• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

……ڈاکٹر فریداللہ صدیقی……

حسنین ایک ہنس مکھ نوجوان تھا۔ ماں باپ کی محبت، قدرت کی فیاضی و فراوانی اور سلجھی ہوئی طبیعت کی بنا پراسے کوئی غم ِجاناں نہ تھا۔ ہاں البتہ حساس دل اسے اکثر غم دوراں میں مبتلا کردیتا تھا اس کا مقولہ تھا: ’’دل بدست آورکہ حج اکبر است!‘‘۔ اسی سوچ اور غم دوراں کے تحت وہ محو پرواز تھا۔

سورج ڈوبنے کو تھا شفق کی سرخی اُفق پر چھارہی تھی وہ جدہ سے قاہرہ کے لئے سفر کررہا تھا۔ جہاز قاہرہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو شام کے دھندلکے میں اسے دور اہرام مصر کی جھلک دکھائی دی۔ اسے سیر و سیاحت کا شوق تھا یورپ امریکا کےساتھ ساتھ وہ افریقاکے گھنے جنگلات میں جاچکاتھا لیکن اب تک اہر ام مصر نہیں دیکھا تھا۔ اب جبکہ وہ مصر پہنچ چکا تھا اہرام بھی دیکھا جاسکتاتھا، مگر حسنین کا یہ سفر سیر و تفریح سے زیادہ ایک اور مقصد رکھتا تھا۔

گزشتہ دنوں وہ ٹیلی وژن کے پردے پر غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے ظلم وستم سے فلسطینیوں کے خون کے چھینٹے اڑتے دیکھ رہا تھا۔ غزہ کی پٹی کی زمین خون سے سرخ ہورہی تھی۔ خوں خوار اسرائیلیوں کےاحوال دیکھ کر وہ اپنا خون جگر پی رہا تھا۔ یہ خوں ریزی اس کے لئے ناقابل برداشت ہورہی تھی۔ اچانک اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ عمرہ کرتے ہوئےمصر اور پھر غزہ کی پٹی فلسطین جائے گا اور اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھے گا۔ فلسطینی بھائی، بہنوں، بزرگوں اور بچوں سے یک جہتی کا اظہار کرے گا، ان کے غم میں شریک ہوگا، غم خواری و غم گساری کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔

سرزمین فلسطین کی تاریخی اہمیت سے وہ بہ خوبی واقف تھا۔ مغربی ممالک کی ریشہ دوانی سے اسرائیل کا وجود میںآنا اور پھر فلسطینی مسلمانوں کا صیہونیوں کے ساتھ ایک طویل جدوجہد کاپس منظر اس کے پیش نظر تھا۔ عمرہ ادا کرنے کے بعد حسنین نے اللہ سے گڑگڑا کر دعا کی۔مسجد الاقصیٰ کا واسطہ دیا جو پیارے نبیؐ کے سفرِ معراج کا پہلا پڑائو تھا کہ وہ اسرائیلی چنگل سے آزاد ہو۔

ایک روز قاہرہ میں قیام کے بعد دوسری صبح و ہ اس ٹیکسی اڈے پر موجود تھا جہاں سے سواری قاہرہ سے غزہ کی پٹی تک جاتی تھی۔وہاں اس کی ملاقات ایک ادھیڑ عمر کے ٹیکسی ڈرائیور سے ہوئی جس کانام سلیمان تھا۔ وہ غزہ کا رہنے والا تھا لیکن قاہرہ میں مقیم تھا۔ اس کے پاس سرکاری طور پر رفع سے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کا پرمٹ موجود تھا۔ کراچی سے روانہ ہونے سے پہلے حسنین نے بھی ویزہ اور پرمٹ کا بندوبست کرلیا تھا۔ ڈرائیور سلیمان کام چلائو انگریزی بول لیتا تھا۔ 

