• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

تاریخی، مزاح سے بھرپور ناول

سنڈے میگزین ’’افسانۂ ہستی کے حسیں باب‘‘ یعنی وومن ڈے کے ٹائٹل سے جگمگارہا تھا، فوراً اندر کی طرف دوڑلگادی اور’’سرچشمۂ ہدایت‘‘پڑھنا شروع کیا۔ حضرت اُمِ سلیمؓ کی شخصیت پر مختصر مگر جامع مضمون نہایت شان دار تھا۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں ڈاکٹر سمیحہ قاضی کا مضمون پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ بلاشبہ، ڈاکٹر صاحبہ ایک عظیم باپ کی لائق فائق بیٹی ہیں اور اپنا فرض نہایت لگن سے ادا کررہی ہیں۔ انہوں نے بالکل درست کہا کہ ’’ہم لنڈا بازار کی عادی قوم ہیں، انگریز جو کپڑے، نظریات اتار پھینکتے ہیں، ہم انہیں پہننے اور اپنانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے‘‘۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں شفق رفیع نے مفصّل، معلومات سے بھرپور مضمون ہماری نذر کیا۔ بلاشبہ، پاکستانی خواتین نے قابلِ قدر خدمات سرانجام دی ہیں اور دے رہی ہیں۔ ’’گفتگو‘‘ میں سلمیٰ اعوان کی باتیں پڑھ کے تو بالکل ایسا لگا، جیسے کوئی تاریخی، مگر مزاح سے بھرپور ناول پڑھ رہے ہوں۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ شان دار تھا، ایڈیٹر صاحبہ کے قلم کے جوہر نے تو گویا ماحول پر سحر سا طاری کردیا۔ نہایت عمدہ تحریر تھی۔ پہناوے بھی موسمِ بہارکی آمد کا اشارہ دے رہے تھے۔ ’’حالاتٖ و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے ایف اے ٹی ایف پر لکھا، تو رائو شاہد اقبال کا گوگل سے متعلق مضمون کافی معلوماتی ثابت ہوا۔ سیّدہ مہوش کی ’’النکاح مِن سُنّتی‘‘ بھی پسند آئی۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں اس ہفتے کی مسند پر عشرت آپی براجمان تھیں اور برحق تھیں۔ اگلے شمارے کے سرِورق کا انتخاب لاجواب تھا۔ فاروق اقدس نے سینیٹ انتخابات پرلکھا۔ بلاشبہ مقتدرحلقے، ’’خلائی مخلوق‘‘ عمران خان کے ساتھ ہے، بلکہ میرے خیال میں تو’’زورداری صاحب‘‘ کی بھی ڈیل ہوچکی ہے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ حسبِ روایت نہایت اعلیٰ۔ منور مرزا نے بھی سیز فائرپر زبردست تحریر رقم کی۔ ’’انٹرویو‘‘ میں شفق رفیع نے ڈاکٹر عبدالرّب بھٹی کا بہترین تعارف کروایا، بہت زبردست! !ڈائجسٹ، ناقابلِ فراموش اور کتابوں پر تبصرہ کمال تھا اور ہمارے صفحے پر ایک بار پھر راجہ صاحب ہی قابض نظر آئے۔ (پیرجنید علی چشتی، ملتان)

ج: اس بار صرف ملتان.....تو کیا سینٹرل جیل سے رہائی مل گئی؟؟ مبارک ہو۔

اعزازیہ ملے گا؟

جی، مجھےاس شان دار جریدے میں آنے کی اجازت چاہیے تھی۔ میگزین بہت اچھاجارہاہے۔تمام تحریریں، مضامین تو جیسے کسی گلشن کے پھول کی طرح ہیں، جن کی خوشبوئیں، مہکاریں اَن گنت آنگن معطّر کیے جاتی ہیں۔ آپ سے ایک بات پوچھنی تھی۔ کیامجھے میری چَھپنے والی تحریروں کا کچھ اعزازیہ دیا جائے گا۔ (آصف احمد، پاک کوثر ٹائون، کھوکھراپار، ملیر، کراچی)

