• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہبازشریف کو بیرون ملک جانےسے روکنے کی اپیل ابتدائی سماعت کےلیے منظور

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بیرونِ ملک جانے سے روکنے کیلئے وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کو نوٹس جاری کر دیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے ’بادی النظر میں حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی توہین کی‘۔عدالتِ عظمیٰ نے رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سے تمام ریکارڈ طلب کر تے ہوئے سماعت آئندہ بدھ تک ملتوی کر دی۔

دورانِ سماعت سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن کب دائر ہوئی، کب مقرر ہوئی یہ تمام ریکارڈ فراہم کیا جائے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت مسترد ہوئی تھی، ایسا کوئی ریکارڈ نہیں کہ شہباز شریف کو ایمرجنسی تھی، لاہور ہائی کورٹ نے تو وفاق کا مؤقف بھی نہیں سنا، یک طرفہ حکم دے کر عمل درآمد کیلئے بھی زور دیا گیا، شہباز شریف قابلِ احترام ہیں لیکن انصاف قانون کے مطابق ملنا چاہیئے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ شہباز شریف رکنِ پارلیمان اور اپوزیشن لیڈر ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ شہباز شریف کی ضمانت طبی بنیاد پر نہیں ہوئی تھی۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا ضمانت کے دوران بیرونِ ملک جانے پر پابندی ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر کوئی قانونی پابندی نہ ہو تو جیل سے سیدھا ایئر پورٹ جایا جا سکتا ہے، شہباز شریف کے بقول ان کا نام بلیک لسٹ میں تھا، وفاق کا مؤقف سنا جاتا تو آگاہ کر دیتے کہ نام بلیک لسٹ میں نہیں ہے، شہباز شریف کا نام اب ای سی ایل میں شامل کیا گیا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ حیرت ہے کہ ہائی کورٹ نے فریقین کو سنے بغیر فیصلہ کیسے دے دیا۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ شہباز شریف کا بیرونِ ملک جانے کا معاملہ تو ختم ہو گیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی توہین ہوئی یا نہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ توہینِ عدالت سے متعلق کوئی حتمی عدالتی نظیر موجود نہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایف آئی اے سمیت سب کو عدالتی حکم کا علم تھا لیکن عمل نہیں کیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ نیب میں کیسز چل رہے ہیں لیکن اسے فریق نہیں بنایا گیا، عدالت پراسیکیوٹر جنرل نیب کو بھی نوٹس جاری کرے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیس کا ریکارڈ آ جائے پھر نیب کو نوٹس کرنے کا معاملہ دیکھیں گے۔

اس کے ساتھ ہی عدالتِ عظمیٰ نے اٹارنی جنرل کی نیب کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی اور کہا کہ نیب کو نوٹس جاری کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ بعد میں دیکھیں گے۔

قومی خبریں سے مزید