• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجٹ میں عام آدمی کو کوئی ریلیف کیوں نہیں دیا گیا؟ سید ناصر حسین شاہ کا سوال

وزیراطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے سوال اُٹھایا ہے کہ بجٹ میں عام آدمی کو کوئی ریلیف کیوں نہیں دیا گیا جبکہ بجٹ سے لگتا ہے کہ الیکشن کے سال کا بجٹ ہے۔

کراچی میں سید ناصر حسین شاہ نے سعید غنی کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات سندھ نے کہا کہ جو اعداد و شمار بتائے گئے وہ ان میں مطابقت نہیں، مزید آئی ایم ایف کا بجٹ آ جائے گا۔

سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ تنخواہوں اور پینشن میں صرف 10 فیصد اضافہ کیا، وفاقی حکومت جھوٹے دعوے کر رہی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ سندھ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، حکمران سندھ کی کاٹ مت کریں، سندھ کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔

سید ناصر حسین شاہ نے یہ بھی کہا کہ پی ایس ڈی پی میں سندھ کے منصوبوں کو نظر انداز کیا گیا، وفاقی حکومت سندھ میں ایک کمپنی کے ذریعے کام کرا رہی ہے۔

دوسری جانب وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ ایف آئی اے نےکہا ہمیں جہانگیر ترین کی گرفتاری کی ضرورت نہیں ہے، یہ کارروائیاں صرف سیاسی مخالفین کے خلاف ہو رہی ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ مردم شماری کے معاملے پر ایم کیو ایم نے سندھ کے لوگوں کو دھوکا دیا ہے جبکہ ہم نے مردم شماری کے معاملے پر شدید احتجاج کیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ حکمران ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے سندھ کی معیشت کو نقصان ہو، وفاق کے رویے کی وجہ سے وفاق اور سندھ میں دوری پیدا ہوتی ہے۔

وزیر تعلیم سندھ نے سوال کیا کہ گندم کے بحران پر بنائے گئے کمیشن کی رپورٹ پر کارروائی ہوئی؟  نہیں ہوگی کیونکہ ان کے سارے اے ٹی ایمزاس میں ملوث ہیں۔

سعید غنی نے مزید کہا کہ علی ظفر کی رپورٹ تماشہ ہے، یہ ان کے عہدیدار ہیں، پیٹرول بڑھانے پر بھی ہونے والی تحقیقات کہاں گئیں۔

قومی خبریں سے مزید