ج: 20-22 سال تو ہمیں ہوگئے، اِس ادارے سے وابستہ ہوئے۔ اِس عرصے میں کم ازکم ہم نے تو ایسی کوئی روایت نہ دیکھی۔ اتنے بڑے بڑے نام کہ جن سے بات کرتے زبان لڑکھڑائے، وہ بھی بغیر کسی اعزازیے ہی کے لکھتے پائے گئے۔ آپ کو یہ خوش فہمی کیوں کر لاحق ہوگئی، سمجھ نہیں آیا اور وہ بھی اس ’’دَورِ شغلیہ‘‘ میں کہ جب باقاعدہ تن خواہ دار ملازمین کی ماہانہ اُجرتیں تک نہیں مل پارہیں۔ منہگائی آسمان پر زقندیں بَھر رہی ہے، اور ہمارے مشاہروں میں اضافہ تو دُور، الٹا کٹوتیاں کی جارہی ہیں، مگرآپ کو اُن تحریروں کامعاوضہ درکار ہے، جن میں صرف اِک مضمون نگار کا نام ہی ری رائٹ نہیں ہوتا، باقی تو سب ہی کچھ نئے سرے سے لکھناپڑتاہے۔

افطار کے بعد چائے

رمضان المبارک سے قبل کا آخری شمارہ حسبِ سابق بہت خُوب تھا۔ ووہان کی سیر کا خُوب لُطف اُٹھایا۔ باقی شمارہ ہر لحاظ سے بہتر تھا۔ ہاں ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں لیٹر آف دی ویک کا انتخاب قدرے بہتر ہو سکتا تھا۔ خیر، آپ زیادہ بہتر جانتی ہیں۔ ابھی بازار جا رہا ہوں۔ بیسن اور میدہ لانا ہے، پوسٹ آفس کا بھی چکّر لگے گا، تو خط پوسٹ کردوں گا۔ ویسے رمضان المبارک میں افطار اور نماز کے بعد چائے جو مزہ دیتی ہے، ہائے ہائے ہائے۔ (سمیع عادلوف، جھڈو، میرپورخاص)

ج: آپ خط میں گُھما پھرا کے کہیں نہ کہیں سے چائے کا ذکر لے ہی آتے ہیں۔ پیئں بھئی، شوق سے پیئں، ہمیں بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔

پالیسیوں پر احتجاج

دیکھیے، ہم کرشماتی شخصیت کے مالک، ایک عجیب و غریب انسان ہیں۔ ہم یا تو بیورو کریٹ بننا چاہتے تھے یا ہماری خواہش تھی کہ ہم کرکٹر بنیں اور الحمدللہ، ہم اپنی دونوں خواہشات پوری کرنے میں ناکام رہے۔ پھر ہماری خواہش ایک سرکاری نوکری کا حصول تھی، لیکن ہم وہ بھی پوری نہ کرسکے۔ آپ سے ایک گزارش ہے کہ ہماری صحیح عُمر کا اندازہ لگائیں۔ ایک اشارہ ہم دیتے ہیں کہ بھٹو کی پھانسی ہمیں کچھ کچھ یاد ہے۔ یقیناً آپ حیران ہوں گی کہ آج ہم سنڈے میگزین پر کیوں بات نہیں کررہے، تو یہ آپ کی پالیسیوں پر ہمارا احتجاج ہے۔ آخر سنڈے میگزین کے مندرجات پر بات کرناہی کیوں ضروری ہے۔ہمارامطالبہ ہےکہ مندرجات پر بات کرنے کی ہدایت ختم کی جائے کہ مندرجات سے ہٹنا کوئی جرم نہیں۔ کرپشن اور لوٹ مار جرم ہے اور سنڈے میگزین کو ذرا بہتر بنائیں۔ اسٹائل کی تحریر بہت ہی بُری ہوتی ہے۔ نیز، ڈائجسٹ میں لطیفے بھی شایع کیا کریں۔ (نواب زادہ خادم ملک، سعید آباد، کراچی)

