• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رافعہ قیصر

ایک تھے گڈو میاں، بڑے ہی نٹ کھٹ، شریر اور باتونی، محلے کےسبھی لوگ ان سے پیار کرتے تھے۔ وہ سب کے راج دلارے تھے، جو بھی انہیں دیکھتا بے اختیار چاہنے لگتا، شرارتی ہونے کے باوجود گڈو میاں میں بدتمیزی نام کو نہ تھی۔ وہ ہمیشہ صاف ستھرے کپڑے پہنتے، اپنی چیزوں کو سلیقے سے رکھتے، بڑوں کا احترام کرتے اور اپنے دوستوں سے خوب محبت کرتے، انہیں اپنے کھلونے دیتے، ان سے اچھی اچھی باتیں کرتے، اب بھلا ان کا دوست بننا کون پسند نہیں کرے گا؟ لیکن گڈو میاں کا سب سے عزیز دوست تھا آم کا درخت۔ یہ درخت ان کے آنگن میں تھا گھر کے سبھی لوگ اسے دادا جان کی نشانی سمجھتے تھے۔ گڈو میاں کو اپنے اس دوست پر بڑا ناز تھا۔ 

جب بھی انہیں گرمی محسوس ہوتی وہ اپنے دوست سے کہتے اور انہیں تازہ ہوا مل جاتی، جب کبھی آم کا موسم آتا گڈو میاں اپنے دوست سے خوب آم کھاتے بلکہ اپنے دوسرے بہن بھائیوں کو بھی کھلاتے اور دوستوں کی بھی دعوت کرتے ۔ آم کا یہ درخت بھی گڈو میاں کو بہت چاہتا تھا۔ وہ ان سے مزے مزے کی باتیں کرتا، کوئل اور پپیہے کی کہانیاں سناتا، ٹھنڈی چھاؤں دیتا، گڈو میاں سارا دن اسی کے ساتھ کھیلتے رہتے۔ کبھی اس کی گود میں بیٹھ جاتے۔ کبھی اس کی شاخوں پر جھولا جھولتے، کبھی اس کی چھاؤں میں بیٹھ کر طوطا مینا کی بولیاں سنتے۔ بس سارا دن وہ ہوتے اور ان کا دوست آدم کا درخت ہوتا۔

ایک روز خوب تیز ہوائیں چلنے لگیں، کالے کالے بادل آسمان پر چھانے لگے۔ پھر یہ بادل آپس میں خراب بچوں کی طرح زور زور سے لڑنے لگے۔ بجلیاں چمکنے لگیں، ہواؤں نے ڈرپوک بچوں کی طرح چیخنا چلانا شروع کردیا اور دھواں دھار بارش ہونے لگی۔ گڈو میاں اپنے کمرے میں دبکے بیٹھے تھے۔ ان کا دل بار بار چاہ رہا تھا کہ کسی طرح اپنے دوست آدم کے درخت کو اپنے کمرے میں بلالیں، اور اسے گرم گرم چائے پلائیں۔ بے چارہ اکیلا پانی میں بھیگ رہا تھا۔ اسے کتنی سردی لگ رہی ہوگی؟ انہوں نے اپنے دوست کو کئی آوازیں دیں، لیکن شدید طوفان کے باعث ان کی آواز کمرے سے باہر پہنچی ہی نہیں۔

طوفان بڑھتا ہی جارہا تھا۔ بجلیاں زور زور سے کڑکنے لگیں۔ پھر ایک زور دار دھماکہ ہوا اور آم کا درخت طوفان کی تاب نہ لاکر دھڑام سے نیچے گر پڑا۔ اس کی چیخ سے سارا محلہ گونج اٹھا۔ گڈو میاں نے بھی اس کے گرنے کی آواز سنی۔ وہ تڑپ اٹھے، اور خود بھی زور زور سے رونے لگے۔ آخر اللہ اللہ کر کے طوفان تھما۔ گڈو میاں دوڑتے ہوئے اپنے دوست کے پاس پہنچے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ آم کا درخت پورے آنگن میں ڈھیر ہوگیا ہے۔ اور اس کی شاخیں تکلیف سے کراہ رہی ہیں۔ 

