• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

شفاف انتخابات: حکومت اور اپوزیشن کو ایک میز پر آنا ہوگا

کرونا وائرس کی شدت اور رمضان المبارک کی وجہ سے سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس التواء کا شکار ہیں جس کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت اسلام آ باد میں سیا سی گہما گہمی نہ ہونے کے برا بر ہے البتہ کراچی کے حلقہ این اے 249کے ضمنی الیکشن کے نتائج نے قومی سیا ست میں ضرور ارتعاش کی کیفیت پیدا کردی ہےبالخصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن آمنے سامنے آگئی ہیں ۔ استعفوں کے معاملہ پر پیداہونے والی تلخی کو مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اب دوبارہ دونوں جانب سے لفظی گولہ باری کی جا رہی ہے۔ 

الیکشن کمیشن نے سر کاری نتائج روک کر دوبارہ گنتی کی درخواست کی سماعت کا درست فیصلہ کیا کیونکہ صرف مسلم لیگ ن نہیں بلکہ ہارنے والی تمام جماعتوں نے انتخابی عمل کے بارے میں سوالات اٹھا دیے۔وزیر اعظم عمران خان نے اس حلقہ کےنتائج پر اعتراضات کے تناظر میں اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر مذاکرات کی پیش کش کردی ہے۔وزیر اعظم کا موقف ہے کہ کم ٹرن آئوٹ کے با وجود دھاندلی کے شور کا واحد حل الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہے۔ 

انہوں نے اپوزیشن کو پیش کش کی ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ بیٹھے اور ای وی ایم ماڈل کا انتخاب کرے ۔وزیر ا عظم نے انتخابی عمل کی شفافیت کیلئے جس عزم کا اظہار کیا ہے اسے بہر حال سر اہنا چاہئے اسلئے کہ 2013اور2018کے انتخابی نتائج پر بھی اعتراضات کئے گئے ۔اب بھی اپوزیشن 2018کے انتخابی نتائج کی بنیاد پر ہی نئے الیکشن کا مطالبہ کر رہی ہے۔ کراچی سے پہلے ڈسکہ کے انتخابات کالعدم قرار دینا پڑے تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ انتخابی نظام ہی ناقص ہے ۔

انتخابی عمل کی ساکھ اب ختم ہوچکی ہے۔کراچی کے ضمنی الیکشن میں کم ٹرن اوور کی وجہ کرونا اور رمضان کے علاوہ یہ بھی ہے کہ عوام کا انتخابی عمل سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے جو قابل تشویش بات ہے۔ 

جس طرح انتخابی نتائج کو مسترد کیا جا ر ہا ہے اس سے تو یہ الیکشن اب مذاق بن کررہ گیا ہے۔الیکشن کمیشن کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے کہ ڈسکہ میں تو غائب ہونے والے پر یذ ائیڈنگ افسروں نے دھند کا بہانہ بنالیا تھا مگر کراچی شہر کے حلقہ میں نتائج 11گھنٹے کے بعد آ نا اور فارم 45پر پر یذ ائیڈنگ افسروں کا دستخط نہ کرنا باعث تشویش بات ہے۔صرف الیکٹرانگ ووٹنگ مشین سے انتخابی عمل کی اصلاح نہیں ہو جا ئےگی۔ الیکشن کمیشن کے انتظامی اور مالی اختیارات کو بڑھایا جا ئے ۔ الیکشن کمیشن کو مکمل خود مختاری دی جا ئے ۔نئی سخت ایس او پیز بنائی جا ئیں جس میں پر یذ ائیڈنگ افسر سمیت انتخابی عملہ کا بھی احتسابی میکانزم بنایا جا ئے۔ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ انتخابی عملہ کا تعلق صو بائی محکموں سے ہوتا ہے جن پر بہر حال متعلقہ صو بائی حکومت اثر انداز ہوسکتی ہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی سیا سی جماعت سے ہو۔ پریذ ائیڈنگ افسر کو ہر گز یہ اختیار نہیں کہ وہ فارم45پر دستخط سے انکار کرے یا نتائج کی ترسیل میں تاخیر کرے ۔ پر یذ ائیڈنگ افسر کے ر یٹرننگ افسر کے دفتر پہنچنے میں تاخیر تو ہوسکتی ہے لیکن اسے گنتی مکمل ہونے کے فوری بعد فارم 45کی کاپی آراو آفس کو وٹز ایپ کرنی چاہئے تاکہ بعد میں اسے تبدیل کرناممکن نہ ہو اور ریزلٹ بھی جلد تیار ہوسکے۔الیکٹرانگ ووٹنگ مشین کے استعمال میں یہ پہلو بھی پیش نظر رکھا جا ئے کہ ہمارے ملک میں شرح خواندگی کم ہےبالخصوص دیہی علاقوں میں اس کا استعمال شایدہی قابل عمل ہو۔البتہ شہری حلقوں میں اس ماڈل کو اپنا یا جا سکتا ہے ۔ 