ج: نواب زادہ لطیفہ ملک، سوری خادم ملک!آپ کے ہوتے لطائف کی کمی بھلا کِسے محسوس ہوسکتی ہے۔ آج تو ہم آپ کا یہ نام نہاد ’’احتجاج نامہ‘‘ شایع کیے دے رہے ہیں، آئندہ ایسی اونگیاں بونگیاں ماریں تو خط سیدھا ڈسٹ بن میں جائے گا۔ جب ایک صفحہ شروع ہی اس غرض سے کیا گیا ہے کہ اُس میں جریدے کے مندرجات سے متعلق آراء، تبصرے شامل ہوں گے، تو پھر فضول گوئی کا کیا مطلب۔ آپ الٹے لٹک کے احتجاج کرلیں، صفحے کا فارمیٹ تو کسی صُورت تبدیل نہیں ہوسکتا کہ ہمیں اپنے تیار کردہ میگزین سے متعلق قارئین کی آراء سے تو کوئی دل چسپی ہو سکتی ہے، لوگوں کی رام کہانیوں، مَیں ناموں اور ناکام خواہشوں سےکیا لینا دینا۔ رہی آپ کی عُمر، تو اس حوالے سے اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ ہماری 4سالہ بھانجی آپ سے کہیں زیادہ دانش مندانہ باتیں کرتی ہے۔

اچھی رائے قائم نہیں کی

مورخہ 18اپریل کے سنڈے میگزین میں میرا مضمون ’’بلند فشارِ خون اور کووڈ 19 ‘‘شایع ہوا۔ اس کے لیے شکریہ، لیکن میرا نام ڈاکٹر ایم صابر سکندری کے بجائے ’’ڈاکٹر ایم صابری سکندری‘‘ شایع ہوا، جو یقیناً کمپوزر کی غلطی ہے، مگر اتنے بڑے اشاعتی ادارے میں ایسی غلطیاں ہونی نہیں چاہئیں۔ میرے بہت سے پڑھنے والوں نے اس غلطی کو نوٹ کیا اور اچھی رائے قائم نہیں کی۔ آپ ایڈیٹر ہونے کے ناتے ہر تحریر کا بغور مطالعہ کیا کریں اور بذاتِ خود غلطی کرنے والے کو سرزنش کریں کہ آئندہ ایسی غلطی نہ دہرائی جائے۔ دوسری بات یہ کہ مضمون کا ابتدائیہ کووڈ کی علامات اور پیچیدگیوں سے متعاق تھا، جو یک سر ایڈٹ کردیا گیا۔ ایڈیٹنگ، آپ لوگوں کا حق ہے، لیکن جو سطریں قارئین کے لیے دل چسپی اور معلومات کا سبب ہوں، انہیں براہِ کرم تلف نہ کیا کریں۔ اُمید ہے یہ چند الفاظ آپ کی طبیعت پرگراں نہیں گزریں گے،بلکہ آپ کی رہنمائی کریں گے۔ (ڈاکٹر ایم صابر سکندری، حیدر آباد)

ج: ماشاء اللہ!یہ فیصلہ بھی آپ نے خود ہی کرلیا کہ طبیعت پہ کیا گراں گزرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ برسوں سے آپ کا درست نام و پتا شایع ہورہا ہے، اُس پر شاباشی تو دُور، کبھی آپ نے مسّرت کا اظہار بھی نہیں کیا۔ ایک بار نام میں سہواً ’’ی‘‘ کی اضافت کیا لگ گئی، ہماری ایڈیٹر شپ ہی مشکوک ٹھہری۔ حالاں کہ ہم پورے وثوق سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ اِس وقت مُلک بھر سے شایع ہونے والے اردو کےتمام تر اخبارات و جرائد (بشمول جنگ اخبار کےدیگر صفحات) کی نسبت ’’سنڈے میگزین‘‘ میں کم سے کم اغلاط دیکھی جاتی ہیں کہ اس کے لیے ہم بذاتِ خود، اِک اِک تحریر کو 4,4 بار پڑھنے کاجوکھم اٹھاتے ہیں۔ مگر غلطی پھر بھی ہو سکتی ہے کہ بہرحال ہم انسان ہیں، فرشتہ نہیں۔ رہی بات ایڈیٹنگ کی، تو آپ تو صرف اپنا مضمون پڑھتےہیں، ہماری سنڈے میگزین میں شایع ہونے والے ہر اِک مضمون ہی نہیں، اِک اِک سطر پر نگاہ رہتی ہے، جومعلومات ہم پہلے ہی کسی مضمون کے ذریعے قارئین کو فراہم کرچُکے ہوتے ہیں، وہ محض کسی دوسرے کی خوشنودی کے لیے زبردستی اُن کے دماغوں میں نہیں انڈیل سکتے۔ لگ بھگ دو سال سے کورونا، کورونا کا رونا پڑا ہوا ہے۔ ہم اِس موضوع پر بیسیوں مضامین، انٹرویوز شایع کرچُکے، نتیجتاًبچّے بچّےکو کورونا کی علامات، پیچیدگیاں رٹ چُکی ہیں۔ سو، مضمون میں جو معلومات نئی تھیں، وہ شایع کردی گئیں۔ اب ہمیں اُمید ہے، ہمارے الفاظ آپ کی طبیعت پر گراں نہیں گزرے ہوں گے اور آپ کی خاصی تسلّی بخش رہنمائی بھی ہوگئی ہوگی۔

