• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ظفر گورکھ پوری

دادا حیات تھے جب

مٹی کا ایک گھر تھا

چوروں کا کوئی کھٹکا

نہ ڈاکوؤں کا ڈر تھا

کھاتے تھے روکھی سوکھی

سوتے تھے نیند گہری

شامیں ہری بھری تھیں

آباد تھی دوپہری

سنتوش تھا دلوں کو

ماتھوں پہ بل نہیں تھا

دل میں کپٹ نہیں تھی

آنکھوں میں چھل نہیں تھا

تھے لوگ بھولے بھالے

لیکن تھے پیار والے

ابا کا وقت آیا

تعلیم گھر میں آئی

تعلیم اپنے ساتھ

اک انقلاب لائی

’’اونچا‘‘ روایتوں سے

اٹھنے کا دھیان آیا

مٹی کا گھر ہٹا تو

پکا مکان آیا

دفتر کی نوکری تھی

تنخواہ کا تھا سہارا

مالک پہ تھا بھروسہ

ہوجاتا تھا گزارا

پیسہ اگرچہ کم تھا

پھر بھی نہ کوئی غم تھا

اب ہے مرا زمانہ

ہر بات ہے نرالی

گھر تو بھرا پڑا ہے

پر زندگی ہے خالی

اک بھاگ دوڑ ہر دم

جیون کا حال ایسا

اپنی خیر نہیں ہے

مایا کا جال ایسا

پیسہ ہے، مرتبہ ہے

جاہ و وقار بھی ہے

نوکر ہیں اور چاکر

بنگلہ ہے ، کار بھی ہے

زر پاس ہے، زمیں ہے

لیکن سکون نہیں ہے