حسنین نے جب اپنا مدعا بیان کیا کہ وہ غزہ کی پٹی پر جاکر وہاں کے لوگوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنا چاہتا ہے تو وہ خوش ہوگیا۔ آب دیدہ ہو کر کہنے لگا ’’اسے میں اپنی یا آپ کی خوش نصیبی سمجھوںکہ مجھ سے ملاقات ہوگئی، میں آپ کواپنے وطن لئے چلتا ہوں۔ وہاں میں لوگوں کو بتائوں گا کہ ایک نیک دل پاکستانی نوجو ان اپنے و طن سے چل کر ہماری دل جوئی کے لئے آیا ہے‘‘ رفع سے آگے غزہ کی پٹی میں داخل ہوتے ہی جگہ جگہ اسرائیلی گولہ باری سے بربادی اور صیہونی بربریت کا منہ بولتا ثبوت مل رہا تھا۔

سلیمان کی ٹیکسی مختلف شکستہ راستوں سے ہوتی ہوئی اب ایک قدرے تنگ گلی کےباہر کھڑی ہوگئی تھی۔ سلیمان نے کہا کہ اب ہمیں اندر کچھ دور پیدل چلنا ہوگا۔ گلی کے دو نوں جانب مسمار شدہ مکانوں کا ملبہ اور گھریلو اشیاء بکھری پڑی تھیں۔ انہیں ملبوں پرا نہیں برباد شدہ گھروں کے زندہ رہ جانےو الے معصوم بچے گھوم پھر کر شاید اپنے ان کھلونوں کو ڈھونڈ رہے تھے جن سے وہ کبھی کھیلا کرتے تھے۔

ایک گھر کے سامنے سلیمان رک گیا۔ گھر کیا تھا چند ٹوٹی سیڑھیاں اور پھر ایک اکھڑا ہوا چبوترہ، سامنے ایک چوبی دروازہ۔ دائیں جانب مٹی، اینٹ اور پتھروں کا ڈ ھیر جوکبھی اپنی تعمیر شدہ حالت میں اس گھر کا حصہ تھا۔

سلیمان نے دروازے پر دستک دی۔چند سیکنڈ بعد کسی کے آنے کی آہٹ ہوئی۔ ایک نوجوان دوشیزہ نے جھانکا۔ سلیمان کےساتھ ایک اجنبی نوجوان کو دیکھ کر وہ پیچھے ہٹ گئی۔ دروازہ پھر بند ہوگیا۔ پھر جب دروازہ کھلا تو ایک لاغر جھکی کمر کے ساتھ عمر رسیدہ شخص نے باہر آکر سلیمان سے مصافحہ کیا۔ سلیمان نے حسنین کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ وہ اس گھر کے سربراہ ابراہیم ہیں۔ حسنین نے آگے بڑھ کر ابراہیم کا نام لیتے ہوئے سلام کیا تو ان کے چہرے پر سوالیہ نشان تھا۔ انہوں نے عربی میں سلیمان سے کچھ پوچھا۔ سلیمان کے جواب میں لفظ حسنین اور پاکستان شامل تھا۔ ابراہیم نے مرحبا اہلاً و سہلاً کہہ کر حسنین کو اندر آنے کو کہا۔

وہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ فرش پر دری اور درمیان میں ایک چھوٹا سا غالیچہ۔ ابراہیم نے حسنین کے لئے کونے میں رکھی پلاسٹک کی کرسی اٹھانی چاہی تو حسنین منع کرتے ہوئےوہیں سب کےساتھ فرش پر بیٹھ گیا۔

ابراہیم اور حسنین کے درمیان سلیمان کی ترجمانی میں گفتگو ہورہی تھی۔

موجودہ اسرائیلی جارحیت سے پہلےوہ ایک ہنستا بولتا گھرانہ تھا۔ ابراہیم، ان کی اہلیہ جمیلہ اور چار بچے تھے۔ بڑا بیٹا حماس کی جدوجہد میں شہید ہوچکا تھا۔اس کا غم ماں باپ شہادت کے درجے کو سوچ کر برداشت کئے بیٹھے تھے ،مگر رات کی تنہائی میں ان کی سسکیاں سنائی دیتی تھیں۔ چھوٹا بھائی عامر مصری علاقے میں سلیمان کے زیر سایہ ملازمت کرتا تھا۔