یہ ہمارے لیجنڈز ہیں

’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمود میاں کی مساعئ جمیلہ و مبارکہ یقیناً قابلِ قدر اور لائقِ صد تحسین ہے۔ کیوں کہ کم اَز کم میں تو اب تک ایسی یگانہ و یکتا شخصیات کی حیاتِ طیبّہ و طاہرہ اور کارہائے گل فشاں سے قطعاً ناآشنا تھا(تہانوں بوہت بوہت وَدھایاں‘ محمود میاں جی)۔ اس سلسلے سے اکثر قارئین کےقلبِ مطمئنہ اورذہنِ تابندہ کو بھی کشید ملتی ہوگی۔ شفق رفیع نے تعلیمی اداروں میں آئے روز وقوع پذیر ہونے والی خرافات کا بھرپور احاطہ کرتے ہوئے تفصیلی رُوداد پیش کی۔ مَیں نے اپنے پورے تعلیمی دَور میں کبھی بھی ایسا واقعہ، سانحہ نہ سُنا، نہ دیکھا اور نہ ہی پیش آیا۔ معلوم نہیں، سوشل میڈیا نئی نسل کو کیا بنا رہا ہے؟ اور یہ کیوں ایسی بن رہی ہے؟ عارف الحق عارف کیلیفورنیا بیٹھ کر کیسی کیسی نابغہ شخصیات سے متعلق قارئین کو بیش بہا مواد فراہم کر رہے ہیں، ویل ڈن۔ اس جریدے کا حاصلِ مطالعہ ’’شہدائے گیاری‘‘ سے متعلق مضمون تھا۔ م۔ح سحاب نے انتہائی خُوب صُورتی و عُمدگی سے تجزیہ کیا۔ منور مرزا نے حسبِ معمول ثقیل موضوع قلم بند کیا۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ پر تبصرہ، ’’ہم نے چھوڑ دیا، چھوڑ دیا…‘‘ پہلے میراڈونا اور اب لیری کنگ، کیا یہی ہمارے’’لیجنڈز‘‘ ہیں؟ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ کی دونوں کہانیاں بہترین تھیں۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ تو تھا ہی شان دار، میری کاوش جو شامل تھی۔ ہائیڈ پارک میں محررین، ناظرین و قارئین کو ’’جی آیاں نوں‘‘ کہتے ہوئے سب سے اُوپر اپنا خط اور تمہارا جواب پڑھا۔ مَیں تو ہر طرح سے تسلّی کر کے پھر لفافے کو بند کرتا ہوں۔ نہ جانے دُوسرا صفحہ کہاں غائب ہوگیا۔ چلو، خیر مٹّی پائو! لیکن تمہیں خراجِ تحسین پیش کرنا تو بنتا ہے کہ میرے طرزِ تحریر اور ہینڈرائٹنگ کو پہچان لیا، ممنون ہوں۔ سلیم راجہ کا خط اور جواب۔ اسماء خان دمڑ نے اپنے خط میں لکھا کہ ’’جب بھی وہ فیصل آباد آئے گی، تو میرے کلینک کا لازمی وزٹ کرے گی‘‘ تو بسم اللہ، پخیر راغلے۔مجھے بھی میزبانی کرکے دلی مسّرت ہوگی۔ اب یہ لازم ٹھہرا کہ اُس کا جو بھی ڈینٹل پرابلم ہوگا، تحفتاً اُس کا علاج فِری ہوگا۔ (ڈاکٹر اطہر رانا، طارق اباد، فیصل آباد)

