس بابر اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت آج پی ٹی آئی کے وکیل شاہ خاور نے دلائل دیئے۔

الیکشن کمیشن پنجاب کے ممبر نے کہا کہ جو دستاویزات کمیٹی نے باہر سے منگوائیں ان کے علاوہ آپ اپنے کاغذات دیں۔

وکیل شاہ خاور نے کہا کہ پارٹی کے ڈاکیومنٹس پارٹی کی پراپرٹی ہوتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ اگر بار بار اعتراضات لگائے گئے تو کیس میں تاخیر کے ذمے دار یہ لوگ ہوں گے۔

الیکشن کمیشن کے ممبر شاہ جتوئی نے استفسار کیا کہ کیا اسکروٹنی کمیٹی قانونِ شہادت یا ٹی او آر کے تحت کام کر رہی ہے۔

اکبر ایس بابر کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کمیٹی قانون شہادت کے طور پر کام کر رہی ہے، نہ ٹی او آر کے تحت، قانون کے مطابق اوپن اور شفاف اسکروٹنی ہونی چاہیئے، فریقین کے کاغذات کی تصدیق بھی اسکروٹنی کا کام ہے، ریکارڈ نکال کر دیکھ لیں ان کی درخواستیں مجھ سے زیادہ ہیں، جو دستاویزات دی گئیں ان کی تصدیق کرانا ہمارا حق ہے۔

ممبر سندھ الیکشن کمیشن نے کہا کہ جب کمیشن میں اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ آئے گی تو سب اوپن ہو گا۔

اکبر ایس بابر کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ان کے کسی بھی کاغذ کی ساکھ نہیں ہے۔

ممبر پنجاب الطاف ابراہیم نے سوال کیا کہ اسکروٹنی کمیٹی کاغذات کو لازمی تصدیق کرتی ہوگی؟

اکبر ایس بابر کے وکیل نے جواب دیا کہ کسی کمپنی نے اپنا ڈاکیومنٹ اپنی ویب سائٹ پر لگا دیا تو وہ پبلک ڈاکیومنٹ ہے، ان کی خواہش ہے کہ اکبر ایس بابر کمیٹی کے ممبر نہ رہیں، ہم ان کاغذات کو اسکروٹنی کے لیے ہی استعمال کریں گے، غلط استعمال نہیں کریں گے، حنیف عباسی کے فیصلے کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔

ممبر پنجاب الطاف ابراہیم نے کہا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ دونوں وکلاء اور کمیٹی دوبارہ ان ڈاکیومنٹس کا جائزہ لیں، کسی طرح حل نکالنا ہے، ثابت کرنے کے لیے 2 چار ٹرانزیکشن ہی کافی ہوتی ہیں۔

اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ مجھے4 دن دیئے جائیں، اپنی ٹیم کے ساتھ جائزہ لے کر دستاویزات واپس کر دوں گا۔

چیف الیکشن کمشنر نے سوال کیا کہ کیا دستاویزات کی کاپیاں نہیں ہو سکتیں؟

اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی کے سربراہ کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔


چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم ان کو ہدایت دے سکتے ہیں، وہ آپ کو وقت دیں گے۔

اکبر ایس بابر کے وکیل نے کہا کہ اگر کمیٹی کمیشن کو رپورٹ دے گی تب بھی کمیشن کو ڈاکیومنٹ ہمیں دینا ہی ہے تو اب کیوں نہیں؟

پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی درخواست گزار کو ریکارڈ فراہمی کا کہہ چکی جس سے انکار کیا گیا۔

چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو اسٹیٹ بینک سے منگوائے گئے پی ٹی آئی اکاؤنٹس کی تفصیلات دی گئیں؟

اکبر ایس بابر کے وکیل نے جواب دیا کہ نہیں ہمیں اسٹیٹ بینک سے منگوایا گیا ریکارڈ بھی نہیں دکھایا گیا۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے اپنی فیکٹ فائنڈنگ کے لیے ریکارڈ منگوایا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے جو ریکارڈ جمع کیا، بس وہ فراہم کرنے کا مسئلہ ہے، باقی تو تمام باتوں پر اتفاق ہے، دونوں پارٹیاں یہ معاملہ حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔

الیکشن کمیشن نے اکبر ایس بابر کی اسکروٹنی کمیٹی کی ریکارڈ کے فراہمی کی درخواست پر ریکارڈ فراہم کرنے یا نہ کرنے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

قومی خبریں سے مزید