پاکستان کی کامیاب ثالثی پر بھارت میں صفِ ماتم بچھ گئی۔
بھارتی تجزیہ کاروں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شہرت کا ڈنکا بجتا دیکھا تو وزیراعظم نریندر مودی کو لتاڑ ڈالا۔
ایک تجزیہ کار نے کہا کہ 10 سال پہلے اُڑی میں ہوئے واقعے پر نریندر مودی نے کہا تھا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کردیں گے۔ آج سفارتکاری کے میدان میں پاکستان کا نام ہے اور بھارت اور نریندری مودی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی نریندر مودی کو نہیں بخشا، انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی میں پاکستان کے کردار نے ان کی انتہائی شخصی سفارت کاری کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور خود ساختہ وشواگرو مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے۔
کانگریس کے جنرل سیکریٹری اطلاعات جےرام رمیش نے کہا جنگ بندی میں پاکستان کی شمولیت بھارت کی اس دیرینہ پالیسی کو کمزور کرتی ہے جس کے تحت اسلام آباد کو دہشت گردی کے معاملے پر عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کا کردار مسٹر مودی کی سفارت کاری کے اسلوب اور مواد دونوں پر سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے بھارتی آپریشن سندور پر بھی وضاحت طلب کرلی اور مودی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مئی 2025ء میں اچانک جنگ ختم کرنے کی کبھی مناسب وضاحت پیش نہیں کی۔
واضح رہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں دو ہفتوں کی توسیع کردی ہے، جبکہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی جنگ بندی کی منظوری دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے یا سویلین انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی ڈیڈ لائن سے صرف ڈیڑھ گھنٹہ قبل ہی جنگ بندی کا اعلان کیا۔