ج: ڈاکٹر صاحب! خدارا آپ تو ایسی باتیں نہ کیا کریں۔ ہم کیا کنویں کے مینڈک ہیں، جو ہمارے لیے اپنی محدود سی دُنیا سےباہرجھانکنا ممنوع ٹھہرا۔ میراڈونا، لیری کنگ بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیات تھیں اور ایسی شخصیات کو دُنیا بھر کا میڈیا خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے اور یہ ہرگز کوئی معیوب بات نہیں، البتہ کسی بڑی شخصیت سے متعلق معلوماتی تحریر کی اشاعت کو اس طرح متعصبانہ نگاہ سے دیکھنا ضرور معیوب بات ہے۔

                                                                   فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

عرض ہے کہ پانچ شمارے جمع ہوگئے، تو سوچا کہ بزم میں شریک ہونا چاہیے۔ بہار کےرنگ لیے، عالمی یوم ِخواتین کا شمارہ سامنے ہے۔ ماضی، حال، مستقبل کی معنویت کے ساتھ سرِورق بلاشبہ سالِ نو کا حسین ترین سرِورق ہے۔ ڈاکٹر سمیحہ راحیل کی پُرمغز، مدلّل تحریر نے ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ کا حق ادا کردیا۔ معاشرے کے بنیادی یونٹ ’’خاندان‘‘ میں استحکام نہیں، تو معاشرہ انتشار ہی کا شکار ہوگا۔ اللہ اور نبی مکرمؐ نے عورت کو جو وقار، عزت اور حقوق عطا فرمائے ہیں، اُن کے بعد کسی جعلی حق کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ہم تو اُنؐ کے اُمّتی ہیں، جن کے طفیل باپ ہماری تکریم میں چادر بچھاتے،بھائی اپنی حفاظت کے حصار میں لے کر نکلتے ہیں۔ شوہر رائے کو مقدّم جانتے ہیں، تو بیٹے نیچی نگاہوں سے بات کرتے ہیں۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ کے تحت شفق رفیع نے خواتین کی قیادت کو ثابت کیا ؎ ’’ہر اِک کردار میں رکھا گیا غم خوار عورت کو…‘‘ اے کاش! کہ وہ لطیفے باز بھی یہ مصرع پڑھ لیں، جن کا کام ہی لطائف کے ذریعے عورت، خاص طور پر بیوی کو تضحیک کا نشانہ بنانا ہوتا ہے اور پھر حضرات ان لطائف کے آئینے میں بیوی کو پرکھنے لگتے ہیں۔ سلمیٰ اعوان کی بھرپور گفتگو نے بہت مزہ دیا۔ گزارش ہے، اگر ممکن ہو تو مشہور شاعر، کالم نگار سعود عثمانی کا انٹرویو بھی پڑھوا دیجیے۔ رائو شاہد اقبال حسبِ معمول کچھ منفرد لیے نظر آئے۔ اگلے شمارے میں ڈاکٹر عبدالرّب بھٹی کا انٹرویو پسند آیا۔ اس بار سنڈے اسپیشل سیاسی جوڑ توڑ سے متعلق تھا، لیکن سُرخیاں زیادہ دل چسپی کا باعث بنیں۔ اگلے شمارے میں ’’زندہ شوہروں کی بیوائیں‘‘ نے فوراً توجّہ مبذول کروالی اور پھر کراچی میں بھی یادگارِ پاکستان کی ضرورت کے مطالبے پر ہم نے بھی اعتماد کا ووٹ ڈال دیا۔ چوتھے شمارے میں ڈاکٹر فرید پنجوانی کا کھرا کھرا انٹرویو لاجواب تھا۔ ٹیچنگ لائسنس والی تجویز اچھی ہے۔ عام زندگی کا مشاہدہ ہے، کچھ نہ بن سکو تو ٹیچر بن جائو۔ پیارا گھر میں افشاں مراد نے آزادیٔ نسواں کی حقیقی تصویر دِکھائی، بہت خُوب۔ اور اب ذکر پانچویں شمارے کا۔ شفق رفیع کا ’’سنڈے اسپیشل‘‘؎ ہر اِک بات پہ رونا آیا… واقعی رونے کا مقام ہے۔ اللہ کے حُکم اور نبیؐ کے طریقے سے بے زار اُمّت، ذِلّت کے گڑھے میں نہ گرے، تو کیا ہو؟ حدیث مبارکہؐ ہے ’’جب تجھ میں حیا نہیں، تو جو چاہے کر۔‘‘ بہار کے جلوے شاہ پوش نے جمع کر دیئے۔ اس بار بھی اُن کے ملبوسات پسند آئے، لیکن حیا کا استعارہ، آنچل پیروں میں گرا اچھا نہیں لگا۔ 27 دسمبر کے شمارے کی ایک جھلک ابھی دیکھی، آپ نے اتنی تعریف کردی، جس کی حق دار نہیں، ذرّہ نوازی کا بہت شکریہ۔ حُسن ظن، حُسنِ نظر ہے، ورنہ اپنی حقیقت ہمیں خود معلوم ہے۔ کہتے ہیں ’’کسی کو نصیحت کرنا آسان ترین کام ہے، مگر کسی کی توقعات پر پورا اُترنا انتہائی مشکل۔‘‘ اس لیے یہی کہہ سکتی ہوں، اپنی سی بھرپور کوشش کرتی رہوں گی۔ (عشرت جہاں، لاہور)