اس میں بھی سافٹ ویئر کی رازداری اور شفافیت کے بارے میں سوالات اٹھیں گے ۔اب تک ضمنی انتخابات میں جو الزامات سامنے آئے وہ زیادہ تر انتظامی نوعیت کی مداخلت کے ہیں جس کا حل یہ ہے کہ جس حلقہ میں الیکشن ہو وہاں کی انتظامیہ کو الیکشن کمیشن کے براہ راست احکامات کا پابند کر دیاجا ئے۔مسلم لیگ ن نے تو وزیر اعظم کی انتخابی اصلاحات پر پیش کش کو فوری طور پر ٹھکرادیا ہے لیکن یہ رویہ بھی مثبت اور جمہوری نہیں ہے۔

پہلے اپوزیشن یہ اعتراض کرتی رہی ہے کہ وزیر اعظم اپو زیشن سے بات نہیں کرتے اب اگر انہوں نے بات چیت کیلئے پہل کی ہے تو اس پیش کش کو یکسر مسترد کرنے کی بجائے قبول کیا جا ئے ۔ اپو زیشن انتخابی نظام کی اصلاح کیلئے اپنی تجاویز دے ۔ حکومت اپنا منصوبہ سامنے لائے اور اتفاق رائے سے قابل عمل اور قابل قبول راستہ اپنایا جا ئے ۔وجہ اس کی یہ ہے کہ اگر مو جودہ انتخابی نظام کے تحت ہی الیکشن کرا دیے گئے تو اس کے نتائج کو ن تسلیم کرے گا ۔ انتخابی قوانین میں تبدیلی کیلئے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے اگر اپوزیشن لچک کا مظاہرہ نہیں کرے گی تو حکومت یکطرفہ طور پر قانون سازی کرلے گی جس سے گریز کرنا چاہئے۔

اپوزیشن کا حال یہ ہے کہ وہ منقسم ہوچکی ہے۔مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ف کو یہ علم تھا کہ پیپلز پارٹی اسمبلیوں سے کسی صورت استعفے نہیں دے گی ۔ پیپلز پارٹی سندھ حکومت کسی صورت چھوڑنے کو تیار نہیں لھذا یہ مطالبہ کرکے پی ڈی ایم کو اپنے ہاتھوں توڑا گیا۔ شہباز شریف کے جیل سے باہر آنے کے بعد ن لیگ کی پالیسی تبدیل ہوئی ہے۔ م سے شین تو نہیں نکلی مگر اب م کی بجا ئے ش کی پالیسی چلے گی۔ اب ا فہام و تفہیم جارحیت پر غالب آ ئے گی۔ مولا نا فضل الرحمن اور شہباز شریف کے درمیان یہ اتفاق رائے ہوچکا ہے کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کو پی ڈی ایم میں واپس لا یا جا ئے۔ اپوزیشن اتحاد میں پھوٹ عمران خان کیلئے باعث نعمت تھی لیکن وہ اس صورتحال سے کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھا سکے ۔ 

اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی اپنی جماعت میں نیا دھڑا بن گیا ہے۔ جہانگیر خان ترین کے ہم خیال گروپ کے 33ممبران قو می و صو بائی اسمبلی نے وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی جبکہ عملاً یہ گروپ اس سے بھی بڑا ہے۔ اسد عمر ‘ شاہ محمود قریشی ‘ شہزاد اکبر اور اعظم خان اب بھی کچن کابینہ کا حصہ ہیں ۔شاہ محمود نے ملتان میں وزیر اعظم کی موجودگی میں ترین کا نام لئے بغیر ہم خیال گروپ پر جو تنقید کی اس پر وزیر اعظم کی مسکراہٹ معنی خیز تھی۔ اسدعمر نے یہ بیان دے کر سنسنی پھیلا دی کہ وزیر اعظم اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں ۔جب اپوزیشن نے الیکشن کا مطالبہ کیا تھا تو حکومتی موقف یہ تھا کہ عوام نے ہمیں پانچ سال کا مینڈیٹ دیا ہے ۔ 

ہم پانچ سال پورے کریں گے۔ اب کیوں یہ کہنے کی نوبت آئی کہ وزیر اعظم اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں ۔ اس بیان نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سیا سی حلقے سوچ رہے ہیں کہ کیا ب ایک پیچ والی بات ختم ہوگئی ہے۔ کیا یہ بات درست ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے یہ پالیسی اختیار کی ہے کہ ہم حکومت کے خلاف کچھ نہیں کریں گے لیکن بچائیں گے بھی نہیں اگر حکومت اپنے بوجھ سے گرتی ہے توگر جا ئے۔ حمزہ شہباز شریف خا موشی سے ممبران اسمبلی سے رابطوں میں مصروف ہیں انہیں گرین سگنل کا انتظا رہے ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید