• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حرف بہ حرف … رخسانہ رخشی، لندن
جون کا مہینہ اپنےجلو میں بے شمار خاص دن لے کر جلوہ افروز ہوتا ہے اسی مہینے میں بہت ہی خاص عالمی دن منائے جاتے ہیں۔ اہل یورپ کیلئے تو یہ مہینہ عید کی طرح ہوتا ہےجون ہی میں اہل یورپ کےچہروں پرخوشی دیدنی ہوتی ہے۔ کھلے کھلے چہرے، سیرسپاٹے، پکنک، دریاوسمندروں کے ساحل پر غل غپاڑے، شادیاں، منگنیاں اور محبتیں اسی مہینے میں پروان چڑھتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ مئی، جون، جولائی اور اگست کے چاروں مہینوں میں سے جون وہ مہینہ ہے کہ موسم گرما کاجوبن جس سے شروع ہوتا ہے۔ یکم جون سے لے کر 30جون تک اہل یورپ وامریکہ کیلئے خوشیاں ہی خوشیاں ہیں۔جون کے مہینے کے کچھ خاص دن نہیں بلکہ پورے مہینے کےدن ہی خاص ہیں ۔یکم جون کو ایک خاص دن منایا جاتا ہےجسے یورپ والے ڈیٹ والوں کا دن کہتے ہیں اسی مہینے کا نام جون رومی جونو کے نام پر رکھا گیاہے جس کی اہمیت میئر ہیرو اور ہیروئن جیسی ہے۔ ایک نظریئے کے مطابق جون کا لاطینی مطلب ’’کم عمر‘‘ ہے۔4جون کو پنیر کا دن منایا جاتا ہے۔ پھر 7جون چاکلیٹ آئس کریم کا دن ہے گرمیوں کے آغاز میں دھوپ میں مزے سے آئس کریم سے لطف اندوز ہوا جائے اسی موسم میں آئس کریم اور دوسرے مشروبات سے لطف دوبالا کیا جا سکتا ہے۔8جون کو دوستو کا دن ہوتا ہے آج کے دن اچھے دوستوں کے ساتھ گزاریں چاہے وہ دوست آپ کےجانور ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کے ساتھ گرم مہینےکے وقت ٹھنڈے لمحات گزاریں۔ ویسے تو اور بھی بہت سے دن جون میں منائےجاتے ہیں۔ انہی میں ایک دن سلائی مشین کا دن بھی ہے جو تیرہ جون کوہوتا ہے۔ سلائی مشین کی پہلی کوشش 1755میں کی گئی۔ سلائی مشین کا پہلا استعمال بنیادی طور پر جہازوں کے کینوس اور پردے لینے سے کیا گیا۔ پھر 1842میں وہ مشین وجود میں آئی جس سے ہم آج واقف ہیں۔ ابھی جون میں منائےجانے والے باقی کے دن بھی ہیں مگر اس مرتبہ 5جون کو جب ماحولیات کا عالمی دن منایا جا رہا تھا تو ہمارے یہاں ایک بڑا حادثہ رونما ہو گیا ایسا حادثہ کہ جس پر جتنا بھی غم کیا جائے کم ہے یوں تو پاکستان کی تاریخ ایسے حادثات سے بھری پڑی ہےکہ ناکردہ گناہوں کی سزا عام آدمی اور غریب آدمی کوملی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس مرتبہ ہمارا جون اسکینڈلز سے شروع ہوا اورپھر ایک اندوہناک سانحہ پر ختم تو نہیں ہوا کہ ابھی نصف جون ہی گزرا ہے۔ اللہ کرم کرے کہ باقی کا جون ہمارے لئے بھی پنیر سے لیکر چاکلیٹ، آئس کریم کھانے والا ہو۔ جب ہمارے ٹرین کا یہاں حادثہ ہوا تو ہمارے وزیراعظم صاحب ماحولیات کے عالمی دن کی مناسبت سے گفتگو میں مصروف تھے وہ فرما رہے تھے کہ راولپنڈی کے پروگرام ترتیب دینے کیلئے درخواستیں وصولی کیلئے موبائل یونٹ کا اہتمام کیا جائے گا گھروں کی اسکیم اگر زورشور سے شروع ہونے جا رہی ہے تودوسرے اداروں کی طرف بھی دھیان دینا بہت ضروری ہے۔ جون کے پہلے ہفتے میں ہوئے ڈھرکی کے المناک حادثے نے ہر زی روح کو لرزا دیامگر اس سے بھی تکلیف دہ بات یہ ہوئی کہ حادثے کو بھول کر آپسی تکرار شروع ہو گئی۔ اپوزیشن اور پوزیشن والے روایتی سیاسی لڑائی کے ساتھ ایک دوسرے پر الزام اور ذمہ داری کس کی ہے، کس کی نہیں ہے۔ حادثہ اگر آج ہوا ہے تو ذمہ داری بھی آج والوںکی بنتی ہے کہ وہ ریلوے ٹریک کی بوسیدہ حالت پر توجہ فر ما کر کچھ بہتر صورتحال تو پیدا کریں کوئی جامع منصوبہ بندی تو کی جائے کہ آنے والے وقتوں میں یہ کارنامہ یاد رکھاجائے۔ چھوٹے سے لیکر بڑے بڑے وزرا تک حادثے کوبھول کر جون کی بھری گرمی میں ٹرین حادثے میں شہدا اور زخمیوں کی حالت کا اندازہ کئے بغیر اپنی ہی سیاسی گولہ باری میں مصروف رہے۔ شدید گرمی اور اس پر ٹرین میں پھنسے لوگ! اف کبھی کسی کو احساس بھی ہو کہ ورکنگ کلاس سے لیکر مزدور طبقات کے لوگ ہی ٹرین کا سفر کرتے ہیں زیادہ تر، اگر یہی لوگ ٹرین میں سفر کے دوران حادثات کا شکار ہوتے رہے تو یہ ملک کا بھی نقصان ہے انسانی جانوں کا تو ہے ہی کہ کوئی اپنے گھر والوں کیلئے کتنا اہم ہوتا ہے یہ لڑاتی کرتے پوزیشن اور اپوزیشن کے وزراء کو کیا معلوم۔جون کا جوبن ہمارے گرم ممالک کیلئے تو کوئی رنگین یا گلاب جیسا نہیں پھر اگر یہاں جان لیوا حادثے بھی آئے روز ہوں تو یہ قیامت سے کم نہیں۔چند برسوں میں ہمارے یہاں ہزاروں حادثات صرف ریلوے میں ہوئےدوسرے تمامتر عام حادثات کی نسبت وہ حادثہ بھی اندوہناک قسم کا سبھی کو یاد ہو گا کہ جب 74افراد جل کر راکھ بن گئے تھے وہ حادثہ نہایت ہی دل دہلا دینے والا واقعہ تھا اور ان دنوں بھی حادثے کی پرواہ کئے بغیر یونہی بلیم گیم کھیلی گئی تھی۔ ان دنوں شیخ رشید ریلوے کے وزیر تھے جن کی گفتگو بھی فردوس عاشق ایوان کی طرح دلچسپ ہوتی ہے انہوں نے بھی تب کہہ دیا تھا کہ ریلوے ٹریک پرانے ہیں، پھاٹک بھی خراب ہیں۔ کبھی پھاٹک کے گارڈ اور ڈرائیوں کو غیر ذمہ دار قرار دیدیا۔حادثات بھی قتل کے مترادف ہوتے ہیں جو ہمارے ملک کے کرتا دھرتا عام عوام کا کرتے رہتے ہیں۔ وجہ چاہے ٹرین کا حادثہ ہو جہازوں میں فنی خرابی ہو، ٹریفک کے حادثات ہوں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں غریب عوام کو گرمی میں مارنا ہو۔ مہنگائی کی چابک دستیاں عوام پر چلا کر انہیں مارنا ہو اور یا پھر بجلی نہ ہونے کے باوجود بڑے بڑے بلز بھیج کر ان پر بجلیاں گرانا ہو تو یہ ہر دور میں عوام کا مقدر ہے کہ انہیں یونہی مر مر کر جینا ہو گا۔
یورپ سے سے مزید