دوران گفتگو ابراہیم نے اندرون خانہ قہوہ کے لئے آواز دی۔ کچھ دیر بعد بیگم ابراہیم پورے حجاب میں ہاتھوں میں قہوے کی ٹرے اٹھائے ہوئے داخل ہوئیں۔ ایک لمحے کے لئے مکمل خاموشی طاری ہوگئی۔ حسنین نے احتراماً اٹھنے کی کوشش کی تو ابراہیم نے بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا۔ سلیمان نے ٹرے لے کر درمیان میں رکھ دی۔ بیگم ابراہیم کرسی پر بیٹھ گئیں۔ جب انہیں علم ہوا کہ آنے و الا مہمان ایک پاکستانی نوجوان ہے تو وہ آہ و فغاں کے درمیان اپنے مصائب بیان کرنے لگیں۔ سلیمان نے بتایا کہ انہیں سب سے زیادہ غم اپنی چھوٹی بیٹی آمنہ کا ہے جو گولہ باری سے چند لمحے پہلے اپنے چچا کے ساتھ چھت پر کھیل رہی تھی۔ ایک گولے نے انہیں زمین بوس کردیا۔ 

بیگم ابراہیم نے ہچکیاں لیتے ہوئے اپنی شہادت کی انگلی اوپر اٹھاتے ہوئے کہا میں اپنی پیاری معصوم بچی کو وہاں حوروں کے درمیان کھیلتے ہوئے دیکھ رہی ہوں۔پھر کہنے لگیں میری بڑی بیٹی اُم کلثوم اکیلی رہ گئی اب تو بس میری یہ ہی دعا ہے بیٹی اُم کلثوم اس غزہ کی غم زدہ پٹی سے کہیں دور چلی جائے اور ہم اپنی حیاتی تک اس کی حیاتی اور سلامتی کی دعا کرتے رہیں۔ جب بیگم ابراہیم کی آہ و زاری نے دورے کی صورت اختیار کرلی تو اسی لمحے ماں کی محبت میں گھبرائی ہوئی کلثوم بے تابانہ کمرے میں داخل ہوئی اور ماں سے لپٹ گئی۔ اسے قطعاً حسنین کی موجودگی کا احساس نہ رہا ۔ ماں سے والہانہ محبت، اُم کلثوم کی ایک جھلک اور اس کا سراپا، حسنین کے لئے وہ لمحہ فیصلہ کن تھا۔

والدہ حسنین کی خواہش تھی کہ بس اب حسنین اپنا گھر بسالے۔ اسے اپنی پسند کی پوری اجازت تھی، مگر حسنین کو ابھی تک اپنی پسند کا یقین نہیں تھا۔ اب جب اسے یقین ہوگیا تو اس نے پوری سنجیدگی اور متانت کے ساتھ ان لوگوں سے اپنی خواہش کااظہار کیا، اگر وہ راضی ہوں تو اُم کلثوم سے اس کی ملاقات کراکے اس کی رضامندی ضرور لے لیں۔

اُم کلثوم خوبصورت عربی لہجہ میں مناسب انگریزی بول رہی تھی۔ یہ مختصر شناسائی حسنین اور اُم کلثوم کے درمیان دائم ہورہی تھی۔ اتنے میں قریبی مسجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی۔ ابراہیم اور سلیمان کھڑے ہوئے تو حسنین بھی نماز کے لئے ان کے ساتھ مسجد گیا۔ نماز کے بعد ابراہیم نے رنج و الم کے بوجھ تلے لوگوں سے حسنین کا تعارف کرایا۔ سب نے جذبے کی تعریف کی۔ نماز کے بعد حسنین نے پی سی او سے اپنی والدہ سے کراچی بات کی۔ سارے حالات سے آگاہ کرتے ہوئے اپنی پسند کااظہار کیا تو والدہ نے چند سوالات کے بعد اجازت دے دی۔

دوسرے روز اسی مسجد میں دیگر نمازیوں کے درمیان نکاح فلسطینی مفتی صاحب نے پڑھایا۔

آج ایک پاکستانی گھرانے میں ایک جواں فلسطینی حسن کا پیکراپنے محسور کن لہجے میں شکستہ اردو بولنے و الی ایک معصوم صوم و صلوۃٰ کی پابند لڑکی موجود ہے۔جب اپنے و الدین سے اسکائیپ پر گفتگو کرتی ہے تو دوسری جانب سے ہزار دعائیں اپنی بچی کے ساتھ ساتھ اس پاکستانی نوجوان کو بھی ملتی ہیں ،جس کے جذبہ یک جہتی سے ایک فلسطینی دوشیزہ پاکستان میں خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے۔