• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انتخابی اصلاحات اور دھاندلی کا فیکٹر

کراچی(تجزیہ :مظہر عباس ) عید کے بعد کے سیاسی منظر نامے میں جو ایشو گرماگرمی پیدا کر سکتا ہے، وہ متنازعہ صدارتی آرڈیننس ہے جس کا مقصد الیکٹرانک ووٹنگ شروع کرنا اور دہری شہریت والوں کو ووٹ کا حق دینا ہے.

جبکہ اطلاعات یہ ہیں کہ نہ صرف اپوزیشن پارٹیوں اور آزاد مبصرین کو بلکہ الیکشن کمیشن تک کو اس پر شدید تحفظات ہیں. پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہورہا ہے اور اس میں حکومت یہ آرڈیننس ایوان میں رکھنا چاہتی ہے. دوسری طرف الیکشن کمیشن نے بھی الیکٹرانک مشینوں کے استعمال اور دہری شہریت والے پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے بارے میں سیاسی جماعتوں اور دوسرے سٹیک ہولڈروں سے صلاح مشورے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے.

عام انتخابات صرف الیکٹرانک ووٹ مشینوں کے استعمال اور انتخابی اصلاحات سے آزادانہ و منصفانہ نہیں ہوسکتے ، اس کیلئے پولیٹیکل انجنئیرنگ کا وہ سلسلہ نہ ختم کیا جائے جس سے الیکشن سے پہلے دھاندلی کے علاوہ الیکشن کے بعد بھی منیجمنٹ ہوتی ہے. حکومت کی مجوزہ انتخابی اصلاحات میں اس بارے میں مجھے کچھ نظر نہیں آیا.

عمران خاں حکومت کے انتخابی اصلاحات کیلئے آرڈیننس لانے کے اس فیصلے نے پہلے سے ماحول میں موجود سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہی کیا ہے اور اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا. الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشاد نے اس بات پر گہرےشکوک کا اظہار کیا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین شفافیت کا بڑا مسئلہ حل کرسکے گی.

مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے جیسے کم خواندگی والے معاشرے میں یہ اور بھی کنفیوژن پیدا کریں گی اور مزید گڑبڑ کا باعث بن سکیں گی. مزید یہ کہ چار لاکھ مشینوں پر کوئی 50 ارب روپے خرچ ہوں گے. لیکن وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ان مشینوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان سے رائے دہی آسان اور شفاف ہوگی.

اعتراض کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ پہلے ان مشینوں کا عملی مظاہرہ دیکھ لیں پھر بات کریں. صدر عارف علوی نے آرڈیننس لانے کیلئے جو دلیل دی ہے وہ بھی دل کو نہیں لگتی. اگر اس کا مقصد آئندہ الیکشن سے پہلے ہزاروں مشینیں بالکل تیار رکھنے کیلئے وقت کا حصول ہے تو اگر کل پارلیمنٹ یہ تجویز مسترد کردے تو پھر کیا ہوگا. دوسرے یہ کہ دہری شہریت والوں کو ووٹ کا حق دینے کیلئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی. تو باقاعدہ بل لانے لانے کی بجائے آرڈیننس کیوں جاری کیا گیا.

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن نے بھی مجوزہ انتخابی اصلاحات کے پیکیج کی تفصیلات پر غور کئے بغیر جلد بازی میں ردعمل ظاہر کیا. اس میں بہت اچھے نکات بھی ہیں جن پر اتفاق رائے ہوسکتا تھا، اپوزیشن خود بھی اتفاق رائے کیلئے جوابی تجاویز کا پیکیج لاسکتی تھی. لیکن لگتا ہے کہ دونوں طرف ایک دوسرے پر بے اعتمادی بدستور موجود ہے اور کسی سنجیدہ بحث سے زیادہ انہیں سیاسی مفادات میں دلچسپی ہے.سیاسی انجنئیرنگ کے معاملے کو ایک طرف رکھتے ہوئے پہلے مردم شماری پر توجہ دینے کی ضرورت ہے. اور اس کے بعد حلقہ بندی پر . 2008 اور 2013 کے الیکشن1998 کی مردم شماری کی بنیاد پر ہوئے جبکہ تازہ انتخابات 2017 کی اس انتہائی متنازعہ مردم شماری کی بنیاد پر ہوئے جس کی ابھی حال ہی میں مشترکہ مفادات کونسل نے منظوری دی ہے. حکومتی اتحادی ایم کیو ایم پاکستان کے اس پر اعتراضات برقرار ہیں. اس لئے بروقت مردم شماری اور اس کے مطابق حلقہ بندی اور انتخابی فہرستوں کی تیاری انتخابی اصلاحات کے ساتھ ساتھ ہی ہونی چاہیے.

مردم شماری اور وہ بھی بروقت اور قابل اعتماد، مالیاتی وسائل کی تقسیم کیلئے بھی ضروری ہے. الیکشن کمیشن آف پاکستان اتنا آزاد اور خودمختار نہیں ہے جتنا کاغذ پر نظر آتا ہے سوائے اس کے کہ اس کے چیئرمین اور ارکان کو کسی انتظامی حکم سے نہیں ہٹایا جاسکتا.

