’کوئی بھوکا نہ سوئے‘۔ نعرہ یا پائیدار منصوبہ؟
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’کوئی بھوکا نہ سوئے‘۔ نعرہ یا پائیدار منصوبہ؟

آپ سب کو رمضان کے ماہِ مقدس کی مبارکباد۔

رحمت، مغفرت اور نجات کے دن، قیام کی راتیں۔ ﷲ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے زیادہ سے زیادہ رحمتیں برکتیں سمیٹنے کی۔

آج مجھے بات کرنی ہے ’کوئی بھوکا نہ سوئے‘ کے عمران مشن پر۔ بہت ہی نیک ارادہ، خدمتِ خلق کا عزم لیکن کیا خیراتی کھانا، ٹرکوں کے سامنے پھیلے ہاتھ، ملک سے بھوک ہمیشہ کے لئے ختم کر سکیں گے؟ اس کے لئے اربوں روپے کے فنڈز کہاں سے آئیں گے؟ یہ تصدیق کون کرے گا کہ پکا پکایا کھانا لے جانے والے واقعی مستحق ہیں؟ کیا حقیقی بھوکے پیاسے اس طرح سر عام اپنی عزتِ نفس کا سودا کر سکیں گے؟

پاکستان مسلمہ طور پر ایک غریب اور ترقی پذیر ملک ہے۔ غربت میں اس کا نمبر 54واں ہے۔ 22کروڑ میں سے 8کروڑ 70لاکھ ہم وطن غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ گزشتہ برس سے کورونا کی وبا بھی غریبوں کی تعداد بڑھانے میں خطرناک کردار ادا کررہی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق وہ پاکستانی جوکام کرنے کے قابل ہیں مگر انہیں مواقع میسر نہیں آ رہے۔ ان کی تعداد اس سال 66لاکھ بتائی جاتی ہے۔ یہ زیادہ تر نوجوان ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی تحقیق ہے کہ کورونا کی وجہ سے بےروزگار ہونے والے افرادکی تعدادمیں20لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔

ایسے منظر نامے میں کسی ملک کے وزیراعظم کی بصیرت کیا ہونی چاہئے؟ پاکستان جیسا ملک جہاں ہر سال آبادی میں اضافہ ہوتا ہے اور مشکلات میں بھی، جہاں 22کروڑ کی زندگی آسان کرنے کا کوئی سسٹم نہیں بن سکا ، وہاں کے وزیراعظم کو تو پوری مملکت کے بارے میں طویل المیعاد منصوبہ بندی کرنی چاہئے یا دستر خوان اور پناہ گاہوں جیسے ٹوٹکے بروئے کار لانے چاہئیں؟ پاکستان کو ﷲ تعالیٰ نے انتہائی اہم اور حساس محل وقوع دیا ہے۔ ہر صوبے میں بےحساب معدنی و قدرتی وسائل، 60فیصد سے زائد نوجوان، توانا آبادی، اکثریت محنت کش یہاں تو بےشمار مثالی اسکیمیں شروع کی جا سکتی ہیں۔ یہ تو بہت ہی محدود اور ڈنگ ٹپائو سوچ ہے کہ کچھ لوگوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کردیا جائے۔ یہ سلسلہ تو پہلے سے کئی مقامی علاقائی تنظیموں نے شروع کیا ہوا ہے۔ ان کے ساتھ اگر اشتراک کرنا ہی ہے تو بیت المال کی سطح پر ہو سکتا تھا نہ کہ پاکستان کا وزیراعظم، وفاقی وزراء اور خصوصی معاونین اپنا قیمتی وقت اس کی نذر کررہے ہوں۔ میرے رابطے پر جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے ایک دردمند پاکستانی ارتقا زیدی کا کہنا ہے کہ نیک نیتی پر شبہ نہیں اور نہ ہی ثانیہ نشتر کی صلاحیتوں پر کوئی شک لیکن ایسا پروگرام کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت شروع ہونا چاہئے۔ پورے پاکستان میں کروڑوں لوگ اس کارِ خیر کے حقدار ہیں، ان تک کیسے اور کب رسائی حاصل ہوگی؟ اس کا بجٹ کتنا ہوگا اور یہ کھانا کب تکفراہم ہو سکے گا؟ جب یہ حکومت یا آنے والی حکومت کسی وجہ سے یہ لنگر جاری نہیں رکھ سکے گی تو یہی مفت کھانے والے دھرنے شروع کردیں گے۔ میرے سوال پر ایک سابق وزیر خزانہ محتاط انداز میں کہہ رہے ہیں۔ یہ حکومت کی طرف سے فاقہ کشی پر مجبور غریبوں کے لئے ایک کوشش ہے۔ جب احساس پروگرام کے تحت آمدنی گروپوں کی شماریات مکمل ہوجائیں گی توپھر ان گھرانوں تک بھی مدد پہنچانا آسان ہوجائے گی۔ میرے پوچھنے پر وزیراعظم کے ایک معاونِ خصوصی کا موقف یہ ہے کہ اس کوشش سے شہری علاقوں میں شدید غربت کا خاتمہ ممکن ہوگا جہاں لوگوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے۔ سیلانی ٹرسٹ جیسے مخیر ادارے سے حکومت کی شراکت نتیجہ خیز ہوگی کیونکہ یہ ادارے پہلے سے کام کررہے ہیں۔ حکومت کی مدد سے اس تعاون کا دائرہ وسیع ہوگا۔ خرد برد پر ان کی نظر ہوگی۔ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ غربت کے خاتمے کے لئے یہ کوئی پائیدار انتظام نہیں ہے۔ یہ پناہ گاہوں کی طرح ایک ہنگامی امداد ہے۔ ’احساس‘ کے ادارے کے تحت غربت کے خاتمے کے لئے نقد رقوم کی تقسیم سمیت بہت سے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ میں نے فیس بک پر بھی احباب سے رائے لی تھی۔ میرینا ناز کہتی ہیں: یہ اس حکومت کا ڈرامہ ہے۔ جب تک بےایمانی ختم نہیں ہوگی ایسے پروگرام کامیاب نہیں ہوں گے۔ عفت سلطانہ کا خیال ہے کہ ہمارے ہاں ایسے ہٹے کٹے کام چور نکھٹو مرد ہیں جو چارپائیاں توڑتے ہیں۔ غریب بیویاں محنت مزدوری کرکے گھر چلاتی ہیں۔ اس اسکیم کے تحت سرکاری خزانے کو حکومتی اہلکار مزید لوٹیں گے۔ ثریا قمر کا کہنا ہے کہ اسلام کا نظام تقسیم دولت زکوٰۃ کی ادائیگی کے ذریعے قابلِ عمل ہے۔ وسائل کی تقسیم میں توازن قائم کرنے کےلئے کارڈ کا اجرا کیا جائے۔ جویریہ یاسمین کا مشورہ ہے کہ سرکاری کھانا صرف ان محنت کشوں کو فراہم کیا جائےجو اپنے گھروں سے دور ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمناف کی رائے ہے کہ حکومت ٹیکنیکل تعلیم دے۔ روزگار کے مواقع پیدا کرے۔ کمپیوٹر سائنسز، شمسی توانائی کے حصول کی ریسرچ پر قوم کو لگائے۔ عبدالسلام خان یورپ اور مغربی ملکوں کی طرز کی فلاحی ریاست کے قیام پر زور دے رہے ہیں۔ جہاں تعلیم مفت ہو۔ بے روزگاری الائونس ہو۔ علاج سرکاری خرچ پر۔ بچوں کی تعلیم حکومت کے ذمے ہو۔ بیوائوں اور یتیموں کی کفالت ہو۔ حکومت بھی اگر اسی طرح ماہرین اور عوام سے مشورے لے تو بہت سی تجاویز سامنے آسکتی ہیں۔

8کروڑ ہم وطنوں کو غربت کی سرحد سے باہر نکالنے کے لئے وزیراعظم اپنے عظیم دوست ملک چین سے رہنمائی حاصل کریں۔ اس نے کھانا ٹرک نہیں چلائے، اپنے وسائل سے کام لیا ہے۔ بلوچستان، جنوبی پنجاب، سندھ میں ہزاروں ایکڑ زمین بھوکی پیاسی سورہی ہے۔ دریا پانی کو ترستے ہیں۔ ندیاں پیٹ پر پتھر باندھ کر سوتی ہیں۔ پہاڑ سونا تانبا تیل اگلنے کو تیار ہیں۔ آن لائن روزگار نوجوانوں کی راہ تک رہا ہے۔ یہ سب پاکستانیوں کی غربت دور کر سکتے ہیں۔ کسی کو بھوکا نہیں سونے دیں گے۔ وزیراعظم اور ان کے معاونین کی سوچ بریانی کی تھیلی تک محدود کیوں ہے؟

تازہ ترین