ج: عشرت!انسان کے اختیار میں صرف کوشش ہی کرنا ہے۔ ہاں، مگر کوشش، کوشش میں بھی فرق ہوتا ہے۔ جس کوشش میں نیک نیتّی، محنت و ریاضت اور جوش و جذبہ شامل ہو، وہ کسی بھی سطحی کاوش کی نسبت یقیناً جلد اور بہتر نتیجہ دیتی ہے۔ سو، جدوجہد کا سفر کسی صورت رُکنا نہیں چاہیے۔

گوشہ برقی خُطوط

  • سالِ نو ایڈیشن کے لیے پیغام بھیجا تھا، انتظار کرتے کرتے آنکھیں تھک گئیں، مگر شایع نہیں ہوا، آپ لوگوں پر شدید غصّہ آرہا ہے۔ (صبا مہرین، نیو کراچی، کراچی)

ج: تم نے یقینًا مقررہ تاریخ کے بعد بھیجا ہوگا کہ مقررہ تاریخ کےبعد ملنے والے پیغامات عموماً اشاعتِ اوّل میں شایع نہیں ہو پاتے۔

  • مجھے کچھ معلومات درکار ہیں، اگر مَیں اپنا تحریر کردہ ڈراما یا ناول شایع کروانا چاہتا ہوں، تو کیا مجھے مسوّدے کے ساتھ اپنا مختصر تعارف بھی بھیجنا ہوگا یا اس کی ضرورت نہیں اور یہ کہ میں بنیادی طور پر ڈراما نویس ہوں، تو کیا میگزین میں میرا ڈراما شایع ہوسکتا ہے ؟ (اسد علی)

ج:جی نہیں۔ میگزین میں ڈراما شایع نہیں ہوسکتا، آپ کسی انٹرٹینمنٹ چینل کو بھیج دیں۔ وہاں سے آپ کو معقول معاوضہ بھی مل جائے گا۔

  • بزم میں پہلی بار شرکت کررہا ہوں، مگر عرصہ ٔ دراز سے میگزین کا مستقل قاری ہوں۔ میگزین کا ہر سلسلہ اپنی مثال آپ ہے اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ کا تو کوئی ثانی نہیں۔ مَیں تو ہمیشہ آغاز ہی آخری صفحے سے کرتا ہوں۔ ایک شکایت کرنی تھی کہ 10جنوری کو شایع ہونے والے شمارے میں گزشتہ سال کے ٹی وی پروگرامز اور ڈراموں کا جائزہ لیا گیا، مگر افسوس کہ گزشتہ سال کے سب سے مشہور ڈراما سیریل ’’ارطغرل غازی‘‘ کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔  (حافظ عبدالمنان،سیال کوٹ)

ج:سالِ نو کے موقعے پر جو تجزیئے، تبصرے شایع کیے جاتے ہیں، وہ عموماً مُلکی حالات و واقعات کے اردگرد ہی گھومتے ہیں۔ ’’ٹی وی اسکرین‘‘ میں بھی مکمل طور پر ملکی پروگرامز اور ڈراموں ہی کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔ ’’ارطغرل غازی‘‘ بلاشبہ مقبول ڈراما سیریل ہےاور پی ٹی وی سے بھی نشر ہوا، تو اس کا تذکرہ بھی کیا جا سکتا تھا، چلیں، پھر کبھی سہی۔

  • آج کے دَور میں جنگ، سنڈے میگزین کسی نعمت سے کم نہیں۔ (محمّد اویس، مستونگ)

ج:بھئی واہ…

قارئینِ کرام!

ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk