• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمر گزر گئی سنتے سنتے کہ ’’جہیز ایک لعنت ہے‘‘

عمر گزر گئی یہ سنتے سنتے کہ’’ جہیز ایک لعنت ہے ‘‘۔ اس کے باوجود بھی خواتین کا اس لعنت سے پیار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ سسرال والے مانگیں یا نہ مانگیں لیکن کچھ لڑکیوں کو خود بھی بہت شوق ہوتا ہے کہ اچھے سے اچھا سامان اپنے جہیز میں لے کر جائیں ، چلیں لے جائیں کوئی بات نہیں یہ ان کا اور ان کے والدین کا آپس کا معاملہ ہوتا ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ پھر وہ اتنے ارمانوں سے جمع کیا گیا جہیز سالہا سال ڈبوں میں بند سینت سینت کر رکھ لیا جاتا ہے۔

خصوصاً اس وقت جب لڑکی جوائنٹ فیملی میں رہتی ہو تو جہیز کا سامان بڑی مشکل سے نکلتا ہے دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس ڈر سے نہیں نکلتا کہ سسرال والے اس سامان کو استعمال نہ کرلیں خود بھی استعمال نہیں کیا جاتا اگر مجبوراََ کبھی کچھ برتن یا استعمال کی کوئی اور چیز سسرال میں نکالنا پڑ جائے تو عورتیں اس کی اتنی دیکھ بھال اور حفاظت کرتی ہیں کہ توبہ ! جان وار دیتی ہیں ۔

کبھی کبھی اس انتظار میں کہ کبھی تو ہمارا بھی الگ گھر ہوگا سوچ کر کئی دہائیوں تک سامان چھپا چھپا کر رکھ لیا جاتا ہے ۔ اب تو پھر بھی کچھ سوچ تبدیل ہوئی ہے ورنہ پہلے تو جہیز کا سامان اتنا سنبھال سنبھال کر رکھا جاتا تھا کہ کچھ چیزیں تو خواتین بغیر استعمال کئے اپنی بیٹیوں کو جہیز میں دے رہی ہوتی تھیں اور ہر دوسری عورت کی تلخ یادوں میں سے ایک یاد یہ بھی ہوتی تھی کہ اس کے سسرال والوں نے اس کے جہیز کا سامان استعمال کر کر کے برباد کر دیا تھا ۔ 

جہیز سے محبت کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو کہ پہلے زمانے میں لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اس کے جہیز کا سامان جمع کرنا شروع کر دیا جاتا تھا۔ لڑکی کا بچپن سے لڑکپن تک کا عرصہ والدین کو اپنے لئے چیزیں جمع کرتے ہوئے دیکھتے گذرا ہوتا تھا تو لازمی اسے بھی ان چیزوں سے محبت کچھ زیادہ ہی ہو جاتی ہوگی۔ لیکن شکر ہے وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں میں شعور بیدار ہوا اور جہیز کے خلاف موقف آنا شروع ہوا، پھر اچانک اس کے خلاف بھی بولا جانے لگا کہ جہیز کو لعنت کہنا غلط ہے ،کیونکہ ہمارے نبی پاک ﷺ نے اپنی صاحبزادی بی بی فاطمہ ؓ کو جہیز میں چند چیزیں دیں تھیں۔ یہ سن کرجہیز کو لعنت کہنے والے خاموش ہوئے تھے ۔

اپنی زندگی میں بے شمار شادیاں اور جہیز دیکھے کہیں والدین لڑکی کے پیدا ہوتے ہی جمع کرکے بھی استعمال کی چند چیزیں بمشکل دے پائے اور ایسی شادیاں بھی دیکھیں ،جس میں والدین نے فرنشڈ گھر اپنی بیٹیوں کو اس طرح جہیز میں دیے کہ جن میں فرج بھی چیزوں سے بھر کر دیا گیا اور باورچی خانے میں بھی ضرورت کی ہر چیز میسر تھی یہا ں تک کہ باتھ روم میں چپل تک رکھی گئی تھی لیکن سوچا جائے تو کب تک ؟ سالوں ایک ایک پیسہ جوڑنے والوں کا جہیز بھی اور یہ عالیشان جہیز بھی آخر کب تک چلا ہوگا ؟ 

یہ دنیا فانی ہے اسی طرح چیزیں بھی عارضی ہوتی ہیں ایک نہ ایک دن ختم ہوجاتی ہیں ،البتہ لوگوں کی دل چیرنے والی باتیں یاد رہ جاتی ہیں ۔کہنے کو تو جہیز لڑکی کا سامان ہوتا ہے لیکن کچھ سسرال والوں کو بہت شوق ہوتا ہے کہ ان کی بہو شاندار جہیز لے کر آئے اور خاندان میں ان کی واہ واہ ہوجائے۔ لوگ نئی نویلی دلہنوں کے کمروں میں گھس کر جہیز کا سامان دیکھ کر طرح طرح کے بےتکے سوال کرتے ہیں اور سامان دیکھ دیکھ کر ایسے خوش ہورہے ہوتے ہیں کہ جیسے یہ سب ان کو ملا ہو !

سسرال والے فخریہ جہیز دکھا رہے ہوتے ہیں اور شرم و غیرت کس چڑیا کا نام ہے ان کو نہیں معلوم ہوتا۔ جہیز کے ساتھ ساتھ پہناونی کے نام پر سسرال والوں کو بھی بیش قیمت جوڑے دیے جاتے ہیں جو عموماً انہیں پسند نہیں آتے اور یہ سلسلہ یونہی جاری وساری ہے۔ موجودہ حکومت نے بھی پوری کوشش کی ہے کہ جہیز پر پابندی عائد کی جاسکے لیکن جب تک لوگوں میں خود شعور بیدار نہیں ہوگا تب تک ان سب چیزوں سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔

بالکل اسی طرح جب سابقہ دور حکومت میں شادی کے کھانے پر پابندی لگائی گئی تھی تو لوگ چھپ چھپ کر کھانا کھلا رہے تھے اسی طرح اب چھپ چھپ کر جہیز بھی دینگے ۔ بس خدا سے اُمید کی جاسکتی ہے کہ لوگوں کو عقل آجائےاور خاص طور پر لڑکوں کو کہ وہ اپنے قوت بازو پر بھروسہ کرتے ہوئے ایسی شادی کریں جو دوسروں کے لئے بھی قابل تقلید ہو۔