وہ اپنے دوست کی تکلیف برداشت نہ کر سکے، اور خود بھی رونے لگے۔ اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سےکبھی اسے سہلاتے کبھی اسے اٹھانے کی کوشش کرتے اور کبھی ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے گھورنے لگتے۔ آم کے درخت نے جب اپنے اس ننھے دوست کا خلوص دیکھا تو اپنا درد بھول گیا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔گڈو میاں اسے سمجھانے لگے۔ ’’دوست تم گھبرانا نہیں۔۔۔ اب میں تمہارے پاس آگیا ہوں، سب ٹھیک ہوجائے گا!‘‘ 

آم کے درخت نے بڑے پیار سے گڈو میاں کی طرف دیکھا ان کی معصوم باتوں کو سنا، اور پھر بولا، ’’دوست میں تو جڑ ہی سے ٹوٹ گیا ہوں۔ تم میری فکر نہ کرو۔۔۔ اب میرا علاج ناممکن ہے!‘‘ گڈو میاں بولے، ’’دوست تم ایسی باتیں نہ کرو۔ میں تمہارا علاج کراؤں گا۔ اپنے ابا جان سے کہہ کر ڈاکٹر کو بلواؤں گا۔ تم بہت جلد اچھے ہوجاؤگے۔ پھر ہم دونوں خوب مزے کریں گے!‘‘

درخت نے کہا، ’’گڈو میاں! اب میرا علاج کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں ہے۔ میں تو جڑ ہی سے ٹوٹ گیا ہوں نا۔۔۔!‘‘ یہ سن کر گڈو میاں رونے لگے۔ درخت نے اپنی زخمی ٹہنیوں سے ان کے آنسو پوچھے اور پھر کہنا شروع کیا، ’’دیکھو دوست تم رونا نہیں۔۔۔ تم تو جانتے ہو مجھے تمہارے دادا جان نے لگوایا تھا۔ اب تمہارے دادا جان تو رہے نہیں، لیکن تم ہو، آج تم چھوٹے ہو، کل بڑے ہوجاؤگے۔ اور پھر ایک روز تم بھی کسی کے دادا جان بنو گے۔ 

تمہارا بھی ایک ننھا منا پیارا پیارا پوتا ہوگا اور جب وہ بھی تمہاری طرح آنگن میں کھیلنے آئے گا اور اپنے آنگن کو اس قدر سونا سونا دیکھے گا تو کیا وہ اداس نہیں ہوجائے گا؟ تم ہی سوچو! وہ کس کے ساتھ کھیلے گا؟ کون اسے گرمی سے بچائے گا؟ کون اسے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں دے گا؟ میٹھے میٹھے آم کھلائے گا؟ وہ کہاں جھولا جھولے گا؟ 

گڈو میاں۔۔۔ تم میرا علاج کروانا چاہتے ہو نا؟ اب میری باتیں غور سے سنو۔۔۔!‘‘ گڈو میاں بولے، ’’دوست میں سن رہا ہوں۔ تم بولتے جاؤ۔۔۔!‘‘آم کے درخت نے محبت بھری نظروں سے ان کی طرف دیکھا اور پھر دوبارہ کہنا شروع کیا، ’’دوست تم آج ہی میری ایک گٹھلی اپنے دادا جان کی طرح زمین میں بودو۔۔۔ اسے روز پانی دیتے رہو، میں پھر ایک بار آہستہ آہستہ تمہارے آنگن میں بڑھنے لگوں گا۔ اور پھر ایک روز ایسا آئے گا کہ میں حوب بڑا ہوجاؤں گا۔ اور پھر ساری بہاریں تمہارے آنگن میں آجائیں گی!‘‘ اتنا کہہ کر درخت خاموش ہوگیا۔ گڈو میاں فوراً اپنی جگہ سے اٹھے آم کی ایک گٹھلی لی، اور اسے بودیا۔ اور پھر بے چینی سے اپنے دوست کی آمد کا انتظار کرنے لگے۔