• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وقار محسن

گرمیوں کی ایک تپتی دوپہر میں جب سورج آگ برسا رہا تھا اور لوکے تھپیڑے سوکھے پتوں کو بگولوں کی صورت میں اڑا رہے تھے، فضلو اپنے آم کے باغ میں طوطوں کو اڑانے مشغول تھا۔ شریر طوطے ہرے ہرے پتوں میں چھپے، چوری چوری آم کتررہے تھے۔ فضلو مٹی کا ڈھیلا رسی کی غلیل میں رکھ کرگھماتا اور درخت کے طرف اچھال دیتا۔ طوطوں کا غول ٹیں ٹیں کرتا بھرا مار کر اڑتا اور کسی دوسرے درخت پر جا بیٹھتا۔ ہر طرف سناٹا تھا صرف مسجد کے پیچھے والی پن چکی کی پھک پھک کی آواز آرہی تھی۔ 

وہ کچھ دیر کے لئے جامن کے درخت کی چھاؤں میں سستانے کے لیے بیٹھ گیا۔ ابھی اس نے بانسری جیب سے نکال کر ہونٹوں سے لگائی ہی تھی کہ سامنے ککروندوں کی جھاڑیوں میں سے ایک خونخوار چیتا برآمد ہوا۔ چیتے نے قریب آکر بڑے دوستانہ انداز میں فضلو سے کہا، ’’کیوں بھائی فضلو کیا حال ہیں؟ اس بار تو تمہارے باغ میں خوب بہار آئی ہوئی ہے۔‘‘ چیتے کو دیکھ کر فضلو کی سٹی گم ہوگئی اور اس کے ہونٹوں سے بانسری پھسل کر گھاس پر گر گئی اور اس نے سٹپٹا کر کہا۔

’’شکر ہے جناب۔ بس اللہ کا کرم ہے‘‘۔ چیتا فضلو سے بولا، ’’دوست! ذرا جلدی کرو۔ میرے لنچ کا وقت ہے۔ وہ سامنے جو دو بیل بندھے ہیں ان میں سے سفید والالے آؤ۔ اس کا گوشت یقیناً لذیز ہوگا۔‘‘ پہلے تو فضلو کی جان میں جان آئی کہ جنگل کے بادشاہ کی اس پر بری نظر نہیں ہے۔ اس کے بعد اس نے کچھ سوچ کر التجا کی۔ ’’حضور! یہ بیل تو میری روٹی روزی کا سہارا ہیں۔ ان کے بغیر میں کھیتی کیسے کروں گا۔‘‘ چیتا غصے سے بولا،’’بھئی ہم سے یہ فضول باتیں مت کرو۔ یہ تمہارا معاملہ ہے۔ جلدی بیل نہلا کر لاؤ، اتنے میں پنجے اور دانت تیز کرلوں۔‘‘

’’جو حکم سرکار۔ لیکن آپ یقین کریں کہ اس بوڑھے بیل کے مقابلے میں میری گائے کا گوشت بہت نرم اور لذیز ہوگا۔ اگر آپ کہیں تو میں گھر سے گائے کھول لاؤں۔‘‘ فضلو نے کانپتے ہوئے کہا۔ ’’اچھا تو پھر دوڑتا ہوا جا اور فٹا فٹ لے آ۔ سوچ لے اگر دیر ہوئی تو میں تیرے دونوں بیلوں کو ہڑپ کر جاؤں گا‘‘۔ چیتے نےدھاڑتے ہوئے کہا۔ فضلو سیدھا اپنے دوست شرفو درزی کے پاس گیا۔ شرفو نا صرف بہت ذہین تھا بلکہ فضلو سے اس کی گہری دوستی بھی تھی۔ فضلو نے اپنے دوست کو پوری کہانی سناتے ہوئے تجویز مانگی کہ کیسے بھوکے چیتے سے پیچھا چھڑایا جائے۔ 

شرفو تھوڑی دیر تک اپنے گنجے سر پر دو انگلیوں سے طبلہ بجاتا رہا اور پھر بولا۔‘‘ ’’ٹھیک ہے دوست۔ تم فکر نا کرو میں کچھ بندوبست کرتا ہوں۔شرفو نے الماری میں سے سفید لٹھے کے دو تھان نکالے۔ کپڑا زمین پر بچھا کر اس نے کاٹنا شروع کیا اور دس منٹ میں دس فٹ لمبا ایک پائجامہ تیار کر لیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے چھپر سے دو بانس نکالے اورانہیں رسی سے اچھی طرح اپنے پیروں میں باندھ لیا۔ اس کے بعد شرفو نے وہ پائجامہ بانسوں اور پیروں پر چڑھا دیا۔ جب شرفودیوار کا سہار الے کر کھڑا ہوا تو اس کا قد پندرہ فٹ اونچاہوچکا تھا اور فضلو اس کے سامنے بونا لگ رہا تھا۔

شرفو لیٹ کر دروازے سے نکلا اور باغ کی طرف چل دیا۔ راستے میں لوگ حیرت سے اس کو مڑ مڑ کر دیکھ رہے تھے۔شرفو نے سر پر ایک بڑا پگڑ باندھا ہوا تھا اور وہ ہنکارتا ہوا جارہا تھا۔ ’’ارے مجھے بھوک لگ رہی ہے۔ بہت دن ہوگئے کسی چیتے کا گوشت نہیں کھایا۔ کچھ روز پہلے ایک چیتا کھایا تھا لیکن مزہ نہیں آیا۔‘‘ باغ کی مینڈھ پر بھوک سے بلبلاتے چیتے نے دیکھا کہ ایک دیونما مخلوق اسے کھانے کے لئے بے چین ہے تو وہ دم دبا کر بھاگ نکلا۔

گیدڑ جھگڑالو ،چیتے کا خاص چمچہ تھا جو ہر وقت اس کی خوشامد میں لگا رہتا تاکہ چیتے کی جھوٹی ہڈیاں اسے مل سکیں۔ گیدڑ جھگڑالو جامن کے درخت کے نیچے چھپا یہ سارا ماجرا دیکھ رہا تھا۔ چیتے کو دم دبا کر بھاگتا دیکھ کر اس نے چیتے کو روک کر کہا۔ ’’حضور آپ کہاں بھاگے جارہے ہیں۔

فضلو نے آپ کو بے وقوف بنایا ہے۔ یہ بھوت نہیں شرفو ہےفضلو کا دوست۔ اس نے آپ کو ڈرانے کے لئے بھیس بدلا ہے۔‘‘۔ ’’ مجھے معلوم ہے تو جھوٹا ہے۔ تو مجھے اس بھوت کے حوالے کر کے چمپت ہو جائے گا۔‘‘ چیتے نے غصے سے کہا، ’’حضور! اگر آپ مجھے جھوٹا سمجھتے ہیں تو میری دم اپنی دم سے باندھ لیں تاکہ آپ کی مصیبت کے وقت میں بھاگ نا سکوں۔‘‘

یہ سن کر چیتے کو اطمینان ہوا اور اس نے اپنی دم گیدڑ جھگڑالو کی دم سے باندھ لی اور واپس باغ کا رخ کیا۔ شرفو نے گیدڑ اور چیتے کو کھسر پھسر کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور اس نے تاڑ لیا تھا کہ چیتا واپس آکر حملہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ شرفو جلدی سے نیم کے درخت پر لگے شہد کی مکھیوں کے چھتے کے نزدیک گیا اور زور سے اس پر ہاتھ مارا،شہد کی مکھیاں اس کے چہرے پر لپٹ گئیں اور ڈنک مارنے شروع کر دیئے۔ شرفو نے قریب رکھی چونے کی بالٹی سے چونانکال کر اپنے چہرے پر مل لیا۔ اسے معلوم تھا کہ چونا شہد کی مکھیوں کے کاٹے کا فوری علاج ہے۔

اب اس کا چہرہ سوج کر غبارہ ہوگیا تھا اور چونا لگنے کی وجہ سے بہت بھیانک لگ رہا تھا۔ چیتے اور گیدڑ کو اپنی طرف آتا دیکھ شرفو نے کہا، ’’شاباش گیدڑ میاں تم ہمارے ساتھ مل کر چیتے کو باندھ کر لانے میں کامیاب ہو گئے ہم تمہیں کھانے کے بعد انعام دیں گے۔‘‘ چیتے نے جو قریب آکر شرفو کو دیکھا تووہ اسے بھوت سمجھ کر کانپ گیا۔ اس کو گیدڑ پر بھی بہت غصہ آرہا تھا جو اس کو پھانس کر واپس لایا تھا۔ 

چیتا ڈر کر بھاگ کھڑا ہوا۔ کیونکہ گیدڑ اس کی دم سے بندھا ہوا تھا اس لئے وہ بھی گڑھوں، کانٹوں میں گھسٹتا جارہا تھا، ایک پتھر سے ٹکرا کر وہ چیتے کی دم سے الگ ہوا اور پانی سے بھرے ایک گہرے کھڈمیں جاگرا۔ فضلو کی جان میں جان آئی اور اسے عقلمند اور مہربان دوست کو گلے لگانے کے لئے جامن کے درخت پر چڑھنا پڑا۔