انتخابات میں اسے حکومت بالخصوص صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور ریٹرننگ اور پریزائڈنگ آفیسرز سمیت وہ سب الیکشن کمیشن کی بجائے متعلقہ حکومت کے زیادہ وفادار ہوتے ہیں. ان افسروں اور عملے کو حکمران ایلیٹ اپنے حق میں استعمال کرسکتی ہے. اس لئے الیکشن کمیشن کے پاس نیب کی طرح اپنا عملہ ہونا چاہئیے جسے سول سروس رولز کے مطابق 21 تک گریڈ دئیے جائیں.

اسی طرح الیکشن ٹربیونلز عذرداریاں نمٹانے میں بہت زیادہ وقت لیتے ہیں. مقررہ چار ماہ کی بجائے فیصلے میں کئی سال لگ جاتے ہیں. انہیں بھی مقررہ مدت میں فیصلے کے لیے کہا جائے.

ماضی میں سیاسی جماعتوں نے الیکشن منیجمنٹ شفاف بنانے کیلئے بعض اقدامات کئے تھے. مثلاً نگران حکومت کے زیر اہتمام انتخابات 2002 سے پہلے نہیں تھے. 1977 اور 1993 کے تلخ تجربات کے بر عکس قومی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن ایک ہی دن کرانا مفید ثابت ہوا. 1977 میں اپوزیشن پارٹیوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا.1993 میں ایم کیو ایم نے شہری سندھ میں بائیکاٹ کیا، جس کی وجہ سے ٹرن آؤٹ صرف 15 فیصد رہا لیکن صوبائی الیکشن جیت لیے.2007

میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے کچھ انتخابی اصلاحات کیں مثلاً خواتین کی نمائندگی بڑھا دی. خواتین اور اقلیتوں کوٹہ مخصوص کیا. ان میں یہ بات بھی شامل تھی کہ الیکشن کیلئے کم ازکم 90 دن پہلے نگران حکومتیں بنائی جائیں. 2008 کے انتخابات اسی انتظام کے تحت ہونے. اس سے پہلے نگران حکومتیں صرف حکومتوں کی برطرفی کے بعد بنائی جاتی تھیں مثلاً 1988 میں جونیجو، 1990 میں بینظیر 1993 میں نواز شریف،1997 میں پھر بینظیر کی دوسری حکومت کی معزولی کے بعد. اٹھارویں ترمیم کے ذریعے سیاسی جماعتیں کچھ اصلاحات لائیں جن میں یہ بھی شامل تھا کہ عبوری حکومت اور الیکشن کمیشن کی تشکیل حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق رائے سے ہوگی. ایک ادارے کے کردار نے بھی ملک کے انتخابی اور سیاسی نظام کو نقصان پہنچایا.1988 اور 1990 کی مثالیں بالکل واضح ہیں.1993 میں توسابق صدر غلام اسحاق خان نے قومی اسمبلی توڑنے اور نواز شریف حکومت ختم کرنے کے خلاف سپریم کورٹ کے فل بنچ کا فیصلہ ماننے سے بھی انکار کردیا جس کے نتیجے میں نئے الیکشن ہوئے.

2002 میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے تحت انتخابات کے بعد بھی اس وقت براہ راست مداخلت ہوئی اور پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں پھوٹ ڈالنے کیلئے نیب کو استعمال کیا گیا.

2013 کے انتخابات کے بعد عمران خان نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا، پنجاب کے چار حلقوں میں دوبارہ الیکشن کیلئے تحریک چلائی، 124 دن کا تاریخی دھرنا دیا، لیکن جوڈیشل کمیشن نے ان کا وسیع پیمانے پر پر دھاندلی کا الزام مسترد کردیا البتہ نظام میں کئی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی.

عمران خان نے ایک اعلیٰ افسر کا نام تک لیا. سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی اسے آر اوز کا الیکشن قرار دیا. 2018 میں مسلم لیگ پر پنجاب میں اور ایم کیو ایم پر کراچی میں سیاسی انجنئیرنگ کے سنگین الزامات لگائے گئے. الیکشن کے بعد کا منظر نامہ بھی کچھ مختلف نہیں.

پارٹیوں اور گروپوں میں توڑ پھوڑ کیلئے جو کچھ کیا گیا، جوگٹھ جوڑ ہوئے سب کے سامنے ہیں. پاکستان کی سیاسی اور انتخابی تاریخ بہت داغ دار ہے. پاکستان کے ابتدائی زمانے میں جو فیصلے کئے گئے ان سے اکثریتی صوبے یعنی مشرقی پاکستان میں شدید احساس محرومی پیدا ہوا. بنگالی اکثریت کو اقتدار دینے سے انکار تباہ کن ثابت ہوا.

بعض سنجیدہ سوالات کے جواب کے بغیر انتخابی اصلاحات کے، خواہ وہ کتنی بھی اچھی ہوں، پاکستان کے سیاسی اور انتخابی نظام کو صحیح راستے پر لانے کے بارے میں سنجیدہ شکوک رہیں گے۔

اہم خبریں سے مزید