ای سگریٹ کا بڑھتا رجحان نوجوانوں کی نشوونما کیلئے خطرناک ہے‘ ماہرین
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ای سگریٹ کا بڑھتا رجحان نوجوانوں کی نشوونما کیلئے خطرناک ہے‘ ماہرین

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) نکوٹین کا استعمال دماغی نشوونما پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ نوجوانوں میں ای سگریٹ کا بڑھتا رجحان انکی نشوونما کیلئے مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین نے ایس ڈی پی آئی کے زیراہتمام منعقدہ ویبنار میں اپنی آراء دیتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر جاوید احمد نے کہا کہ تیس سے زیادہ ممالک میں پہلے ہی ای سگریٹ کے استعمال پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نکوٹین کا استعمال انتہائی نقصان دہ ہے جس سے نوجوان نسل بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ای سگریٹ کے اشتہارات اور عوامی مقامات پر اس کے استعمال پر سختی سے پابندی ہونی چاہئے تاکہ اجتماعی طور پر اسکے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ خرم ہاشمی نے کہا کہ انکی تنظیم ای سگریٹ کے مضر اثرات سے متعلق عوامی شعور کی بیداری کیلئے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین نے اس نوعیت کی مصنوعات کو انتہائی نقصان دہ قرار دیا ہے۔ اس رجحان کو روکنے اور راست اقدامات کیلئے نئی قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ صحت اور ماحول کو محفوظ بنایا جا سکے۔ محمد وسیم جنجوعہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ای سگریٹس کی کھلے عام فروخت جاری ہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں اسکی تشہیر پر اربوں ڈالرز خرچ کئے جا رہے ہیں جس کا تدارک ضروری ہے۔ محمد صابر نے کہا کہ ای سگریٹ کو روایتی سگریٹس کی طرح ٹیکسوں کے دائرے میں لایا جائے اور پاکستان میں اس کے استعمال کی شرح معلوم کرنے کیلئے سروے کروایا جائے۔ سید واصف نقوی نے کہا کہ بدقسمتی سے اگلی نسل کو تمباکو کی مصنوعات کی جانب راغب کیا جا رہا ہے جو انتہائی افسوسناک امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای سگریٹ صحت کے مسائل کا باعث ہی نہیں بلکہ اس کے استعمال سے قومی خزانے کو محصولات کی مد میں بھی نقصان پہنچ رہاہے۔
اسلام آباد سے مزید