• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریکِ عدم اعتماد لانا اپوزیشن کا حق ہے، اسپیکر قومی اسمبلی


اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا ہے کہ میرے اور ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانا اپوزیشن کا حق ہے، مجھے کوئی وزیر فوٹیج میں ہلڑ بازی کرتا نظر نہیں آیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں رونما ہونے والے واقعات قابلِ افسوس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ واقعات جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں، کوشش ہے کہ قواعد کے مطابق اجلاس چلے، اختلافِ رائے کا حق ہر ایک کو حاصل ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کو میز پر بٹھانے کے لیے کوشاں ہوں، فریقین پارلیمنٹ کے تقدس کا خیال رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں بہتری اور خرابی کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے، ارکان کے خلاف جو کارروائی کی اس پر بھی اعتراض کیا گیا۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کا پریس کانفرنس میں کہنا ہے کہ میرے پاس صرف اخلاقی طاقت ہے، کسی کو اٹھا کر پھینکنے کا اختیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میری ذمے داری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کو ایوان میں برابر کا موقع دوں، ایوان میں حکومت اور اپوزیشن سب کو بولنے کا موقع دیتا بھی ہوں۔

اسد قیصر کا کہنا ہے کہ میں نے ان چیزوں پر ایکشن لیا جب میں خود اجلاس چلا رہا تھا، کل میں نے وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کی، جس کے بعد میں نے شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سے بھی بات کی۔

ان کا کہنا ہے کہ میں اس وقت بھی اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے میں ہوں، میں چاہتا ہوں کہ سب لوگ مل کر رولز کے ساتھ ایوان کو چلائیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ میرا استعفیٰ اپوزیشن کی خواہش ہے، جبکہ ایوان نے مجھے ہاؤس چلانے کا مینڈیٹ دیا ہے، میں اپنے مینڈیٹ کے مطابق اپنا کام کرتا رہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو زیادہ سے زیادہ ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے، جو کچھ ایوان میں ہوا جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں ہے۔

اسد قیصر کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن سے کہتا ہوں کہ شائستگی سے بات کریں، ارکانِ قومی اسمبلی پارلیمنٹ کا تقدس پامال نہ کریں۔

اس موقع پر ایک صحافی نے اسپیکر اسد قیصر سے سوال کیا کہ آپ نے وزراء کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا؟

اسد قیصر نے جواب دیا کہ جو لوگ مجھے فوٹیج میں نظر آئے ان کے خلاف ایکشن لیا، مجھے کوئی وزیر فوٹیج میں ہلڑ بازی کرتا نظر نہیں آیا۔

قومی خبریں سے مزید